أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ قَالُوۡا يٰۤاَيُّهَا الَّذِىۡ نُزِّلَ عَلَيۡهِ الذِّكۡرُ اِنَّكَ لَمَجۡنُوۡنٌؕ‏ ۞

ترجمہ:

اور انہوں نے کہا اے وہ شخص جس پر نصیحت نا زل کی گئ ہے، بیشک تو ضرور دیوانہ ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور انہوں نے کہا اے وہ شخص جس پر نصیحت نازل کی گئی ہے بیشک تو ضرور دیوانہ ہے۔ اگر تم سچے ہو تو تمہارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لاتے۔ ہم فرشتوں کو صرف حق کے ساتھ نازل کرتے ہیں اور اس وقت (جب وہ نازل ہوں گے تو ان کو مہلت نہیں دی جائے گی۔ (الحجر :8 ۔ 6)

کفار کا آپ کو مجنون کہنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔

اس سے پہلے دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے کفار کو زجر وتوبیخ اور تہدید کی تھی اور اس آیت میں ان کے شہبات کر ذکر کر کے ان کے جوابات دیئے ہیں :

مشرکین مکہ آپ کا مذاق اڑاتے ہوئے اور استہزا کرتے ہوئے یہ کہتے تھے کہ تم مجنون اور دیوانے ہو اور اس کی وجہ یہ تھی کہ نزول وحی کے وقت آپ پر جو کیفیت طاری ہوتی تھی وہ غشی کے مشابہ ہوتی تھی اور یا وہ اس وجہ سے آپ کو مجنون کہتے تھے کہ ان کے نزدیک یہ بہت بعید تھا کہ ان کی طرح پیدا ہونے والے انہی کی قوم کا ایک فرد ہوجا کھاتا پیتا بھی ہو شادی شدہ بھی ہو اس کے بچے بھی ہوں اور وہ اللہ کا رسول برحق ہو اور اس پر اللہ کا کلام نازل ہو اور یا آپ کو اس وجہ سے وہ کہتے تھے کہ آپ اس دعوی نبوت سے دست برادار ہونے کے لے مال ودلت اور عرب کی سرداری کی پیش کش کی گئی۔ عرب کی سب سے حسین لڑکی شادی کی پیش کش کی گئی لیکن آپ نے مال و دولت اور منصب اور اقتدار کو ٹھکرا دیا اور سختیاں اور مصیبتیں برداشت کیں اور دعوی نبوت سے دست برادر نہیں ہوئے اور عیش ونشاط کو چھوڑ کر مصیبتوں کو اختیار کرنا ان کے نزدیک محض دیوانگی تھی اس لیے انہوں نے آپ سے بطور استہزاء کہا : اے وہ شخص جس پر نصیحت نازل کی گئی ہے تو دیوانہ ہے۔ اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں فرعون نے بھی آپ کو مجنون کہا تھا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

قَالَ إِنَّ رَسُولَكُمُ الَّذِي أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ لَمَجْنُونٌ (الشعراء :27) فر عون نے) کہا بیشک تمہارا یہ رسول جس کو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے وہ ضرور دیوانہ ہے۔

اسی طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے ان کو مجنون کہا : كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُوا عَبْدَنَا وَقَالُوا مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ (القمر :9) ان سے پہلے نوح کی قوم نے ان کو جھٹلا یا اور کہا یہ دیوانہ ہے اور ان کو دھمکیاں دیں۔

بلکہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے جس قدر رسول آئے سب کو ان کی قوموں نے دیوانہ یا جادوگر کہا۔ كَذَلِكَ مَا أَتَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلا قَالُوا سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ الذاریات : ٥٢) اسی طرح ان سے پہلے لوگوں کے پاس جب بھی کوئی رسول آیا تو انہوں نے کہا یہ جادو گر ہے یا دیوانہ ہے۔

اس شعبہ کا جواب بالکل بدیہی ہے کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) نے جو حکمیانہ کلام پیش کی وہ کسی عام ہوش مند انسان سے متصور نہیں ہے چہ جا ئیکا مجنون سے۔

آپ کی تائید کے لیے کوئی فرشتہ کیوں نازل نہیں کیا

کفار کا دوسرا شبہ یہ تھا کہ اگر آپ اللہ کے برحق رسول ہیں تو آپ کے ساتھ اللہ کا کوئی فرشتہ آنا چاہیے تھا جو ہم کو بتاتا کہ واقعی آپ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ محض آپ کا اپنے متعلق یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ہوسکتا ہے آپ کی بات صحیح ہو اور ہوسکتا ہے کہ آپ کی بات صحیح نہ ہو لیکن جب فرشتہ آکر یہ کہے گا کہ آپ اللہ کے برحق رسول ہیں تو بات بالکل صاف ہوجائے گی اور کوئی شک وشبہ نہیں رہے گا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اگر فرشتہ اپنی اصل صورت میں ان کے پاس تصدیق کے لیے آتا تو وہ اس کو نہ دیکھ سکتے تھے اور نہ اس کا کلام سن سکتے تھے اور اگر وہ فرشتہ انسانی پیکر میں آتا تو ان کو پھر یہ شبہ پڑجاتا۔ وہ کہتے یہ تو ہماری طرح انسان ہے یہ فرشتہ کیسے ہوسکتا ہے ! جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

وَلَوْ جَعَلْنَاهُ مَلَكًا لَجَعَلْنَاهُ رَجُلا وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِمْ مَا يَلْبِسُونَ ( الانعام : ٩) اور اگر ہم رسول کو فرشتہ بناتے تو اسے (صورتا) مردہی بناتے اور ان پر ( پھر) وہی شبہ ڈال دیتے جو شبہ وہ اب کررہے ہیں۔

باقی رہا ان کا یہ کہنا کہ پھر آپ کی نبوت میں شک اور شبہ نہ رہتا تو ہو کج بحث، ضدی اور ہٹ دھرمی لوگ تھے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے متعدد معجزات دکھائے جب کے بعد آپ کی نبوت میں شک اور شبہ نہیں رہنا چاہیے تھا لیکن ہر معجزہ دیکھنے کے بعد انہوں نے یہی کہا کہ یہ کھلا جادو ہے سب سے بڑا معجزہ خود قرآن کریم ہے لیکن منکرین اس کی نظیر لانے سے عاجز رہنے کے باوجود اس کے کلام الہی ہونے پر ایمان نہیں لائے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم فرشتوں کو حق کے ساتھ نازل کرتے ہیں اور اس وقت ( جب وہ نازل ہوں گے) تو ان کو مہلت نہیں دی جائے گی اس کے مفسرین نے دو معنی بیان کیے ہیں ایک یہ کہ جب فرشتے ان کی روح قبض کرنے آئیں گے تو ان کو مہلت نہیں دی جائے گی اور دوسرا جواب یہ ہے کہ جب فرشتے ان پر عذاب لے کر آئیں گے تو ان کو مہلت نہیں دی جائے گی لیکن اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں یہ مقرر ہوچکا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت پر ایسا عذاب نہیں آئے گا پوری قوم نیست و نابود کردی جائے گی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 6