وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَىٕسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ(۳۶)

اور نوح کو وحی ہوئی کہ تمہاری قوم سے مسلمان نہ ہوں گے مگر جتنے ایمان لاچکے تو غم نہ کھا اس پر جو وہ کرتے ہیں (ف۷۶)

(ف76)

یعنی کُفر اور آپ کی تکذیب اور آپ کی ایذا کیونکہ اب آپ کے اَعداء سے انتقام لینے کا وقت آ گیا ۔

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْاۚ-اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ(۳۷)

اور کشتی بنا ہمارے سامنے (ف۷۷) اور ہمارے حکم سے اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے بات نہ کرنا (ف۷۸) وہ ضرور ڈوبائے جائیں گے (ف۷۹)

(ف77)

ہماری حفاظت میں ہماری تعلیم سے ۔

(ف78)

یعنی ان کی شفاعت اور دفعِ عذاب کی دعا نہ کرنا کیونکہ ان کا غرق مقدر ہو چکا ہے ۔

(ف79)

حدیث شریف میں ہے کہ حضرت نوح علیہ الصلٰوۃ و السلام نے بحکمِ الٰہی سال کے درخت بوئے ، بیس سال میں یہ درخت تیار ہوئے ، اس عرصہ میں مطلقاً کوئی بچہ پیدا نہ ہوا ، اس سے پہلے جو بچّے پیدا ہو چکے تھے وہ بالغ ہوگئے اور انہوں نے بھی حضرت نوح علیہ الصلٰوۃ و السلام کی دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا اور نوح علیہ الصلٰوۃ و السلام کشتی بنانے میں مشغول ہوئے ۔

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ- وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُؕ-قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ(۳۸)

اور نوح کشتی بناتا ہے اور جب اس کی قوم کے سردار اس پر گزرتے اس پر ہنستے (ف۸۰) بولا اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ایک وقت ہم تم پر ہنسیں گے (ف۸۱) جیسا تم ہنستے ہو (ف۸۲)

(ف80)

اور کہتے اے نوح کیا کرتے ہو ، آپ فرماتے ایسا مکان بناتا ہوں جو پانی پر چلے یہ سن کر ہنستے کیونکہ آپ کشتی جنگل میں بناتے تھے جہاں دور دور تک پانی نہ تھا اور وہ لوگ تَمسخُر سے یہ بھی کہتے تھے کہ پہلے تو آپ نبی تھے اب بڑھئی ہوگئے ۔

(ف81)

تمہیں ہلاک ہوتا دیکھ کر ۔

(ف82)

کشتی دیکھ کر ۔ مروی ہے کہ یہ کشتی دو سال میں تیار ہوئی ، اس کی لمبائی تین سو گز ، چوڑائی پچاس گز ، اُونچائی تیس گز تھی (اس میں اور بھی اقوال ہیں) اس کشتی میں تین درجہ بنائے گئے تھے ۔ طبقۂ زیریں میں وحوش اور درندے اور ہَوَامّ اور درمیانی طبقے میں چوپائے وغیرہ اور طبقۂ اعلٰی میں خود حضرت نوح علیہ السلام اور آپ کے ساتھی اور حضرت آدم علیہ السلام کا جسدِ مبارک جو عورتوں اور مردوں کے درمیان حائل تھا اور کھانے وغیرہ کا سامان تھا ، پرندے بھی اوپر ہی کے طبقہ میں تھے ۔ (خازن ومدارک وغیرہ)

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ-مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ(۳۹)

تو اب جان جاؤ گے کس پر آتا ہے وہ عذاب کہ اسے رسوا کرے (ف۸۳) اور اترتا ہے وہ عذاب جو ہمیشہ رہے (ف۸۴)

(ف83)

دنیا میں اور وہ عذابِ غرق ہے ۔

(ف84)

یعنی عذابِ آخرت ۔

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُۙ-قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَؕ-وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ(۴۰)

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آیا (ف۸۵) اور تنور ابلا (ف۸۶) ہم نے فرمایا کشتی میں سوار کرلے ہر جنس میں سے ایک جوڑا نر و مادہ اور جن پر بات پڑچکی ہے (ف۸۷) ان کے سوا اپنے گھر والوں اور باقی مسلمانوں کو اور اس کے ساتھ مسلمان نہ تھے مگر تھوڑے (ف۸۸)

(ف85)

عذاب و ہلاک کا ۔

(ف86)

اور پانی نے اس میں سے جوش مارا ۔ تنور سے یا روئے زمین مراد ہے یا یہی تنور جس میں روٹی پکائی جاتی ہے ۔ اس میں بھی چند قول ہیں ایک قول یہ ہے کہ وہ تنور پتّھر کا تھا حضرت حوّا کا جو آپ کو ترکہ میں پہنچا تھا اور وہ یا شام میں تھا یا ہند میں اور تنور کا جوش مارنا عذاب آنے کی علامت تھی ۔

(ف87)

یعنی ان کے ہلاک کا حکم ہو چکا ہے اور ان سے مراد آپ کی بی بی واعلہ جو ایمان نہ لائی تھی اور آپ کا بیٹا کنعان ہے چنانچہ حضرت نوح علیہ الصلٰوۃ و السلام نے ان سب کو سوار کیا ، جانور آپ کے پاس آتے تھے اور آپ کا داہنا ہاتھ نر پر اور بایاں مادہ پر پڑتا تھا اور آپ سوار کرتے جاتے تھے ۔

(ف88)

مقاتل نے کہا کہ کل مرد و عورت بہتر ۷۲ تھے اور اس میں اور اقوال بھی ہیں ۔ صحیح تعداد اللہ جانتا ہے ، ان کی تعداد کسی صحیح حدیث میں وارِد نہیں ہے ۔

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَاؕ-اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۴۱)

اور بولا اس میں سوار ہو (ف۸۹) اللہ کے نام پر اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا (ف۹۰) بےشک میرا رب ضرور بخشنے والا مہربان ہے

(ف89)

یہ کہتے ہوئے کہ ۔

(ف90)

اس میں تعلیم ہے کہ بندے کو چاہیئے جب کوئی کام کرنا چاہے تو اس کو بسم اللہ پڑھ کر شروع کرے تاکہ اس کام میں برکت ہو اور وہ سببِ فلاح ہو ۔ ضحاک نے کہا کہ جب حضرت نوح علیہ السلام چاہتے تھے کہ کشتی چلے تو بسم اللہ فرماتے تھے ، کشتی چلنے لگتی تھی اور جب چاہتے تھے کہ ٹھہر جائے بسم اللہ فرماتے تھے ٹھہر جاتی تھی ۔

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ-وَ نَادٰى نُوْ حُ-ﰳابْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ(۴۲)

اور وہ انہیں لیے جارہی ہے ایسی موجوں میں جیسے پہاڑ (ف۹۱) اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا اور وہ اس سے کنارے تھا (ف۹۲) اے میرے بچے ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو (ف۹۳)

(ف91)

چالیس شب و روز آسمان سے مِینہ برستا رہا اور زمین سے پانی ابلتا رہا یہاں تک کہ تمام پہاڑ غرق ہو گئے ۔

(ف92)

یعنی حضرت نوح علیہ السلام سے جدا تھا آپ کے ساتھ سوار نہ ہوا تھا ۔

(ف93)

کہ ہلاک ہو جائے گا ۔ یہ لڑکا منافق تھا ، اپنے والد پر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا تھا اور باطن میں کافِروں کے ساتھ متفق تھا ۔ (حسینی)

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِؕ-قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَۚ-وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ(۴۳)

بولا اب میں کسی پہاڑ کی پناہ لیتا ہوں وہ مجھے پانی سے بچالے گا کہا آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہ رحم کرے اور ان کے بیچ میں موج آڑے آئی تو وہ ڈوبتوں میں رہ گیا (ف۹۴)

(ف94)

جب طوفان اپنی نہایت پر پہنچا اور کُفّار غرق ہو چکے تو حکمِ الٰہی آیا ۔

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۴۴)

اور حکم فرمایا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان تھم جا اور پانی خشک کردیا گیا اور کام تمام ہوا اور کشتی (ف۹۵) کوہِ جودی پر ٹھہری (ف۹۶) اور فرمایا گیا کہ دور ہوں بے انصاف لوگ

(ف95)

چھ مہینے تمام زمین کا طواف کر کے ۔

(ف96)

جو موصل یا شام کے حدود میں واقع ہے ۔ حضرت نوح علیہ السلام کشتی میں دسویں رَجَب کو بیٹھے اور دسویں مُحرّم کو کشتی کوہِ جودی پر ٹھہری تو آپ نے اس کے شکر کا روزہ رکھا اور اپنے تمام ساتھیوں کو بھی روزے کا حکم فرمایا ۔

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ(۴۵)

اور نوح نے اپنے رب کو پکارا عرض کی اے میرے رب میرا بیٹا بھی تو میرا گھر والا ہے (ف۹۷) اور بےشک تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بڑھ کر حکم والا (ف۹۸)

(ف97)

اور تو نے مجھ سے میرے اور میرے گھر والوں کی نجات کا وعدہ فرمایا ہے ۔

(ف98)

تو اس میں کیا حکمت ہے ۔ شیخ ابو منصور ماتریدی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ حضرت نوح علیہ الصلٰوۃ والسلام کا بیٹا کنعان منافق تھا اور آپ کے سامنے اپنے آپ کو مؤمن ظاہر کرتا تھا اگر وہ اپنا کُفر ظاہر کر دیتا تو آپ اللہ تعالٰی سے اس کے نجات کی دعا نہ کرتے ۔ (مدارک)

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَۚ-اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ ﲦ فَلَا تَسْــٴَـلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ-اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ(۴۶)

فرمایا اے نوح وہ تیرے گھر والوں میں نہیں (ف۹۹) بےشک اس کے کام بڑے نالائق ہیں تو مجھ سے وہ بات نہ مانگ جس کا تجھے علم نہیں (ف۱۰۰) میں تجھے نصیحت فرماتا ہوں کہ نادان نہ بن

(ف99)

اس سے ثابت ہوا کہ نسبی قرابت سے دینی قرابت زیادہ قوی ہے ۔

(ف100)

کہ وہ مانگنے کے قابل ہے یا نہیں ۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْــٴَـلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌؕ-وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ(۴۷)

عرض کی رب میرے میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ تجھ سے وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں اور اگر تو مجھے نہ بخشے اور رحم نہ کرے تو میں زیاں کار(نقصان اُٹھانے والا) ہوجاؤں

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَؕ-وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۴۸)

فرمایا گیا اے نوح کشتی سے اتر ہماری طرف سے سلام اور برکتوں کےساتھ (ف۱۰۱) جو تجھ پر ہیں اور تیرے ساتھ کے کچھ گروہوں پر (ف۱۰۲) اور کچھ گروہ وہ ہیں جنہیں ہم دنیا برتنے دیں گے (ف۱۰۳) پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا (ف۱۰۴)

(ف101)

ان برکتوں سے آپ کی ذُرِّیّت اور آپ کے مُتّبِعین کی کثرت مراد ہے کہ بکثرت انبیاء اور ائمۂ دین آپ کی نسلِ پاک سے ہوئے ان کی نسبت فرمایا کہ یہ برکات ۔

(ف102)

محمد بن کعب قُرظی نے کہا کہ ان گروہوں میں قیامت تک ہونے والا ہر ایک مومن داخل ہے ۔

(ف103)

اس سے حضرت نوح علیہ الصلٰوۃ و السلام کے بعد پیدا ہونے والے کافِر گروہ مراد ہیں جنہیں اللہ تعالٰی ان کی میعادوں تک فراخیٔ عیش اور وسعتِ رزق عطا فرمائے گا ۔

(ف104)

آخرت میں ۔

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَۚ-مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا ﳍ فَاصْبِرْ ﳍ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠(۴۹)

یہ غیب کی خبریں ہیں کہ ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں (ف۱۰۵) انہیں نہ تم جانتے تھے نہ تمہاری قوم اس (ف۱۰۶) سے پہلے تو صبر کرو (ف۱۰۷) بےشک بھلا انجام پرہیزگاروں کا (ف۱۰۸)

(ف105)

یہ خِطاب سیدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرمایا ۔

(ف106)

خبر دینے ۔

(ف107)

اپنی قوم کی ایذاؤں پر جیسا کہ نوح علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اپنی قوم کی ایذاؤں پر صبر کیا ۔

(ف108)

کہ دنیا میں مظفر و منصور اور آخرت میں مُثاب و ماجور ۔