أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ فِىۡ جَنّٰتٍ وَّعُيُوۡنٍؕ ۞

ترجمہ:

بیشک اللہ سے ڈرنے والے جنتوں اور چشموں میں ہوں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک اللہ سے ڈرنے والے جنتوں اور چشموں میں ہوں گے، ان سے کہا جائے گا تم ان میں بےخوف ہو کر سلامتی کی ساتھ داخل ہوجاؤ، ان کے دلوں میں جو رنجشیں ہوں گی ہم ان سب کو نکال لیں گے (وہ) ایک دوسرے کے بھائی ہو کر مسند نشین ہوں گے۔ ان کو وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔ (٤٥، ٤٨ )

متقین کی تحقیق 

اللہ سے ڈرنے والے یعنی متقی لوگ معتزلہ کے نزدیک اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو شرک اور کفر کے علاوہ ہر قسم کے کبیرہ گناہوں سے مجتنب رہے ہوں اور اگر ان سے کوئی کبیرہ گناہ سرزد ہوگیا ہوتا مرنے سے پہلے انہوں نے اس پر تو بہ کرلی ہو یہی لوگ آخرت میں جنتوں اور چشموں میں ہوں گے۔

اور جمہور اہلسنت کے نزدیک اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو کفر اور شرک سے دائما مجتنب رہے ہوں لیکن متقی ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ انہوں نے ہر ہر کبیرہ گناہ سے اجتناب کیا ہو جس طرح قاتل ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ اس نے انسان کے ہر ہر فرد کو قتل کیا ہو اور عا لم ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کو ہر ہر مسئلہ کا علم ہو ایک انسان کو قتل کرنے والا بھی قاتل کہلاتا ہے اور چند عام پیش آنے والے مسائل کو جاننے والا بھی عالم کہلاتا ہے اس طرح زندگی میں چند بار خوف خدا سے کبیرہ گناہوں کو ترک کر والا بھی متقی ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

 وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ جَنَّتَانِ

 اور جو اپنے رب کے سامنے کھڑا پونے سے ڈرا اس کے لیے دو جنتیں ہیں  الرحمن 46

سو جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے زندگی میں ایک بار بھی ڈرا اور خوف خدا سے اس نے کسی کبیرہ گناہ کو ترک کردیا وہ اس آیت کے مصداق ہے اسی طرح اللہ تعالی نے فرمایا ہے 

وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ (النزعت 40)فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى (النزعت41) 

 اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈارز اور نفس (امارہ) کو اس کی خواہش سو روکا۔ تو بیشک اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے۔

سو جس شخص نے زندگی میں ایک بار بھی خوف خدا سے اپنی خواہشوں کے منہ زور گھوڑے کو گناہ کی وادی میں دوڑنے سے روک لیا وہ اس آیت کا مصداق ہے اور اللہ تعالیٰ نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ متقی ہونے کے لیے اور جنت کا امید وار بننے کے لیے ہر ہر گناہ کر ترک کرنا ضروری ہے البتہ کامل متقی وہی شخص ہے جو خوف خدا سے تمام گناہوں سے مجتنب رہے البتہ اگر کبھی نفس اور شیطان کے غلبہ سے وہ گناہ میں لوث ہوجائے تو فو را نادم ہو اور اس گناہ سے توبہ کرے۔ ایسے لوگ کامل متقی ہیں اور ان ہی کے متعلق توقع ہے کہ وہ بغیر کسی سزا کے پہلی بارہی جنت میں چلے جائیں گے اور جن لوگوں نے نیک کام بھی کیے اور خوف خدا سے گناہوں کو ترک بھی کیا اور پھر ان سے گناہ بھی ہوگئے اور انہوں نے ان گناہوں پر توبہ کرلی تو ان کو مغفرت کی امید رکھنی چاہیے 

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللَّهُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ( التوبہ : ١٠٢) اور دوسرے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا انہوں نے کچھ نیک کاموں کو دوسرے برے کاموں سے ملایا عنقریب اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا بیشک اللہ بہت بخشنے والا ہے۔

اور جن لوگوں نے نیک کام کیے اور گناہ بھی کیے اور وہ بغیر توبہ کے مرگئے وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو نبی صل اللہ علیہ وسلم کو شفاعت کا حکم دے گا اور آپ کی شفاعت قبول فرماکر ان کو بخش دے گا یا اپنے فضل محض سے ان کو بخش دے گا یا ان کو دوزخ میں کچھ سزادے کر نکال لے گا اور پھر ان کو جنت میں داخل فرمادے گا اور جو لوگ مسلسل گناہ کرتے رہیں اور ان گناہوں پر نادم اور تائب نہ ہوں ان کو یہ توقع نہیں رکھنے چاہیے کہ ان کا حشر متقین کی طرح ہوگا 

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ 

أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ أَن نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاءً مَّحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ (الجاثیہ21)

جن لوگوں نے گناہ کیے ہیں کی انہوں نے یہ گمان کرلیا ہے کہ ہم انہیں ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کی مشل کردیں گے کہ ان کی زندگی اور موت برابر ہوجائے وہ کیسا برافیصلہ کرتے ہیں

اور یوں اللہ تعالیٰ مالک الملک ہے وہ چاہے تو ایک پیاسے کتے کو پانی پلانے پر اور راستہ سے کاٹنے ہٹادینے پر ساری عمر کے گناہوں کو معاف فرمادے اور وہ چاہے تو ایک بلی کو بھوکا رکھنے پر دوزخ میں ڈال دے وہ جس کو چاہے معاف کردیتا ہے اور جس کو چاہے عذاب دیتا ہے۔ 

چشموں، سلامتی اور امن کی تفسیر 

علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ جشموں سے مراد پانی، شراب دودھ اور شہد کے دریا، اور علامہ ابن جوزی نے لکھا ہے کہ اس سے پانی شراب سلسبیل اور تسنیم کے دریا مراد ہیں،

ان سے کہا جائے گا تم سلامتی کے ساتھ جنتوں میں داخل ہوجاؤ اس کی تفسیر میں تین قول ہیں

(1) دوزخ سے سلامتی اور حفاظت کے ساتھ جنتوں میں داخل ہو

(2) جنت سے نکالے جانے سے بےخوف رہو

(3) موت سے بےخوف رہوں

( 4) مرض اور مصیبت سے بےخوف رہو۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کے دلوں میں جو رنجشیں ہوں گی ہم ان سب کا نکال دیں گے۔ یہ آیت پہلے الاعراف : 43 میں گذر چکی اور ہم اس کی مفصل تفسیر وہاں کرچکے ہیں۔

پھر فرمایا وہ ایک دوسرے کے بھائی ہو کر مسند نشین ہوں گے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا وہ ایک دوسرے کے بالمقابل ہو بن گے اور ایک دوسرے کی طرف پیٹھ نہیں کریں گے امام رازی نے فرمایا جس طرح دوشیشے متقابل ہوں تو ایک کا عکس دوسرے میں نظر اتا ہے اسی طرح جب جنتی متقابل ہوں گے تو یاک کو انوار دوسرے میں منعکس ہوں گے

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 45