أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ عِبَادِىۡ لَـيۡسَ لَكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَـعَكَ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک میرے بندوں پر تیرا کوئی تسلط نہیں ہے سوا ان گمراہوں کے جو تیری پیروی کریں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے بیشک میرے بندوں پر تیرا کوئی تسلط نہیں ہے سو ان گمراہوں کے جو تیری پیروی کریں گے۔ (الحجر : 42) 

انسانوں پر جنات کے تسلظ کا رد 

جب ابلیس نے یہ کہا تھا میں ضرور ان کے لیے ( برے کاموں کو) زمین میں خوزشنما بنادوں گا اور میں ضرور ان سے کو گمراہ کردوں گا سو ان میں سے تیرے ان بندوں کے جو اصحاب اخلاص نہیں ہیں ان پر اس کا تسلط ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کا رد کرتے ہوئے فرمایا بیشک میرے بندوں پر تیرا تسلط نہیں ہے خواہ وہ اصحاب اخلاص ہوں یا نہ ہوں بلکہ ان بندو میں سے جو اپنے اختیار سے ابلیس کی پیروی کرے گا وہ اس کا تابع ہوگا اور یہ پیروی بھی اس سے نہیں ہوگی کہ ابلیس اس کو زبردستی یاجبر سے اپنا پیروکار بنائے گا خلاصہ یہ ہے کہ ابلیس نے اپنے کلام سے یہ وہم ڈالا تھا کہ اللہ کے جو بندہ اصحاب اخلاص نہیں ہیں ان پر اس تسلط اور تصرف ہوگا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی اس غلط بیانی یا جھوٹ کو واضح فرمایا اور یہ بتایا کہ اللہ کے کسی بندے پر ابلیس کو تسلط یا قدرت حاصل نہیں ہے اور اس کی نظیر وہ آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن ابلیس کا یہ قول نقل فرمایا ہے :

وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الأمْرُ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِي عَلَيْكُمْ مِنْ سُلْطَانٍ إِلا أَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي ( ابرا ھیم : ٢٢) اور مجھے تم پر کوئی تسلط حاصل نہ تھا البتہ میں نے تم کو دعوت دی سو تم نے میری دعوت قبول کرلی۔

اور اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں فرمایا :

إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطَانٌ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (٩٩) إِنَّمَا سُلْطَانُهُ عَلَى الَّذِينَ يَتَوَلَّوْنَهُ وَالَّذِينَ هُمْ بِهِ مُشْرِكُونَ ( النحل : ١٠٠) بیشک شیطاب کو ان لوگوں پر کوئی تسلط اور غلبہ حاصل نہیں ہے جو ( اللہ پر) ایمان لائے اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ اسے صرف ان لوگوں پر تسلط اروغلبہ حاصل ہے جو اس کے ساتھ دوستی رکھتے ہیں اور اس کا اللہ کا شریک قرار دیتے ہیں۔

اس آیت میں ان لوگوں کا رد ہے جن کا یہ زعم ہے کہ شیطان اور جس انسان کی عقل زائل کرنے اور اس کے اعضا پر متصرف ہونے پر قادر ہیں اور جب انسان پر جن چڑھ جاتا ہے تو اس کی زبان سے بولتا ہے اور اس کے ہاتھ پیروں سے تصرف کرتا ہے جیسا کہ عام لوگو یہ عقیدہ ہے اور ہم نے بارہا کہا ہے کہ اگر عقلا اور شرعا اس کا جواز ہوتا ہے تو ایک آدمی کسی شخص کو قتل کردیتا ہے اور پھر کہتا میں نے اس کو قتل نہیں کیا مجھ پر جو جن چڑھا ہوا تھا اس نے اس کو قتل کیا ہے اس وقت تو میری عقل زائل تھی مجھے کچھ ہوش نہ تھا یہ سب ان جن کی کارستانی ہے تو کیا شریعت میں اس کی گنجائش ہے ؟ کیا قرآن کی کسی آیت میں یا کسی حدیث میں کسی صحابی کے قول میں یہ استثناء موجود ہے کہ اس شخص سے قتل کا قصاص نہیں لیا جائے گا جو کسی جن کے زیر اثر یا اس کے ریز تسلط ہو یا دنیا کے کسی بھی قانون میں یہ گنجائش ہے ؟

اس اشکال کا جواب کہ اصحاب اخلاص کو بھی شیطان نے لغزش میں مبتلا کیا 

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب شیطان کو اللہ کے نیک بندوں پر کوئی تسلط اور قدرت نہیں ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا کے متعلق فرمایا :

فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ ( البقرہ : ٣٦) پس شیطان نے ان کو اس درخت کے ذریعہ لغزش میں مبتلا کیا اور جہاں وہ رہتے تھے وہاں سے انہیں نکال باہر کیا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ شیطان کو ان کے دلوں پر قدرت نہیں ہے اور نہ ان کے اعضاء پر تسلط ہے کہ وہ جبرا ان سے کوئی گناہ کرائے، شیطان نے اللہ کی قسم کھاکر ان کو بتایا کہ اس درخت سے کھانے میں ان کا فائدہ ہے، حضرت آدم نے سوچا کہ کوئی شخص اللہ کے نام کی جھوٹی قسم نہیں کھا سکتا اور انہوں نے یہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس درخت سے جو منع کیا ہے وہ ممانعت تنز یہی ہے اور وہ یہ بھول گئے کہ یہ ممانت تحریمی ہے یا انہوں نے یہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس مخصوص اور مشخص درخت سے منع کیا ہے میں اس نوع کے کسی اور درخت سے کھالیتا ہوں اور ہو یہ بھول گئے کہ ممانعت اس نوع کے درخت سے تھی۔ الغرض حضرت آدم (علیہ السلام) کا اس درخت سے کھانا خلقت کی تکمیل اور زمین پر اللہ کی خلافت جا ری کرنے کے لیے وہ زمین پر آئے تھے ہم اس کی تفصل البقرہ میں بیان کرچکے ہیں۔

دوسرا اعتراض یہ ہے کہ جنگ احد میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعض اصحاب کو شیطان نے لغزش میں مبتلا کردیا تھا اور وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑ کر میدان جہاد سے بھاگ گئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق فرمایا : 

إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ ( آل عمران : ١٥٥) بیشک جس دن دو فوجیں ایک دوسرے کے با لمقابل ہوئی تھیں اس دن جو لوگ تم میں سے پھرگئے تھے ان کے بعض کاموں کی وجہ سے شیطان ہی نے ان کے قدموں کو لغزش دی تھی اور یقینا اللہ نے ان کو معاف کردیا بیشک اللہ بہت بخشنے والا بڑے حلم والا ہے۔ 

دشمن سے شکست کھا جانا معصیت نہیں تھا لیکن جب انہوں نے سنا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید کردیئے گئے تو وہ مدینہ کی حفاظت کے لے شہر میں چلے گئے تاکہ دشمن اپنے عزائم میں کامیاب نہ ہو ایک قول یہ ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو پکار رہے تھے تو انہوں نے خوف اور ہراس کے غلبہ کی وجہ سے آپ کی پکار کو نہیں سنا اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ دشمن کی تعداد ان سے کئی گنا زیادہ تھی کیونکہ وہ سات سو تھے اور دشمن تین ہزار تھے اور ان حالات میں شکست کھاجانا بعید نہیں ہے لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑ کر بھاگ جانا ایسی خطا ہے جو جائز نہیں ہے اور ہوسکتا ہے کہ انہوں نے ان کے دلوں میں مختلف وسوسے ڈال دیئے تھے۔

معلوم یہ ہوتا کہ دشمن کے اچانک پلٹ کر آنے اور اس کے زبر دست دباؤ کی وجہ سے ان کے قدموں اکھڑ گئے اور وہ بےسوچے سمجھے بھاگ پڑے بہر حال یہ خطا کسی وجہ سے بھی ہوئی ہو اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا۔ اور تیسرا اعتراض یہ ہے کہ ایک سفر میں شیطان نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کو سلادیا اور ان سے صبح کی نماز قضا ہوگئی امام مالک بن انس متوفی 179 ھ روایت کرتے ہیں :

زید بن اسلم بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک رات مکہ کے راستے میں رات کے آخری حصہ میں ایک جگہ پہنچے آپ نے حضرت بلال سے فرمایا کہ وہ مسلمانوں کو نماز کے وقت بیدار کردیں حضرت بلال کو نیند آگئی اور باقی مسلمان بھی سو گئے حتی کہ جس وقت وہ بیدار ہوئے تو سورج ان کے اوپر طلوع ہوچکا تھا سب مسلمان گھبراکر اٹھے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حکم دیا کہ وہ ہاں سے کوچ کریں حتی کہ اس وادی سے نکل جائیں آپ نے فرمایا اس وادی میں شیطان ہے مسلمان وہاں سے روانہ ہوئے حتی کہ اس وادی سے نکل گئے پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو نماز پڑھائی پھر ان کی طرف مڑے آپ نے ان کے خوف اور گھبراہٹ کو دیکھا، آپ نے فرمایا اے لوگو اللہ تعالیٰ نے ہماری روحوں کو قبض کرلیا تھا اور اگر اللہ چاہتا تو اس وقت کے علاوہ کسی اور وقت میں ہماری روحوں کو لٹا دیتا پس تم سے جب کسی شخص کی نماز کے وقت آنکھ نہ کھلے یا وہ نماز بڑھنا بھول جائے پھر گھبراکر اٹھے تو نماز کو اس طرح پڑھ لے جس طرح نماز کو اپنے وقت میں پڑھتا ہے پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابوبکر کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا جس وقت بلال کھرے ہو کر نماز پڑ رہے تھے شیطان ان کے پاس گیا اور ان کو لٹا دیا پھر ان کو مسلسل اس طرح تھپکیاں دیتا رہا جس طرح بچہ کو تھپکیاں دی جاتی ہیں حتی کہ بلال سوگئے پھر رسول اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال (رض) کو بلا یا تو حضرت ابوبکر (رض) سے بیان فرمایا تھا پس حضرت ابوبکر نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اپ اللہ کے رسول ہیں۔ موطا امام مالک رقم الحدیث :”26)

اعتراض کی تقریر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ شیطان نے یہ اعتراف کیا ہے کہ اصحاب اخلاص پر شیطان کا کوئی تسلط اور غلبہ نہیں ہے اس تسلط اور غلبہ سے کیا مراد ہے ؟ اگر اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ان سے زبر دستی اور جبرا کوئی گناہ نہیں کراسکتا اور اگر اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اس کے وسوسہ کو قبول نہیں کریں گے تو ان مثالوں میں حضرت آدم اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب نے اس کے وسوسہ کو قبول کرلیا تھا اس کا جواب یہ ہے کہ وہ اس کے بہکانے سے قصدا اور ارادہ سے اللہ تعالیٰ کی کوئی نافرمانی نہیں کریں حضرت آدم (علیہ السلام) نے قصدا اور ارادہ سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کی وہ بھول گئے تھے اور جنگ احد میں جو اصحاب رسول میدان جہاد سے پیٹھ موڑکر بھاگے تھے ان کا قصد اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی نہ تھا خوف و ہراس کے غلبہ کی وجہ سے ان کے ذہنوں سے یہ بات نکل گئی تھی کہ میدان سے بھاگنا ان کے لیے جائز نہیں ہے اور اگر بالفرض یہ میصیت ہو بھی تو اصحاب اخلاص سے مراد انبیاء (علیہم السلام) ہیں جو معصوم ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے معصیت صادر ہوئی ہے لیکن انہوں نے فورا توبہ کرلی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرمادیا اور ان پر حدود جاری ہوئی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہیں پاک کردیا اور تیسری مثال نیند کی ہے اور نیند کی وجہ سے نماز کا قضا ہوجانا کوئی گناہ نہیں ہے جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود بیان فرمادیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 42