حدیث نمبر216

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت بلال سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جواب کیسے دیتے تھے جب صحابہ آپ کو نماز میں سلام کرتے تو فرمایا کہ اپنے ہاتھ سے اشارہ کردیتے تھے ۱؎(ترمذی) اور نسائی کی روایت میں اسی طرح ہے اور بجائے بلال کے صہیب ہے۔

شرح

۱؎ شاید یہ اس وقت کا ذکر ہے جب کہ نماز میں زبانی سلام و جواب ممنوع ہوچکا تھا اشارے جائز تھے،پھر یہ بھی ممنوع ہوگیا۔چنانچہ خلاصۃ الفتاویٰ میں ہے کہ اگر نمازی سریا ہاتھ سے سلام کا جواب دے تو نماز ٹوٹ جائے گی۔ ظاہر یہ ہے کہ نماز فاسد نہ ہوگی مگر مکروہ ہوگی بہرحال اب اشارہ بھی منسوخ ہے اس حدیث سے ہی نسخ معلوم ہورہا ہے کیونکہ حضرت ابن عمر نے حضور علیہ السلام کو اشارہ کرتے دیکھا نہیں بلکہ سنا تھا،تو حضرت بلال سے پوچھا اگر اشارہ اخیر تک جاری رہتا تو آ پ دیکھ لیتے۔خیال رہے کہ سلام کے اشارے مختلف ہیں کبھی انگلی اٹھا کر کبھی پیشانی پر لگا کر کبھی داہنا ہاتھ الٹا کرکے یہاں تیسری صورت مراد ہے جیسا کہ ابوداؤد،ترمذی،نسائی کی احادیث میں ہے۔(اشعہ)