جنت کے دروازے

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ پڑھا اور یہ فرمایا کہ قسم ہے اس کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے اس کو تین بار فرمایا پھر سر جھکا لیا تو صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی سر جھکا لیا اور رونے لگے معلوم نہ ہوا کہ آپ نے کس چیز پر قسم کھائی ہے پھر حضور انور ﷺ نے سر مبارک اٹھالیا چہرۂ پُر نور پر خوشی کے آثار تھے اور ارشاد فرمایاجو بندہ پانچوں نمازیں پڑھتا ہے، رمضان کے روزے رکھتا ہے اور اپنے مال کی زکوۃ دیتا ہے اور کبیرہ گناہوں سے بچتا ہے اس کے لئے جنت کے دروازے کھول دئیے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا کہ سلامتی کے ساتھ داخل ہو جا۔ (نسائی شریف )

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول کریم علیہ الصلوٰۃ و التسلیم نے فرمایا جو شخص مال حاصل کرے تو اس پر اس وقت تک زکوٰۃ نہیں جب تک اس پر پورا سال نہ گزر جائے۔ (ترمذی شریف)

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : حضور ا ہم کو حکم فرمایا کرتے تھے کہ ہم تجارت کے لئے تیار کی جانے والی چیزوں کی زکوٰۃ نکا لا کریں۔ (ابو داؤد)

حضرت موسیٰ بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمارے پاس حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا وہ خط موجود ہے جسے دے کر حضور ﷺ نے انہیں بھیجا تھا۔ راوی نے کہا کہ حضور ﷺ نے معاذ بن جبل (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کو حکم فرمایا کہ وہ گیہوں،جَو، انگور اور کھجورکی پیداوار میں مسلمانوں سے زکوٰۃ وصول کر لیں۔ (مشکوٰۃ شریف)