حدیث نمبر233

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی سلام پھیرنے سے پہلے بے وضو ہوجائے حالانکہ آخر نماز بیٹھ لیا ہے تو اس کی نماز جائز ہوگئی ۱؎(ترمذی)اور فرمایا کہ اس کی اسناد قوی نہیں اس کی اسناد میں اضطراب ہے ۲؎

شرح

۱؎ یعنی آخری قعدہ میں بقدر التحیات بیٹھ چکا تھا کہ اس کا وضو جاتا رہا تو اس کا فرض ادا ہوگیا اگر عمدًا وضو توڑا ہے تو امام اعظم کے نزدیک بھی ادا ہوگیا کیونکہ ارادۃً نماز سے نکلنا پالیا گیا اور اگر اتفاقًا بلاقصد وضو ٹوٹ گیا تو صاحبین کے ہاں نماز ہوگئی کیونکہ ان کے ہاں اراداۃً نماز سے نکلنا فرض نہیں۔یہ حدیث امام صاحب کی قوی دلیل ہے کہ آخری التحیات میں بیٹھنا فرض ہے نہ کہ پڑھنا اور سلام بھی فرض نہیں امام شافعی کے ہاں سلام فرض ہے۔

۲؎ حدیث کا اضطراب یہ ہے کہ مختلف اور متفاوت طریقوں سے روایت ہو کبھی اسناد میں اضطراب ہوتا ہے،کبھی متن میں اضطراب ضعف حدیث کی علامت ہے مگر طحاوی نے یہ حدیث بہت اسنادوں سے نقل کی اور تعدد اسناد ضعیف کو حسن بنادیتی ہے،حسن سے احکام ثابت ہوسکتے ہیں،نیز ہوسکتا ہے کہ یہ حدیث امام ترمذی کو ضعیف یا مضطرب ہوکر ملی۔امام ابوحنیفہ کے زمانہ میں صحیح تھی بعد کاضعف اگلوں کومضر نہیں۔