أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَسَجَدَ الۡمَلٰۤئِكَةُ كُلُّهُمۡ اَجۡمَعُوۡنَۙ ۞

ترجمہ:

تمام فرشتوں نے اکھٹے ہو کر سجدہ کیا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس تمام فرشتوں نے اکھٹے ہو کر سجدہ کیا سوا ابلیس کے اس نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے انکار کردیا (الحجر 31 ۔ 30) 

تمام فرشتوں کا حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کر نا

اللہ تعالیٰ نے پہلے جمع کے صیغہ سے فرمایا  فسجد الملائکتہ اس کا معنی ہے سب فرشتوں نے سجدہ کیا پھر کلھم یعنی سب فرشتوں نے سجدہ کیا اور اکثر فرشتوں کے سجدہ کرنے کا احتمال ساقط ہوگیا، پھر بھی یہ احتمال باقی رہا کہ بعض فرشتوں نے ایک وقت میں سجدہ کیا ہو اور بعض نے دوسرے وقت میں سجدہ کیا ہو لیکن جب یہ فرمایا اجمعون تو یہ احتمال بھی ساقط ہوگیا اور اب معنی یہ ہے کہ تمام فرشتوں نے اکھٹے ہو کر سجدہ کیا، نیز فرمایا سوا ابلیس کے اس کا معنی یہ ہے کہ ابلیس کو بھی سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا ابلیس کا معنی اور یہ کہ کہ وہ جنات سے ہے یا فرشتوں سے اس بحث کو ہم نے البقرہ : 34 الاعراف11، الحجر :27، میں بیان کردیا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 30