أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِىۡ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ وَلَاُغۡوِيَـنَّهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ‏ ۞

ترجمہ:

اس نے کہا اے میرے رب ! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کردیا ہے تو میں ضرور ان کے لیے (برے کاموں کو) زمین میں خوش نما بنادوں گا اور میں ضرور ان سب کو گمراہ کردوں گا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اس نے کہا اے میرے رب چونکہ تو نے مجھے گمراہ کردیا ہے تو میں ضرور ان کے لیے (برے کاموں کو) زمین میں خوشنما بنادوں گا اور میں ضرور ان سب کو گمراہ کر دوں گا۔ سو ان میں سے تیرے ان بندوں کے جو اصحاب اخلاص ہیں۔ فرمایا مجھ تک پہنچنے کا یہی سیدھا راستہ ہے۔ (الحجر :41 ۔ 39)

اس اشکال کا جواب کہ اگر اللہ تعالیٰ ابلیس کو گمراہ کرنے کے لیے طویل عمر نہ دیتا تو لوگ گناہ نہ کرتے !

ابلیس نے کہا میں ضرور ان کے لیے ( برے کاموموں کو) زمین میں خوشنما بنادوں گا اس لعین کا مطلب یہ تھا کہ جب میں آسمانوں کے اور حضرت آدم کے دل میں وسوسہ ڈالنے اور شجر ممنوع کی طرف رغبت دلانے میں کامیاب ہوگیا تو میں زمین پر ان کی اولاد کے دلوں میں وسوسہ ڈالنے ضرور کامیاب ہوجاؤں گا اور میں ان کی نظروں میں دنیا کی چیزوں کو حین و جمیل بنا کر پیش کروں گا حتی کہ وہ آخرت سے غافل ہوجائیں گے۔

اس مقام پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ ابلیس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کی مہلت طلب کی اور اس نے یہ تصریح کردی تھی کہ وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھاکر ان کو گمراہ کرے گا اور اب کو کفر اور معصیت کی طرف مائل کرے گا اور جب اللہ تعالیٰ نے اس کی عمر طویل تک مہلت دے دی تو گویا اللہ تعالیٰ نے اس کو گمراہ کرنے کی قدرت دے دی نیز اکابر انبیاء اراولیاء مخلوق کو نیکی کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ابلیس ان کو نیکی سے دور کرنے کی کوشش کرتا ہے تو مصلحت کا تقاضا یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ انبیاء اور اولیاء کو باقی رکھتا اور ابلیس اور اس کی ذریار کو فنا کردیتا تاکہ انسان عبادت کریں اور گناہ نہ کرسکیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ انسا نوں کو آزمائش میں ڈالا جائے۔ اس نے نیکی کی طرف دعوت دینے کے لیے انبیاء (علیہم السلام) کو بھیجا اور اولیاء کرام اور علماء عظام کو پیدا کیا اور بدی کی طرف راغب کرنے کے لیے ابلس اور اس کی ذریات کو پیدا کیا اور خود انسان میں بھی دو قوتیں رکھ دیں ایک قوت اس کو دنیا کی رنگینوں کی طرف راغب کرتی ہے اور دوسری قوت اس کو اللہ کا ذکر اور اس کی عبادت کی طرف متوجہ کرتی ہے اور انسان کو عقل عطا کی اور اس کو اختیار دیا کہ وہ نیکی اور بدی اور ایمان وکفر کی ترغیبات میں سے کسی ایک کو اختیار کرلے سو جو اور نیکی کو اختیار کرے گا وہ کا میاب ہے اور جو کفر اور بدی کو اختیار کرے گا وہ ناکام ہے قرآن مجید ہے :

وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا (٧) فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا (٨) قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا (٩) وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا (١٠) اور جان کی قسم اور اس کی قسم جس نے اسے درست بنایا۔ پھر اسے بدی اور نیکی سمجھا دی۔ اور وہ بیشک ناکام ہوگیا جس نے نفس کو گناہوں میں لوث کرلیا۔

وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ (١٠) فَلا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ ( البلد : ١١) اور ہم نے اس کو (نیکی اور بدی کے) دونوں واضح راستے دکھائے، تو وہ ( نیک عمل کی) دشوار گزار گھاٹی سے کیوں نہیں گزرا۔

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک شیطان مقرر کیا گیا ہے اور ایک فرشتہ مقرر کیا گیا ہے صحابہ نے پوچھا یارسول اللہ آپ کے ساتھ بھی ؟ فرمایا میرے ساتھ بھی ! لیکن اللہ نے میری مدد فرمائی وہ میرا اطاعت گزار ہوگیا ہے اور وہ مجھے بھلائی کی سوا کوئی مشورہ نہیں دیتا (صحیح مسلم رقم الحدیث : 2814)

اس حدیث سے معلوم ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے عمومی طور پر ہدایت کے لیے انبیاء اور علماء کو پیدا کیا ہے اور عمومی طور پر گمراہ کرنے کے لیے ابلیس اور اس کی ذریات کو پیدا کیا ہے اسی طرح خصوصیت کے ساتھ ہر انسان کو نیکی کی تلقین کے لیے ایک فرشتہ اور برائی پر ترغیب کے لیے ایک شیطان پیدا کیا ہے اب انسان کے اندر اور باہر نیکی کے داعی اور محرکات بھی ہیں اور ابدی کے دواعی اور محرکات بھی ہیں اور انسان کو اللہ تعالیٰ نے اچھے اور برے کام کی سمجھ اور عقل سلیم عطا کی ہے اب اگر وہ اپنے اختیار سے ایمان اور عبادت کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایمان اور عبادت کر پیدا کردیتا ہے اور اگر وہ اپنے اختیار سے کفر اور معاصی کا ارداہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے کفر اور معاصی کو پیدا کر دتیا ہے ،۔ شیطان کا اس کے اوپر کوئی تصرگ اور تسلط نہیں ہے وہ وسوسہ کی صورت میں صرف برائی کی دعوت دیتا ہے اس کے مقابلہ میں انبیاء (علیہم السلام) اولیاء کرام اور علماء عظام اس کو نیکی اور خیر کی دعوت دیتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس پر خیر اور شر کے دونوں راستے وضح کردیئے ہیں اور اس کو اچھائی اور برائی سمجھا دی ہے اب وہ جس چیز کو اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے اسی چیز کر پیدا کردیتا ہے اور اس پر جزا اور سزا اور سو اب اور عذاب اس کے اختیار اور ارادہ کے اعتبار سے مرتب کیا جاتا ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اپنی قدرت سے تمام انسانوں میں ایمان اور عبادت کو پیدا فرما دیتا شیطان کو پیدا کرتا نہ برائیوں کو لیکن اس کی حکمت کے خلاف تھا، اس طرح بغیر ذاتی اختیار اور ارادہ کے محض جبر سے اطاعت کرنے والے اس کے پاس فرشتے بہت ہیں بلکہ یہ ساری کائینات اور انسان کے جسم کے اندوری تمام اعضاء سب کے سب جبر سے اطاعت کرتے ہیں۔ اس کی حکمت کا تقاضا ہے یہ تھا کہ ایک ایسی مخلوق پیدا کی جائے جس کے اندر باہر گناہ اور عبادت دونوں کی ترغیبات ہوں پھر اس کو عقل اور شعور دیا جائے پھر جو اپنی عقل اور شعور سے گنا ہوں کو چھوڑ کر اطاعت کو اختیار کرے اس کو دائمی اجر وثواب کا مستحق قرار دیا جائے اور جو اطاعت اور عبادت کو چھوڑ کر گناہ کو اختیارر کرے اس کو دائمی سزا اور عذاب کا مستحق قراردیا جائے سو شیطان کو پیدا کرنا اور انبیاء کو پیدا کرنا اور انبیاء (علیہم السلام) کو بھیجنا انسان کے امتحان اور اس کی آزمائش کے لیے ہے۔ 

جھوٹ کی قباحت 

اللہ تعالیٰ نے ابلیس کا یہ قول یہ قول فرمایا اور میں ضرور ان سب کو گمراہ کروں گا سو ان میں سے تیرے ان بندوں کے جو اصحاب اخلاص ہیں ابیلس نے اپنے قول میں اصحاب واخلاص کا ستثناء کیا ان کو گمراہ نہیں کرسکے گا اگر وہ ان بندوں کا استنثاء نہ کرتا اور مطلقا کہتا کہ میں سب کو گمراہ کر دوں گا تو اس کا قول جھوٹا ہوجاتا کیونکہ اس کو معلوم تھا کہ وہ اصحاب اخلاص کو گمراہ نہیں کرسکے گا، لہذا اس نے جھوٹ سے بچنے کے لیے یہ استثناء کیا امام رازی فرماتے ہیں کہ اس پر غور کرنا چاہیے کہ جھوٹ ایسی قبیح چیز ہے کہ اس سے شیطان بھی احتراز کرتا ہے تو مومن اور مسلمان کو جھوٹ بولنے سے کسی قدر زیادہ احتراز اور اجتناب کرنا چاہیے۔

اخلاص کا معنی 

اس آیت میں شیطان نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اصحاب اخلاص کو گمراہ نہیں کرسکتا ہے اس لیے پہلے ہم اخلاص کا معنی اور اس آیت میں شیطان نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اصحاب اخلاص کو گمرہ نہیں کرسکتا اس لے پہلے ہم اخلاص کا معنی اور اس کے درجات بیان کریں گے پھر اخلاص کے متعلق قرآن مجید کی آیات اور احادیث بیان کریں گے۔ علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی 502 ھ لکھتے ہیں : خالص کا معنی صافی (صاف) کی طرح ہے جس میں کسی دو سری چیز کی آمیزش نہ ہو قرآن مجید میں ہے : وَإِنَّ لَكُمْ فِي الأنْعَامِ لَعِبْرَةً نُسْقِيكُمْ مِمَّا فِي بُطُونِهِ مِنْ بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَبَنًا خَالِصًا سَائِغًا لِلشَّارِبِينَ النحل : ٦٦) ہم تمہیں اس چیز میں سے پلاتے ہیں جو ان کے پیٹوں میں ہے گوبر اور خون کے درمیان سے خالص دودھ جو پینے والوں کے لیے خوشگوار ہے۔ مسلمانوں کا اخلاص یہ ہے کہ وہ صرف اللہ کو ماننے اور یہودیوں کی طرح تشبیہ اور نصاری کی طرح تشلیث سے برات کا اظہار کرے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : قُلْ أَمَرَ رَبِّي بِالْقِسْطِ وَأَقِيمُوا وُجُوهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ الاعراف ٢٩) صرف اسی کی عبادت کرو عبادت میں اخلاص کرتے ہوئے۔ اور اخلاص کی حقیقت یہ ہے کہ ہر چیز سے برات کا اظہار کرے صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے اور اس میں اور کسی چیز کی آمیزش نہ کرے، (المفردات ج 1 ص 206 ۔ 205، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ 1418 ھ) 

کیا چیز اخلاص منافی ہے ؟

اگر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ کسی کام میں کوئی اور نیت بھی شامل کرلی جائے تو یہ اخلاص نہیں ہے، مثلا روزہ میں عبادت کی نیت کے ساتھ یہ نیت بھی کریں کہ روزوں کی وجہ سے بڑھا ہوا وزن کم ہوجائے گا یا تبخیر میں کمی ہوجائے گی نماز میں عبات کے ساتھ یہ نیت کرے کہ اس سے جسمانی ورزش بھی ہوجائے گی غسل اور وضو میں ٹھندک حاصل کرنے اور صفائی کی نیت کرلے زکواہ میں یہ نیت کرلے کہ اس سے میرا بخل دور ہوگا، حج کو جاتے ہوئے یہ نیت کرے کہ مکہ اور مدینہ میں جو میرے عزیز ہیں ان سے ملاقات کرلوں گا تو ان تمام صورتوں میں اخلاص نہیں ہے اخلاص تب ہوگا جب کسی بھی عبادت میں صرف اللہ کے حکم پر عمل کرنے یا اس کا تقرب حاصل کرنے یا صرف اس کی راضا جوئی کی نیت کرے اور اگر کسی عبادت میں ریا کاری داخل ہوجائے تو پھر اس میں اخلاص بالکل نہیں ہوگا یا بہت کم ہوگا اخلاص بالکل نہ ہونے کی مثال یہ ہے کہ ایک آدمی بالکل نماز نہ پڑھتا ہو لیکن اس سے ملنے کے لیے کچھ لوگ آئیں اور وہ نماز کے وقت مسجد میں جانے لگیں تو ان پر اچھا اثر ڈالنے کے لیے وہ ان کے ساتھ نماز پڑھنے چلاجائے اور اگر وہ لوگ نماز پڑھنے نہ جاتے تو وہ بھی ان کے ساتھ نماز پر ھنے جاتا اور اخلاص کم ہونے کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص نماز کر پڑھتا ہے لیکن اگر اس کے معتقدین مریدین یا شاگرد بیٹھے ہوں تا زیادہ خضوع خشوع کے ساتھ لمبی نماز پڑھے تاکہ ان پر اچھا اثر قائم ہو ہرچند کہ اس میں بھی ریاکاری ہے لیکن پہلی صورت سے کم ہے اور اس میں بالکلیہ اخلاص کی نفی نہیں ہے۔ 

اخلاص کے مراتب اور ردرجات 

امام غزالی نے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص جنت کی نعمتو‏ں سے بہرہ اندوز ہونے کے لیے عبادت کرے یا دوزخ کے عذاب کے خوف سے عبادت کرے تو اس میں بھی اخلاص ہے لیکن یہ کامل درجہ کا اور صد یقین کا اخلاص نہیں ہے کیونکہ وہ اپنے عمل سے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کا اردہ نہیں کر رہا اور جو کاملین اور صدیقین ہیں اور نا مطلوب صرف اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنا اور اس کی رضا ہوتی ہے اور بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ انسان جو بھی عمل کرتا ہے اس سے کسی نہ کسی مطلوب اور غرض کو حاصل کرنا ہوتا ہے اور تمامطالب سے بری اور بےنیاز ہو کر کوئی عمل کرنا یہ تو اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور اس کا دعوی کرنا کفر ہے اور قاضی باقلانی نے یہ فیصلہ کیا کہ جو شخص یہ کہے وہ تمام اغراض اور مطالب سے بری ہے وہ کافر ہے یہ فیصلہ برحق ہے لیکن امام غزالی کی مراد یہ ہے کہ جنت میں جو شہوت بر آری کے ذرائع اور وسائل ہوں گے فقط ان کی نیت نہ کرے اللہ تعالیٰ کے دیدار اور اس کی معرفت سے لذت حاصل ہوگی اس کی نیت کرے۔ ( احیاء العلوم ج 4 ص 332 ۔ 331، مطبوعہ دارا لکتب العلمیہ بیروت 1419 ھ)

دوزخ سے نجات اور نجات اور جنت کے حصول کے لیے عبادت کرنا بھی اخلاص ہے لیکن کامل اخلاص اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی ہے

میں کہتا ہوں کہ دوزخ کے عذاب سے نجات اور جنت کی طلب کے لیے عبادت کرنا بھی اخلاص کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے اور اعمال صالحہ کرنے کے لیے عذاب نار سے نجات اور حصول جنت کی ترغیب دی ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے فرماتا ہے : 

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ (١٠) تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ (١١) يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (١٢) اے ایمان والو ! کیا میں تم کو ایسی تجارت بتاؤ جو تم کو درناک عذاب سے بچا لے۔ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان برقرار رکھو اور اللہ کی راہ میں میں اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرو، یہ تمہارے لیے بہت اچھا ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔ وہ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور تم ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں اور پاکیزہ مکانوں میں ہمیشہ رہنے کی جنتوں میں یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔

البتہ یہ ضرور ہے کہ کامل درجہ کا اخلاص یہ ہے کہ اپنی عبادت سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے دیدار کا ارادہ کرے اللہ تعالیٰ فراماتا ہے :

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاةِ اللَّهِ (البقرہ : ٢٠٧) اور بعض لوگ وہ ہیں جو اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اپنی جان فروخت کردیتے ہیں۔

وَمَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاةِ اللَّهِ وَتَثْبِيتًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبْوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٌ فَآتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ ( البقرہ : ٢٦٥) اور ان لوگوں کی مثال جو اپنے مالوں کو اللہ کی رضا جوئی کے لیے اور اپنے دلوں کو مضبوط رکھنے کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ اس باغ کی طرح ہے جو اونچی زمین پر ہو اور اس پر موسلادھار بارش ہو تو وہ اپنا پھل دگنالائے۔

لا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نَجْوَاهُمْ إِلا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلاحٍ بَيْنَ النَّاسِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاةِ اللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا ( النساء : ١١٤) ان کے اکثر وبیشتر پوشیدہ مشوروں میں کوئی خیر نہیں ہے البتہ جو صدقہ کرنے کا حکم دے یا کسی نیک کام کرنے کا یا لوگوں کے درمیان صلح کرانے کا اور جو اللہ کی راضا حاصل کرنے کے لیے ان نیک کو موں کو کرے تو عنقریب ہم اس کو بہت بڑا ا جر دیں گے۔

لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار اور اس کی رضا کا حصول جنت میں ہوگا اس لیے جنت کو کم نہیں سمجھنا چاہیے بعض چاہل شعراء اور معرفت الہی کے جھوٹے مدعی اکثر یہ کہتے ہیں جنت سے کوئی مطلب نہیں ہمیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

 لِلَّذِينَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَأَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ وَرِضْوَانٌ مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ ( آل عمران : ١٥) متقین کے لیے ان کے رب کے پاس ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ بیویاں ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی ہے۔

نیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دائمی مسکن بھی جنت ہے اور محبوب کا مسکن بھی محبوب ہوتا ہے اس لیے بھی جنت کو محبوب رکھنا چاہیے۔ 

اخلاص کے متعلق قرآن مجید کی آیات 

وَمَا أُمِرُوا إِلا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَلِكَ دِينُ (البینہ : ٥) اور ان کو صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، اخلاص کے ساتھ اس کی اطاعت کرتے ہوئے۔

إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ (٢) أَلا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ الزمر : ٣) بیشک ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ کتاب نازل فرامائی ہے سو آپ اللہ کی عبادت کیجئے اخلاص کے ساتھ اس کی اطاعت کرتے ہوئے، سنو ! اللہ ہی کے لیے دین خالص ہے۔

إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الأسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا (١٤٥) إِلا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّهِ وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّهِ فَأُولَئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ ( النساء : ١٤٦) بیشک منافقین دوزخ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے اور (اے مخاطب ! ) تو ان کے لیے کوئی مددگار نہیں پائے گا سو ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور نیک کام کیے اور اللہ کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کیا اور انہوں نے اخلاص کے ساتھ اللہ کی اطاعت کی سو وہ لوگ ایمان والوں کے ساتھ ہوں گے۔ 

اخلاص کے متعلق احادیث 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اس حال میں دنیا سے رخصت ہوا کہ وہ اللہ وحدہ کے ساتھ اخلاص پر تھا اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرتا تھا اور نماز قائم کرتا تھا اور زکوہ ادا کرتا تھا تو وہ اس حال میں مرا کہ اللہ اس پر راضی تھا۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث۔ 70، بوصیری نے کہا اس کی سند ضعیف ہے حکم نے کہا ہے کہ اس کی کی سند صحیح ہے المستدرک ج 2 ص 332)

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب انہیں یمن کی طرف بھیجا گیا تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! مجھے وصیت کیجئے ! آپ نے فرمایا اخلاص کے ساتھ اللہ کی اطاعت کرو تمہیں کم عمل بھی کافی ہوگا۔ حاکم نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ المستدرک ج 4 ص 306)

مصعب بن سعد اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں ان کا یہ گمان کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ان اصحاب پر فضیلت حاصل ہے جن کے پاس ان سے کم مال ہے تو نبی صلی للہ علیہ وسلم نے فرمایا تعالیٰ اس مت کی مدد صرف ضعیف مسلمانوں کی دعاؤں ان کی نمازوں اور ان کے اخلاص کی وجہ سے فرماتا ہے (سنن النسائی رقم الحدیث : 3178)

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس شخص کو ترزتازہ رکھے جس نے میر حدیث سنی اس کی حفاظت کی ار اس کو یاد رکھا اور اس کی تبلیغ کی بعض فقہ کے حامل اس کو اپنے سے زیادہ فقہ تک پہنچا دیتے ہیں، تین شخصو کو دلوں کی خیر خواہی کرتے ہیں اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ لازم ہوں ان کی دعا دوسروں کو بھی شامل ہوتی ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : 2658، سنن ابو داؤد رقم الحدیث :3660، مسند احمد ج ص 183، سنن الدارمی رقم الحدیث :235 صحیح ابن حبان رقم الحدیث 680، المعجم الکبیر رقم الحدیث :4890)

حضرت ضحاک بن قیس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ارشاد فرماتا ہے میرا کوئی شریک نہیں ہے جس نے میرے ساتھ کسی کو (عمل میں) شریک کیا پس وہ (عمل) میرے شریک کے لیے ہے اے لوگو ! اللہ کے لیے اخلاص کے ساتھ اپنے اعمال بجالاؤ کیونکہ اللہ تبارک وتعالی ان ہی اعمال کو قبول فرماتا ہے جو خالص اس کے لیے ہے اور اللہ کے لیے وہ عمل بالکل نہیں ہے اور یہ نہ کہو کہ یہ تمہاری خاطر ہے کیونکہ پھر وہ تمہاری ہی خاطر ہے اور اللہ کے لیے بالکل نہیں ہے۔ (مسند البزار رقم الحدیث : 3567، مؤستہ الر سالہ بیروت، 1405 ھ)

حضرت ابو امامہ باہلی (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا یہ بتایئے ایک آدمی جہاد کرتا ہے وہ اجر کا بھی طالب ہے اور شہرت کا بھی طالب ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے اس نے تین بار سوال دہرایا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین بار یہی جواب دیا کہ اس کے لیے کوئی اجر نہیں پھر فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ اس عمل کو قبول فرماتا ہے جو خالص اس کے لیے ہو اور اس عمل سے صرف اس کی ذات کا ارادہ کیا گیا ہو۔ (سنن النسائی رقم الحدیث :314، دارالمعرفہ بیروت، 1412 ھ) 

اخلاص کے متعلق صوفیاء اور مشائخ کے اقوال 

حافظ شرف الدین میاطی متوفی 705 ھ لکھتے ہیں :

تمام عبادات کے قبول ہونے اور ان میں اجر وثواب کے حصول کی شرط یہ ہے کہ ان میں اخلاص ہو اور ہر وہ عمل جس میں اخلاص نہ ہو وہ ضائع ہونے کے زیادہ قریب ہے اور حضرت سہل بن عبد اللہ تتری نے کہا تمام علم دنیا کے لیے ہے اور آخرت کے لیے عمل ہے اور اخلاص کے سوا ہر عمل غبار کے ذرات کی طرح منتشر ہوجائے گا علماء بھی خود فریبی میں مبتلا ہیں اور اصحاب اخلاص بھی خوف ردہ رہتے ہیں حتی کہ انہیں معلوم ہوجائے کہ ان کا خاتمہ کس کیفیت پر ہوگا اگر تم ثواب کے حصول اور اجر آخرت کا ارادہ کرتے ہو تو اخلاص میں کوشش کرو اگر اللہ نے تمہاری مدد فرمادی اور تمہیں اعمال صالحہ کی توفیق دیے دی اور تمہاری ہمت کو حصول ثواب کے درجہ سے ترقی دے کر اپنی ذات کریم تک پہنچادیا اور نیک اعمال سے تمہارا مقصود دوزخ کا خوف ہو نہ جنت کی امید ہو تو پھر اللہ تعا نے تم کو اخلاص کے سب سے بلند درجہ تک پہنچا دیا اور تم اپنے مقربین اور بندرگان خواص میں سے کردیا اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کا چاہے عطا فرماتا ہے اور اللہ فضل عظیم کا مالک ہے اور اخلاص کی توفیق اس سے ملتی ہے۔ (المتبحر الرابح س 974، مطبوعہ دار خضر بیروت 1419 ھ)

امام محمد بن محمد غزالی متوفی 505 ھ لکھتے ہیں :

ابو عثمان نے کہا اخلاص یہ ہے کہ انسان کی دائمی نظر خالق کی طرف ہو اور وہ مخلوق کی بھول جائے اس میں فقط ریاکاری کی آفت کی طرف اشارہ ہے اور بعض نے کہا عمل میں یہ اخلاص یہ ہے کہ تمہارے عمل پر شیطا مطلع نہ ہو کہ وہ اس کو خراب کرسکے اور نہ فرشتہ مطلع ہو کہ وہ اس کو لکھ سکے اس قول میں محض اخفاء کی طرف اشارہ ہے ایک قول یہ ہے کہ جو چیز مخلوق سے مخفی ہو وہ اخلاص ہے یہ قول مقاصد کا جامع ہے ایک قول یہ ہے کہ رب کے ساتھ معاملہ کو مخلوق سے خارج کرنا ہے اور حواریوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کون ساعمل خالص ہے فرمایا جو شخص اللہ کے لیے عمل کرے اور اس پر مخلوق کی تعر یف کو پسند نہ کرے فضیل نے کہا لوگوں کی وجہ سے عمل کو ترک کردینا ریا ہے اور لوگوں کی کی وجہ سے عمل کرنا شرک ہے اور اخلاص یہ ہے کہ اللہ تمہیں دونوں سے محفوظ رکھے اور اخلاص کا شافی بیان وہ ہے جو سد الاولین والا خرین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے آپ سے پو چھا گیا کہ اخلاص کیا ہے تو آپ نے فرمایا کہ تم کہو کہ میرا رب اللہ ہے پھر اس طرح درست کام کرو جس طرح تمہیں کام کرنے کا حکم دیا گیا یعنی تم اپنے نفس اور اس کی خواہش کی عبادت نہ کرو صرف اپنے رب کی عبادت کرو اور اس کی اس طرح صحیح عبادت کرو جس طرح اس کی عبادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس میں یہ اشارہ ہے کہ اپنی نظر کو اللہ عزوجل کے ماسوا سے منقطع کرلو اور یہی حقیقت میں اخلاص ہے۔ احیاء علوم الدین ج 4 ص 332، مطبوعہ دارا لکتب العلمیہ بیروت 1419 ھ) 

دوزخ سے نجات اور جنت کے حصول کی دعا کرنا بھی اخلاص کا اعلی درجہ ہے 

یہ درست ہے کہ اخلاص کا سب سے اعلی مرتبہ یہ ہے کہ دوزخ سے نجات کے لیے عبادت کی جائے نہ جنت کے حصول کے لیے صرف اور صرف اس کی ذات کے لیے اور اس کی رضا کے لیے عبادت کی جائے لیکن اس سے دعا کی جائے کہ وہ دوزخ کے عذاب سے نجات عطافر مائے اور یہ بھی اخلاص کا اعلی مرتبہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مدح فرمائی ہے جو راتوں کو اٹھ کر دوزخ سے نجات کی دعا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ؛

وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا (٦٤) وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا (٦٥) إِنَّهَا سَاءَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا (الفرقان : ٦٦) اور جو لوگ اپنے رب کے لیے سجدہ اور قیام کرتے ہوئے رات گزار دیتے ہیں۔ اور جو یہ دعا کرتے ہیں اے ہمارے رب ہم سے دوزخ کا عذاب دور فرمادے بیشک اس کا عذاب چمٹ جانے والی مصیبت ہے، بیشک وہ ٹھر نے اور قیام کرنے کی کی بہت بری جگہ ہے۔

اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سید المخلصین ہے اور آپ بکثرت دوزخ کے عذاب سے پناہ طلب کرتے تھے حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ عا کرتے تھے :

اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں سستی سے اور بڑھاپے سے اور گناہ سے اور قرض سے اور قبر کی آزمائش اور عذاب قبر سے اور دوزخ کے فتنہ سے اور دوزخ کے عذاب سے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 6368، صحیح مسلم رقم لحدیث 589 سنن ابو داؤد رقم الحدیث : 880، سنن النسائی رقم الحدیث : 1308 مسند رقم الحدیث : 25085، علم الکتب بیروت)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکثر اوقات یہ دعا کرتے تھے : اے اللہ ہمیں دنیا میں اچھائی عطا فرما اور آخرت میں اچھائی عطا فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث 6389 صحیح مسلم رقم الحدیث : 2069، 2068 سنن الترمذی رقم الحدیث : 3787 مسند احمد ج 3 ص 277، 209، 208، 107 مصنف ابن ابی شیبہ ج 10 ص 261 الادب المفرد رقم الحدیث الکامل لابن عدی ج 3 ص 1055)

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) سے بڑھ کر کون صاحب اخلاص ہوگا اور انہوں نے حصول جنت کی دعا کی ہے قرآن مجید میں ہے :

وَاجْعَلْنِي مِنْ وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ ( اشعراء : ٨٥) اور مجھے نعمت والی جنت کے وارثوں میں شامل کردے۔

اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سد المخلصین ہیں اور آپ نے حصول جنت کی دعا کی ہے

حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کلمات کے ساتھ دعا کرتے تھے یہ متعدد کلمات ہیں ان میں یہ کلمات بھی ہیں :

میں تجھ سے جنت میں بلند درجات کا سوال کرتا ہوں آمین، اے اللہ میں تجھ سے خیر کے مبادی اور خواتم اور جو امع اور اول اور آخر کا اور ظاہر اور باطن کا سوال کرتا ہوں اور جنت میں بلند درجات کا سول کرتا ہوں آمین، اے اللہ مجھے دوزخ سے نجات دے اور دن اور رات کی مغفرت عطا کر اور جنت میں اچھا گھر عطاکر آمین، اے اللہ تجھ سے سلامتی کے ساتھ دوزخ سے نجات کا سوال کرتا ہوں اور مجھے امن کی ساتھ جنت میں داخل فرما، اے اللہ میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو میرے نفس میں اور میری سمع اور بصر میں روح میں اور میرے اخلاق میں اور میرے اوصاف میں اور میری روح میں اور میرے اخلاق میں اور میرے اوصاف میں اور میری زندگی میں وفات میں برکت عطا فرما اے اللہ میری نکیوں کو قبول فرما اور میں تجھ سے جنت میں بلند درجات کا سوال کرتا ہوں، آمین۔ (المعجم الکبیر ج 23 ص 317 ۔ 316، حافظ الہیثمی نے کہا ہے کہ المعجم الکبیر اور المعجم الاوسط کے رجال ثقہ ہیں مجمع الزوائد ج 10 ص 177)

حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہمارے ج پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اس وقت آپ نے لاٹھی پر ٹیک لگائی ہوئی تھی جب ہم نے آپ کو دیکھا تو کھڑے ہوگئے آپ نے فرمایا دعا کرتے ! آپ نے دعا کی : اے اللہ ! ہماری مغفرت فرما ہم پر رحم فرما اور ہم سے راضی ہوجا اور ہم سے قبول فرما اور ہم کو جنت میں داخل فرما اور ہم کو دوزخ سے نجات دے اور ہمارے تمام کاموں کو درست فرما۔

اور ہمارے نبی سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو بھی یہ حکم دیا ہے کہ ہم جنت فر دوس کی دعا کریں۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا اور اس نے نماز قائم کی اور رمضان کے روزے رکھے اللہ پر ( اس کے کرم سے) یہ حق ہے کہ وہ اس کو جنت میں داخل کردے خواہ اس نے الہ کی راہ میں جہاد کیا ہو یا اپنی اس زمین میں بیٹھا رہا ہو جہاں وہ پیدا ہو اہو، صحابہ نے کہا : یا رسول اللہ ! کیا ہم لوگوں کو یہ خوشخبری نہ دیں ! آپ نے فرمایا جنت میں سودرجے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے اور ہر دو درجوں میں اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین اور آسمان میں فاصلہ ہے پس تم اللہ سے سوال کرو تو اس سے فردوس کا سوال کرو کیونکہ وہ جنت کا اوسط اور جنت کا اعلی ہے اور میرا گمان ہے کہ اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے اور جنت کے دریا اس سے نکلتے ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث 2790، مسنداحمد رقم الحدیث 4800، عالم الکتب بیروت، سنن الکبری للبیہقی ج 9 ص 159، کنز العمال رقم الحدیث : 3183، مجمع الزوائد ج 10 ص 71) 

حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جنت میں سو درجے ہیں ہر درجے میں اتنا فاصلہ ہے جتنا فاصلہ زمین اور آسمان میں فاصلہ ہے اور فر دوس سب سے اعلی درجہ ہے اسی سے جنت کے چار دریا نکلتے ہیں اور اس کے اوپر عرش ہے پس جب تم اللہ سے سوال کرو تو الفردوس کا سوال کرو۔ (السنن الترمذی رقم الحدیث : 2531، مسند احمد ج 5 ص 231 ۔ 316)

ان احادیث میں واضح ہوگیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوزخ سے نجات کی اور جنت کے حصول کی دعا کی ہے اور ہمیں اس دعا کی تلقین بھی کی ہے اور آپ سیدالمخلصین ہیں، لہذا دوزخ سے نجات کی دعا کرنا اور جنت کی طلب کی دعا کرنا بھی اخلاص کا اعلی مرتبہ ہے ہم نے اس سلسلہ میں زیادہ تفصیل اس لیے کی ہے کہ ہمارے زمانہ میں ایسے جاہل صوفیاء کا شہرہ ہے جو دوزخ سے نجات اور جنت کے حصول کی دعا کو گھٹیا درجہ کی طلب کہتے ہیں اور اس کو اخلاص کے منافی شمار کرتے ہیں۔ دوزخ سے نجات اور جنت کے حصول کی دعامین اخلاص کا اعلی درجہ کی طلب کہتے ہیں اور اس طرح متحقق ہوگا کہ انسان یہ دعا کسی کو دکھانے یاسنانے کے لیے نہ کرے بلکہ یہ دعا کرے کہ دعا کرنا عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اس کے بندے اس سے دعا کریں اور وہ بندوں کے دعا کرنے سے راضی ہوتا ہے لیکن اس کے ذہن میں کسی وقت بھی یہ معنی نہ آئے کہ وہ صرف اللہ کی راضا کے لیے دعا کررہا ہے ورنہ اس کو جنت میں دخول کی کوئی غرض ہے نہ دوزخ سے نجات کی کوئی تمنا ہے اگر یہ ارادہ کرے گا تو یہ صریح کفر ہے، انسان سرتایا غرض مند اور محتاج ہے اور بےنیاز اور بےغرض صرف اللہ کی ذات ہے۔ انسان پر لازم ہے کہ وہ بندہ ہی رہے خدا نہ بنے !

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بیشک ابلیس نے کہا اے رب ! تیرے عزت و جلال کی قسم ! جب تک آدم کے بیٹوں کے جسموں میں ان کی روحیں رہیں گی میں ان کو گمراہ کرتا رہوں ج گا رب تعالیٰ نے فرمایا مجھے عزت اور جلال کی قسم ! جب تک وہ مجھے سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے میں ان کی مغفرت کرتا رہوں گا۔ 

(مسند احمدج 3 ص 41، مسند احمد رقم الحدیث : 11306، مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ حافظ حمزہ احمد زین نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے مسند احمد رقم الحدیث : 11244، دارالفکر بیروت سنن الترمذی رقم الحدیث : 2532 المستدرک ج 4 ص 261) 

صراط مستقیم کی متعدد تفاسیر 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : مجھ تک پہنچنے کا یہی سیدھا راستہ ہے۔

امام ابن جریر نے کہا یہ میری طرف لوٹنے کا راستہ ہے میں تمام لوگوں کو ان کے اعمال کی جزادوں گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ ( الفجر : ١٤) بیشک آپ کا رب خوب دیکھ رہا ہے۔

یہ اس طرح ہے جیسے کوئی شخص کسی کو ڈرانے اور دھمکانے کے لیے کہے میں تمہارے راستے پر ہوں۔ (جامع البیان جز 14 ص مطبوعہ دارالفکر بیروت 1415 ھ)

حضرت عمر بن الخطاب نے کہا یہ اس آیت کا معنی ہے یہ میرا سیدھا راستہ ہے جس پر چل کر لوگ جنت تک پہنچیں گے ایک قول یہ ہے کہ اس آیت کا معنی ہے یہ میرے ذمہ ہے کہ لوگوں کا اپنا راستہ دلائل سے بیان کروں یا یہ میرے ذمہ ہے کہ میں لوگوں کو اپنے راستہ کی توفیق اور ہدایت دوں (الجامع الاحکام القرآن جز 10 ص 24، مطبوعہ دارالفکر بیروت 1415 ھ) 

امام رازی نے کہا یہ اخلاص مجھ تک پہنچنے کا سیدھا راستہ ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 39