أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ يٰۤاِبۡلِيۡسُ مَا لَـكَ اَلَّا تَكُوۡنَ مَعَ السّٰجِدِيۡنَ ۞

ترجمہ:

فرمایا اے ابلیس تجھے کیا ہوا کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہیں دیا ؟

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فرمایا اے ابلیس ! تجھے کیا ہوا کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہیں دیا ؟ اس نے کہا میں اس بشر کو سجدہ کرنے والا نہیں ہوں جس کو تو نے بجتی ہوئی خشک مٹی سے سیاہ سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے فرمایا تو جنت سے نکل جا بیشک تو راندہ درگاہ ہے، اور بیشک تجھ پر قیامت تک لعنت ہے، اس نے کہا اے میرے رب تو نے مجھے یوم حشرتک مہلت دے۔ فرمایا بیشک تو ان میں سے ہے جن کو مہلت دی گئی ہے ،۔ معین وقت کے دن تک۔ (الحجر 37 ۔ 32) 

اللہ تعالیٰ اور شیطان کے درمیان مکالمہ کے اہم نکات 

ان آیات میں مذکورہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شیطان سے طویل کلام کیا حلا ن کہ اتنا طویل کلام قرآن مجید میں کسی نبی کے ساتھ بھی مذکور نہیں ہے اور اور اس سے شیطان کے لے بہت بڑی فضیلت ثابت ہوئی اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے لیے فضیلت تب ہوتی جب اس کے ساتھ عزت اور کرامت اور محبت اور لطف کے ساتھ کلام ہوتا اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ یہ کلام اہانت اور غضب کے ساتھ کیا ہے دوسری بحث یہ ہے کہ شیطان نے سجدہ نہ کرنے کی یہ وجہ بیان کی کہ وہ لعین حضرت آدم (علیہ السلام) سے افضل ہے کیونکہ اس کا جسم لطیف ہے اور حضرت آدم کا جسم کثیف ہے اور جسم لطیف، جسم کثیف سے افضل ہے اور وہ آگ سے بنایا گیا ہے اور حضرت آدم مٹی سے بنائے گئے ہیں اور آگ مٹی سے افضل ہے اس کا جواب ہے کہ اس نے نص کے مقابلہ میں قیاس کیا اور قیاس اس وقت کیا جاتا ہے جب نص یعنی حکم صریح نہ ہو، اس نے حشر تک کی مہلت مانگی تھی کیونکہ حشر تک کے بعد موت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کو حشرتک مہلت نہیں دی بلکہ وقت معلوم تک مہلت دی، ان تمام مباحث کی زیادہ تفصیل اور تحقیق ہم نے الاعراف : 15 ۔12 میں کی ہے وہاں ملا حظہ فرمائیں

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 32