حدیث نمبر230

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نفل پڑھ رہے تھے ۱؎ اور دروازہ آپ پر بند تھا میں آئی دروازہ کھلوایا تو آپ چلے اور میر ے لیے کھول دیا پھر اپنے مصلی کی طرف لوٹ گئے اور آپ نے ذکر کیا کہ دروازہ جانب قبلہ تھا ۲؎ (احمد،ابوداود،ترمذی)نسائی نے اس کی مثل روایت کی۔

شرح

۱؎ نفل کا ذکر بیان واقعہ کے لیے ہے کیونکہ حضور علیہ السلام فرض مسجد میں ادا کرتے تھے نہ کہ حجرہ میں،نماز ٹوٹنے نہ ٹوٹنے میں نفل و فرض کے احکام یکساں ہیں۔

۲؎ لہذا اس دروازہ کھولنے میں نہ آپ کا سینہ قبلہ سے پھرا نہ آپ کو عمل کثیر کرنا پڑا،ایک قدم بڑھا کر ایک ہاتھ سے کنڈی کھولی پھر ایک قدم ہٹاکر نماز کی جگہ پہنچ گئے جیسے اب بھی جب امام یا مقتدی کو آگے پیچھے ہٹایا جاتا ہے وہ ایک قدم سے ہٹ سکتے ہیں۔