حدیث نمبر225

روایت ہے حضرت مطرف ابن عبداﷲ ابن شخیر سے ۱؎ وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کے پیٹ میں ہانڈی کی سی کھولن تھی یعنی رو رہے تھے ۲؎ اور ایک روایت میں ہے فرماتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا حالانکہ آپ کے سینے میں رونے سے چکی کی سی گڑگڑاہٹ تھی۔(احمد)اور نسائی نے پہلی روایت اور ابوداؤد نے دوسری روایت کی۔

شرح

۱؎ مطرف تابعی ہیں اور ان کے والد عبداﷲ ابن شخیر صحابی ان کا پورا نام یہ ہے مطرف ابن عبداﷲ ابن عامر ابن صعصعہ شخیر۔

۲؎ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ رونا خوف خدایا عشق الٰہی میں تھا یا اپنی امت کی شفاعت میں جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ حضور علیہ السلام تہجد پڑھ رہے تھے اور آیت اِنْ تُعَذِّبُہَمْالخ بار بار پڑھتے تھے اور روتے تھے یہ رونا رب تعالٰی کو بہت پیارا ہے،اب بھی جو نمازی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق یا خدا کے خوف سے نماز میں روئے تو نماز بڑی مقبول ہوتی ہے خصوصًا نماز تہجد،ہاں دنیوی تکلیف سے نماز میں رونا منع ہے اور اگر اس میں تین حرف ادا ہوگئے تو نماز فاسد ہے۔