حدیث نمبر228

روایت ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنا دوزخیوں کا آرام ہے ۱؎(شرح سنہ)

شرح

۱؎ یہ حدیث اگرچہ موقوف ہے مگر مرفوع کے حکم میں ہے کیونکہ یہ چیز عقل سے وراءہے۔مطلب یہ ہے کہ دوزخی جب بہت تھک جایا کریں گے تو کوکھ پر ہاتھ رکھا کریں گے ورنہ دوزخ میں آرام کہاں۔اسی جگہ مرقاۃ نے فرمایا کہ شیطان جب زمین پر آیا تو کوکھ پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا اب بھی کوکھ پر ہاتھ رکھ کر ہی چلتا ہے۔لمعات میں ہے کہ یہ یہودیوں کا عمل ہے۔خیال رہے کہ حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنا جہنمیوں کا طریقہ ہے کیونکہ دوزخی نماز کہا ں پڑھیں گے بلکہ مطلب یہ ہے کہ نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنا سخت برا ہے کہ یہ طریقہ دوزخیوں کا ہے جنتی ہوکر دوزخیوں سے مشابہت کیوں کرتا ہے۔خیال رہے کہ نماز کے علاوہ بھی دونوں کوکھوں یا ایک کوکھ پر رکھنا یا پیٹھ کے پیچھے ہاتھ باندھنا بلاضرورت منع ہے یا ہاتھ کھلے رکھے یا نمازی کی طرح آگے باندھے۔