أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نَبِّئۡ عِبَادِىۡۤ اَنِّىۡۤ اَنَا الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُۙ ۞

ترجمہ:

آپ میرے بندوں کو بتادیں کہ بیشک میں بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہوں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ میرے بندوں کو بتادیں کہ بیشک میں بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہوں۔ اور یہ کہ میرا عذاب ہی دردناک عذاب ہے۔ ( الحجر :50 ۔ 49) 

اللہ تعالیٰ کی معفرت اور اس کے عذاب دونوں کا ملحوظ رکھنا ضروری ہے 

اللہ تعالیٰ کے بندوں کی دو قسمیں ہیں متقی اور غیر متقی پہلے اللہ تعالیٰ نے متقین کا ذکر فرمایا تھا اس آیت میں اللہ عزوجل نے غیر متقین کا ذکر فرمایا ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا خاص لطف و کرم یہ ہے کہ بندوں کی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے کہ آپ میرے بندوں کی بتادیں جیسے اللہ تعالیٰ نے معراج کے ذکر میں فرمایا :

سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ ( بنو اسرائیل : ١)

سبحان ہے وہ ذات جو رات کے وقت اپنے بندے کو لے گیا۔

سو یہ اضافت تشریف اور تکریم کے لیے ہے اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو تاکید ات سے مزین کر کے بیان فرمایا ہے گو یا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے گویا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ میرے بندوں کو بتادیں کہ میں نے اپنے کرم سے اپنے اوپر اپنے بندوں کی مغفرت کو لازم کرلیا ہے اور چونکہ یہ خدشہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کی وسعت کا سن کر بندے گناہوں پر دلیر نہ ہوجائیں تو اس کے ساتھ ہی فرمایا اور یہ کہ میرا عذاب ہی درناک عذاب ہے یعنی لوگ عذاب کے ڈر سے گناہوں سے باز رہیں اور اگر شامت نفس سے کوئی گناہ ہوجائے تو بھر اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کی امید رکھیں اور مایوس نہ ہوں اور ایمان نہ ہوں اور ایمان خوف اور امید کی درمیانی کیفیت کا نام ہے اور اس کا سلسلہ میں بہت احادیث ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس دن اللہ تعالیٰ نے رحمت کو پیدا کیا تو سو رحمتیں پیدا کیں ننانوے رحمتیں اس نے اپنے پاس رکھ لیں اور تمام مخلوق کے پاس ایک رحمت بھیجی اگر کافر یہ جان لیتا کہ اللہ کے پاس کل کتنی رحمت ہے تو وہ جنت سے مایوس نہ ہوتا اور اگر مومن یہ جان لیتا اللہ کے پاس کل کتنا عذاب ہے تو وہ دوزخ سے بےخوف نہ ہوتا ( صحیح البخاری رقم الحدیث :6469، صحیح مسلم رقم الحدیث 2756، سنن الترمذی رقم الحدیث 3541، مسند احمد رقم الحدیث : 8396، عالم الکتب بیروت)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرے تے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر مومن کو یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ کے پاس کتنا عذاب ہے تو کوئی شخص جنت کی خواہش نہ کرے او اگر کافریہ جان لیے کہ اللہ کے پاس کتنی رحمت ہے تو کوئی شخص جنت سے مایوس نہ ہو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 5999 صحیح مسلم رقم الحدیث : 2755) امام جریر اپنی سند کے ساتھ قتادہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر بندہ کو یہ معلوم ہوجائے ے کہ اللہ تعالیٰ کس قدر گناہوں کو معاف فرماتا ہے تو کوئی بندہ حرام کام سے نہ بچے اور اگر وہ یہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کس قدر عذاب دے گا تو وہ غم وغصہ سے اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالے۔ (جامع البیان رقم الحدیث : 16036، تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : 12047) 

امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باب بنو ہاشیب ہے سے تشریف لائے آپ نے مسلمانوں کے ہنستے ہوئے دیکھا تو فرمایا میں تمہیں ہنستے ہوئے کیوں دیکھ رہا ہوں اور چلے گئے پھر وہ دونارہ الٹے پیر واپس آئے اور فرمایا ابھی میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے تھے انہوں نے کہا یامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آپ میرے بندوں کو کیوں مایوس کررہے ہیں ان کو بتائیں کہ بیشک میں بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہوں اور بیشک میرا عذاب ہی درد ناک عذاب ہے۔ (جامع البیان رقم الحدیث : 16037، تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 612 الدار المنشور ج 5 س 86 مسند البزار رقم الحدیث : 2216)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 49