أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالۡجَـآنَّ خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ‏ ۞

ترجمہ:

اور اس سے پہلے جنات کو بغیر دھوئیں کی آگ سے پیدا کیا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس سے پہلے جنات کو بغیر دھوئیں کی آگ سے پیدا کیا (الحجر :27) 

مشکل الفاظ ( الجان اور نارالسموم) کے معنی :

امام خلیل بن احمد فراہیدی متوفی 175 ھ لکھتے ہیں :

الجن الجان کی اولاد کی جماعت، اس کی جمع الجنبتہ اور الجنان ہے۔ ان کو جن اس لیے کہتے ہیں کہ یہ لوگوں سے چھپے ہوئے ہوتے ہیں اور لوگ ان کو نہیں دیکھ سکتے، اور الجنان جنات کا باپ ہے جس کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے پھر اس سے اس کی نسل کو پیدا کیا گیا اور الجنان سفید رنگ کے سانپ کو بھی کہتے ہیں قرآن مجید میں ہے

: وَأَنْ أَلْقِ عَصَاكَ فَلَمَّا رَآهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَانٌّ وَلَّى مُدْبِرًا وَلَمْ يُعَقِّبْ ( القصص : ٣١) اور یہ کہ آپ اپنا عصاب ڈال دیں پھر جب موسیٰ نے اسے لہراتے ہوئے دیکھا گویا کہ وہ سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر چل دیئے اور پیچھے مڑکر (بھی) نہ دیکھا۔ (کتاب العین ج 1 ص 323، مطبوعہ ایران 1414 ھ)

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی 502 ھ لکھتے ہیں : جن کی دو قسمیں ہیں ایک قسم روحا نین ہے یہ انسان کے تمام حواس سے مخفی ہوتے ہیں اس اعتبار سے جن میں ملائکہ اور شیاطین دونوں داخل ہیں لہذا ہر فرشتہ جن ہے لیکن ہر جن فرشتہ نہیں ہے اس معنی کی پناء پر ابو صالح نے کہا تمام فرشتے جن ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ روحانین کی تین قسمیں ہیں ان میں سے خیار ( نیک) فرشتے ہیں اور اشرار ( بد) شیاطین ہیں اور راوساط میں اور شرار دونوں ہیں اور ان ہی کو جن کہتے ہیں اور اس کی دلیل یہ آیت ہے اللہ تعالیٰ نے جنات کا یہ قول نقل فرمایا :

وَأَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُونَ وَمِنَّا الْقَاسِطُونَ فَمَنْ أَسْلَمَ فَأُولَئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا (١٤) وَأَمَّا الْقَاسِطُونَ فَكَانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَبًا ( الجن : ١٥) اور بیشک ہم میں میں سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے ہیں اور اللہ کی نافرمانی کرنے والے ہیں سو جس نے اطاعت کی اس نے نیکی کا راستہ تلاش کرلیا اور جس نے نافرمانی کی تو وہ جہنم کا ایندھن ہیں۔ اور الجنان جن کی ایک قسم ہے۔ (المفردات ج 1 ص 128 ۔ 129) مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ۔ 1418 ھ) ۔

علامہ مبارک بن محمد ابن الا ثیر الجزری المتوفی 606 ھ لکھتے ہیں۔

الجن اصل میں مخفی چیز کو کہتے ہیں جنات کو بھی اس لیے کہتے ہیں کہ وہ انسان کی آنکھوں سے مخفی ہوتے ہیں جنت کو بھی اس لیے کہتے ہیں کہ وہ گھنے درختوں سے پوشیدہ ہے اور عالم غیب سے متعلق ہونے کی وجہ سے مخفی ہے ماں کے پیت میں جو بچہ ہوتا ہے اس کو جنین کہتے ہیں کیونکہ وہ بھی مخفی ہوتا ہے قبر کو جنن کہتے ہیں کیونہ اس میں مردہ پوشیدہ ہوتا ہے النجان شیطان کو کہتے ہیں وہ بھی ہماری نگا ہوں سے مخفی ہے اور الجنان سانپ کو کہتے ہیں وہ بھی بلوں اور دشمن کے حملوں کے لیے ساتر ہے، الجنان دل کو کہتے ہیں وہ بھی سینہ میں پوشیدہ ہے اور ڈھال کو المجن کہتے ہیں کیونکہ وہ دشمن کے حملو کے لے ساتے ہے۔ النہایہ ج 1 ص 296 ۔ 297، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت 1418 ھ) ۔

قتادہ نے بیان کیا کہ الجنان سے مراد ابلیس ہے اس کو حضرت آدم (علیہ السلام) سے پہلے پیدا کیا گیا تھا، حضرت آدم (علیہ السلام) کی کرامت کو دیکھ کر اس دشمن خدا نے حسد کیا اور کہا میں آگ سے بنا ہوں اور یہ مٹی سے۔ (جامع البیان رقم الحدیث 15995، مطبوعہ دارالفکر بیروت 1415 ھ)

امام رازی متوفی 606 ھ لکھا ہے الجنا سے مراد ابلیس ہے اور جنات کا پاب ہے اور یہی اکثرین کا قول ہے۔ تفسیر ج 7 ص 138، مطبوعہ دارالفکر بیروت 1415 ھ)

امام ابو الفرج عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی 597 ھ لکھتے ہیں : الجنان کے متعلق تین اقوال ہیں :

_1) عکرمہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ الجان جنات میں مسخ کیا ہوا ہے جیسے انسانوں میں بندرف اور خنزیر مسخ کیے ہوئے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ یہ قول صحیح نہیں ہے اور حدیث صحیح کے خلاف ہے۔ (سعیدی غفرلہ) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مسخ شدہ انسانوں کی نسل جاری نہیں کی اور بندر اور خنزیر اس سے پہلے بھی ہوتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ ! موجودہ بندر اور خنزیر کیا ان ہی کی نسل سے ہیں جن کو مسخ کیا گیا تھا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ عزوجل جس قوم کو ہلا کرتا ہے یا جس قوم کو عذاب دیتا ہے تو اس کی نسل جاری نہیں کرتا اور بندر اور خنزیر تو ان سے پہلے بھی ہوتے تھے۔ صحیح مسلم رقم الحدیث : 2663، الرقم المسلسل 6648، 6646)

(2) ابو صالح اور ضحاک نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ الجان جنات کا پاب ہے اور یہ جنات شیاطین نہیں ہیں اور شیاطین ابلیس کی اولاد ہیں اور ابلیس کے ساتھ ہی مریں گے اور جنات مرتے رہتے ہیں ان میں مومن بھی ہوتے ہیں اور کافر بھی۔

(3) حسن، عطا، قتادہ اور مقاتل نے کہا ہے کہ الجان ابلیس ہے اگر یہ کہا جائے کیا ابو ابلیس نہیں ہے تو اس کے دو جواب ہیں پہلا جواب یہ ہے کہ ابو الجن ابلیس ہی ہے اور دوسر جواب یہ ہے کہ الجاب ابو الجن ہے اور ابلیس ابو شیاطین ہے۔ (زادا لمسیر ج 4 س 399، مطبوعہ المکتب الا اسلامی بیروت 1407 ھ) امام زاری اور امام جریر کی طرح علامہ قرطبی کی بھی یہی تحقیق ہے کہ الجان سے مراد ابلیس ہے۔ (الجامع لا حکام القرآن جز 10 ص مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1415 ھ) 

نارالسموم : نارا السموم کا معنی ہے بغیر دھوئیں کی آگ۔ ضحاک نے کہا الجان کو بغیر دھوئیں کی آگ کے شعلے سے پیدا کیا گیا۔ 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ابلیس فرشتوں کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ سے تھا جس کا نام الجن تھا، ان کو بغیر دھوئیں کی آگ سے فرشتون سے پیدا کیا گیا اور کہا قرآن مجید میں جن جنات کا ذکر کیا گیا ہے ان کی آگ کے شعلوں سے پیدا کیا گیا ہے

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے تھے کہ یہ سموم ( دنیاوی آگ) اس سموم کے ستر حصو میں سے ایک حصہ ہے جس سے الجان کو پیدا کیا گیا ہے پھر اس آیت کی تلاوت کی۔

وہب بن منبہ سے جنات کے متعلق سوال کیا گیا کہ آیا وہ کھاتے ہیں یا پیتے ہیں یا مرتے ہیں یا نکاح کرتے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا جنات کی کئی قسمیں ہیں خالص جن ہیں وہ ہوا ہیں کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں، نہ مرتے ہی‏، اور نہ نکاح کرتے ہیں اور نہ بچے جنت ہیں اور ان کی ایک قسم وہ ہے جو کھاتے ہیں اور پیتے ہیں اور نکاح کرتے ہیں اور مرتے ہیں۔ (جامع البیان جز 14 ص 41، مطبوعہ دارالفکر المستدرک ج 2 ص 474)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ہے اور جنات کو سیاہ آگ کے شعلہ سے پیدا کیا گیا اور آدم کو اس چیز سے پیدا کیا ہے جس کا تم سے بیان کیا گیا ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث 2996، الر قم المسلسل 7361)

اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ الجان کو حضرت آدم سے پہلے پیدا کیا گیا تھا اس سلسلہ میں یہ حدیث ہے : حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے جنت میں حضرت آدم کی صورت بنائی تو جب تک اللہ نے چاہا حضرت آدم کے پتلے کو پڑارہنے دیا، ابلیس نے ان کے چاروں طرف گھومناشروع کردیا وہ غور کر رہا تھا کہ یہ کیا چیز ہے، جب اس نے دیکھا کہ یہ اندر کھو کھلے ہیں تو اس نے جان لیا کہ یہ ایسی مخلوق پیدا کی گئی ہے جو اپنے آپ کو غضب اور شہوت سے روکنے پر قادر نہیں ہوگی۔ صحیح مسلم رقم الحدیث المسلسل 6526)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 27