أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰۤئِكَةِ اِنِّىۡ خَالـِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ‏ ۞

ترجمہ:

اور یاد کیجئے جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا میں بجتی ہوئ خشک مٹی سے سیاہ سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر کو پیدا کرنے والا ہوں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور یاد کیجئے جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا میں بجتی ہوئی خشک مٹی سے سیارہ سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر کو پیدا کرنے والا ہوں سو جب میں اس کو انسانی صورت) میں ڈھال لوں اور اس میں اپنی ( پسندیدہ روح بھونک دوں تو تم سب اس کے لیے سجدہ میں گرجا نا (الحجر : 29 ۔ 28) 

مشکل الفاظ ( بشر اور روھ) کے معانی 

امام خلیل بن احمد فراہیدی متوفی 175 ھ لکھتے ہیں : البشر : ایک انسان کے چہرے اور جسم کی اوپر کھال کو بشرہ کہتے ہیں۔ (کتاب العین ج 1 ص 164، ایران، 1414 ھ)

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی 502 ھ لکھتے ہیں : انساب کی کھال کے ظاہری حصہ کو بشرہ اور باطنی حصہ کو ادمتہ کہتے ہیں، انسان کو اس کی ظاہری کھال کے اعتبار سے بشر سے تعبیر کیا جاتا ہے اس کے بر خلاف حیوانات کی کھال کے اوپر اون یابال ہوتے ہیں قرآن مجید میں جس جگہ بھی انسان کے جسم اور اس کے ظاہر لحاظ کیا گیا اس کو بشر کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے، مثلا قرآن مجید میں ہے :

وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرًا (الفرقان : ٥٤) اور وہی ہے جس نے پانی سے بشر کو پیدا کیا۔

إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ طِينٍ ( ص : ٧١) بیشک میں گیلی مٹی (گارے) سے بشر بنانے والا ہوں۔

إِنْ هَذَا إِلا قَوْلُ الْبَشَرِ (المدثر : ٢٥) یہ تو صرف بشر کا قول ہے۔

فَقَالُوا أَبَشَرًا مِنَّا وَاحِدًا نَتَّبِعُهُ إِنَّا إِذًا لَفِي ضَلالٍ وَسُعُرٍ (القمر : ٢٤) سو انہوں نے کہا کیا ہم ہم میں سے ایک بشر کی پیروی کریں پھر تو ہم ضرور گمراہی اور عذاب میں ہوں گے۔

ذَلِكَ بِأَنَّهُ كَانَتْ تَأْتِيهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَقَالُوا أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا (اتغابن : ٦) تو انہوں نے کہا کیا بشر ہمیں ہدایت دیں گے ! فَقَالُوا أَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا ( المومنون : ٤٧)

کیا ہم اپنے جیسے دو بشروں پر ایمان لائیں ! اور اللہ تعالیٰ نے اس پر متنبہ کرنے کے لیے کہ آپ بشر ہونے میں دیگر انسانوں کو مساوی ہیں اور عظیم علوم اور معارف میں غیر معمولی حسین اعمال میں ان پر فضیلت رکھتے ہیں اور وحی الہی کے نزول میں ان سے متمیمیز اور ممتاز ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ کہلوا یا :؂قُ

لْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ ( الکھف : ١١٠) آپ کہئے کہ میں محض تمہاری مثل بشر ہوں اور مجھ پر یہ وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا اور میرا معبود ایک ہی ہے۔ المفرادت ج 1 ص 60، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ البار مکہ مکرمہ 1418 ھ)

تحقیقی یہ ہے کہ کسی وجود وصفت میں کوئی بشر آپ کی مثل نہیں ہے آپ سے جو مماثلت ہے وہ صرف عدمی وصف ہیں یعنی جس طرح ہم خدا انہیں ہیں اسی طرح آپ بھی خدا نہیں ہیں۔

امام خلیل بن احمد فراہیدی متوفی 175 ھ لکھتے ہیں : روح اس جان کو کہتے ہیں جس کی وجہ سے بدن زندہ ہے کہا جاتا ہے اس کی روح نکل گئی یعنی اس کی جان نکل گئی۔ (کتاب العین ج 1 ص 725، مطبوعہ ایران 1414 ھ)

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی لکھتے ہیں : روح (راء پر پیش اور روھ ( راء پر زبر) اصل میں ہیں اور روح کا سانس کا اسم بنادیا گیا ہے کیونکہ سانس روح کا جز ہے اور اس کی جز کا نام بنایا ہے جس کی و جہ سے حیات حرکت نفع کا حصول اور ضرر کو دور کیا جاتا ہے قرآن مجید میں اللہ نے روح کی اپنی طرف اضافت کی ہے :

فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ ( الحجر : ٢٩) اور میں نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔

یہ وہ اضافت ہے جو اپنی ملکیت کی طرف کی جاتی ہے اور روح کو اپنی طرف اضافت اس کی تعظیم اور تکریم کی وجہ سے کی ہے جیسا کہ ان آیتوں میں ہے وطھر بیتی (الحج : 26) اور میرے گھر کو پاک رکھنا اور یاعبادی (العنکبوت : 156) ے میرے بندو ! ان آیتوں میں اللہ نے بیت اور بندوں کے شرف اور ان کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لیے اپنی طرف اضافت کی ہے کہ یہ میرا گھر ہے اور یہ میرے بندے ہیں معزز فرشتوں اور حضرت جبرائیل کو بھی قرآن مجید میں روح فرمایا ہے : يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلائِكَةُ صَفًّا ( النباء : ٣٨) جس دن جبریل اور فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی روح فرمایا ہے کیونکہ وہ مرو وں کو زندہ کرتے تھے اور پر بدے بنا کر ان میں پھو نک مارتے تو ان میں جاب پڑجاتی تھی ارشاد ہوتا ہے :

يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ وَلا تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلا الْحَقَّ إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ (النساء : ١٧١)

عیسیٰ بن مریم صرف اللہ کے رسول ہیں ( اس کے بیٹے نہیں ہیں اور اس کا ہو کلمہ ہیں جس کو اللہ نے مریم کی طرف القاء کیا اور اس کی طرف سے روح ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو بھی روح فرمایا ہے کیونکہ وہ حیات اخروی کا سبب ہے فرمایا :

وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا (الشوری : ٥٢) اسی طرح ہم نے آپ کی طرف روح کی وحی فرمائی اپنے حکم سے۔ (المفردات ج 1 271، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، 1418 ھ)

علامہ مجدلدین المبارک بن محمد ابن الا ثیر الجزری المتوفی 606 ھ لکھتے ہیں : روح کا ذکر حدیث میں بھی اسی طرح باربار آیا ہے جس طرح قرآن مجید میں روح کا ذکر باربار آیا ہے اور اس کا متعدد معانی پر اطلاق ہے لیکن اس کا غالب اطلاق اس چیز پر ہوتا ہے جس کی وجہ سے جسم قائم ہوتا ہے اور اور جس کی وجہ سے جسم کی حیات ہوتی ہے اور روح کا اطلاق قرآن مجید وحی رحمت اور حضرت جبریل پر بھی کیا گیا ہے حدیث میں ہے الملائکتہ س الروحا نیون اس سے مراد یہ ہے کہ فرشتے اجسام لطیفہ ہیں ان کا بصر ادراک نہیں کرسکتی۔ ( النہایہ ج 2 ص 247 ۔ 246 مطبو عہ دارالکتب العلمیہ بیروت 1418 ھ) ۔

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی متوفی 855 ھ) لکھتے ہیں :

روح کی مشہور تعریف وہ ہے جو امام اشعری نے کی ہے کہ روح سانس ہے جو اندر آرہا ہے اور باہر جارہا ہے قاضی ابوبکر نے کہا ہے اس میں تر دد ہے کہ روح سانس ہے یاحیات ہے ایک قول یہ ہے کہ روح ایسا جسم ہے جو اجسام ظاہرہ اور اعضاء ظاہر میں شریک ہے ایک قول یہ ہے کہ ایک جسم لطیف ہے جس کو اللہ سبحانہ نے پیدا کیا ہے اور اس نے یہ عادت جاری کردی ہے کہ اس کے بغیر جسم میں حیات نہیں ہوتی اور جب اللہ جسم کی موت کا ارادہ فرماتا ہے تو روح کو اس جسم سے معدوم کردیتا ہے اور بعض علماء نے کہا کہ روح خون ہے اور روح کی تعریف میں ستر قول ذکر کیے گئے ہیں۔ اس میں اختلاف ہے کہ آیاروح اور نفس ایک چیز ہیں یا متغائر ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ دونوں متغائر ہیں کیونکہ جفس انسانیہ وہ چیز ہے جس کی طرف ہر انسان متکلم کے صیغہ سے اشارہ کرتا ہے مثلا اپنے آپ کو میں کہتا ہے اور اکثر فلاسفہ نے ان دونوں میں فرق نہیں کیا انہوں نے کہا نفس وہ لطیف جو ہر بخاری ہے (اسٹیم، بھاپ) جو قوت حیات حس اور حرکت ارادیہ کا حامل ہے اور اسی کو وہ روح حیوانی کہتے ہیں اور یہی نفس ناطقہ اور بدن میں واسطہ ہے امام غزالی نے کہا ہے کہ روح وہ جوہر ہے جو حادث ہے قائم بنفسہ ہے اور وہ کسی جگہ میں نہیں ہے وہ نہ جسم میں داخل ہے نہ جسم سے خارج ہے اور نہ جسم سے متصل ہے اور جہ جسم سے منفصل ہے ایک قول یہ ہے کہ روح عرض ہے اور ایک قول یہ ہے کہ روح جسم کی صورت کے موافق ہے اس کی دو آنکھیں ہیں، دو کان ہیں، دوہاتھ ہیں اور دو پیر ہیں اور وہ صورت جسم میں داخل ہے اور اس کا ہر جز عضو کا مقابل ہے ایک اور قول یہ ہے کہ روح ایک جسم لطیف ہے جس کا جسم میں اس طرح حلول ہے جس طرح گلاب کے پانی میں حلول ہوتا ہے اور آگ کا نگارے میں حلول ہوتا ہے اور اہل سنت کے جمہور متکلمین کا اسی تعریف پر اعتماد ہے ( عمدہ القاری جز 2 ص 201 مطبوعہ ادارہ الطباعتہ المنیر یہ 1348)

عللامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی لکھتے ہیں :

روح جسم لطیف ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ عادت جاری کردی ہے کہ جب وہ بدن میں ہو تو اللہ تعالیٰ بدن میں حیات پیدا کردیتا ہے اور ہم نے اپنی کتاب التذکرہ میں احادیث ذکر کی ہیں جو اس پر دلالت کرتی ہیں کہ روح جسم لطیف ہے او یہ کہ نفس اور روح ایک ہی چیز کے دونام ہیں (الجامع الاحکام القرآن جز 10 ص 23 مطبوعہ دارالفکر بیروت 1415 ھ) 

فرشتوں کے سجدہ کی کیفیت 

اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدم کو سجدہ کریں اور یہ تعظیم اور تکریم کا سجدہ تھا عبادت نہ تھا اور اللہ تعالیٰ مالک ہے وہ جس کا چاہے فضلیت عطا فرمائے سو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو فرشتوں پر فضیلت عطا فرمائی اور قفال نے یہ کہا ہے کہ کہ فرشتے حضرت آدم (علیہ السلام) سے افضل تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان سے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرواکر ان کو امتحان اور آزمائش میں ڈالا اور اس میں ان کے لیے بہت عظیم ثواب رکھا اور یہ معتزلہ کا مذہب ہے اور ایک قول یہ ہے کہ فرشتوں کو یہ حکم دیا تھا کو کہ وہ حضرت آدم کی طرف منہ کر کے اللہ کو سجدہ کریں اور حضرت آدم (علیہ السلام) ان کے لیے بہ منز لہ قبلہ تھے۔ 

سجدہ کا لغو اور شرعی معنی اور اس کی فضیلت 

علامہ راغب اصفہانی نے لکھا ہے سجدہ اصل میں تذلل کا اظہار ہے اور اللہ کے سامنے اپنے اختیار سے عبادت اور تذ اللہ کا ظہار کرنا یہ سجدہ ہے۔ (المفردات ج 1 ص 295)

اور علا مہ ابن اثیر الجزری نے لکھا ہے سجدہ معنی ہے سر جھانا اور کسی کے سامنے جھکنا اور اظہار تذلل کرنا اور سجدہ صلاہ کا معنی ہے پیشانی زمین پر رکھنا اور اس سے بڑھ کر خضوع اور تذلل نہیں ہے ( النہایہ ج 2 ص 309 ۔ 308)

علامہ الحضکفی نے لکھا ہے کہ سجدہ پیشانی اور قدموں کے ساتھ ہے اور ایک انگلی کا ٹکا نا شرط ہے۔ علامہ شامی نے لکھا ہے کہ لغت میں سجدہ کا معنی ہے خضوع یعنی تواضع اور عاجزی کرنا جھکنا سر جھکا نا (قاموس) اور مغرب میں لکھا ہے زمین پر پیشانی رکھنا اور البحر الر ائق میں مذ کور ہے سجدہ کی حقیقت یہ ہے کہ تعظیم کے ساتھ چہرہ کا بعض حصہ زمین پر رکھا جائے، اس میں ناک کا رکھنا اور رخسار اور ٹھوڑی کا رکھنا خارج ہے اگر کوئی شخص سجدہ میں دو نوں پیر اٹھا کرلے تو یہ تعظیم کے بجائے لہو ولعب کے زیادہ مشابہ ہے۔ _ردالمحتارج 2 ص 119، بیروت 1419 ھ)

علامہ المرغینانی نے لکھا ہے کہ ناک اور پیشانی پر سجدہ کرے کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر مواظبت کی ہے (حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ بارش ہو رہی ہے تھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد میں نماز پڑ ھائی اور میں نے مٹی اور پانی کے نشان نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیشانی اور ناک پر دیکھے۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث :813،

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے نماز میں اپنی پیشانی اور ناک زمین پر نہیں لگائی اس کی نماز جائز نہیں، المعجم الکبیر رقم الحدیث : 1917) اور اگر پیشانی اور ناک میں سے کسی ایک پر اقتصاد کرلیا تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک جا ئز ہے اور امام ابو یوسف اور امام محمد نے یہ کہا ہے کہ کہ سجدہ میں بغیر عذر کے ناک پر اقتصاد کرنا جا ئز نہیں ہے کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا ہے اور آپ نے ان اعضاء میں پیشانی کو شمار کیا ہے، (صحیح البخاری ررقم الحدیث : 8) اور اما ابوحنیفہ کی دلیل کہ چہرے کے بعض اجزاء زمین پر رکھنے سے سجدہ ادا ہوجا تا ہے اور سجدہ ہی کا حکم دیا گیا ہے البتہ ٹھو ڑی اور رخسار کا رکھبا سجدہ سے بالا اجماع خارج ہے (ہدایہ اولین ص 108 مکتبہ شرکت علیمہ ملتان) 

سجدہ کی فضیلت حدیث میں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسو اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فر یا بندہ سب سے زیادہ اپنے رب کے قریب سجدہ میں ہوتا ہے سو تم سجدہ میں بکثرت دعا کیا کروں۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث : 482، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : 875، سنن النسائی رقم الحدیث :1137)

تبیان القرآن- سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 28