أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنَّ جَهَـنَّمَ لَمَوۡعِدُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اور بیشک ان سب کے وعدوں کی جگہ جہنم ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک ان سب کے وعدہ کی جگہ جہنم ہے۔ اس کے سات دروازے ہیں ہر دروازہ کے لیے ان گمراہوں میں سے تقسیم کیا ہوا حصہ ہے (الحجر : 44 ۔ 43) 

جہنم کے دروازے اور ان میں عذاب یافتگان 

امام عبدالرحمن بن محمد بن ادریس ابن ابی حاتم متوفی 327 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے اس آیت کی تفیسر میں فرمایا وہ سات دروازے یہ ہے جہنم، السعیر، لظی، الحطمہ، سقر، الھاویہ، اور یہ سب سے نچلا طبقہ ہے۔ 

قتادہ نے کہا یہ ان کے اعمال کے اعتبار سے ان کی منازل ہیں

اعمش نے کہا جہنم کی ابو واب کے نام یہ ہیں۔ الحطمہ، الھاویہ لظی، سقر، الجحیم السعیر اور جھنم،

حسن نے کہا کہ ہر فریق کے لیے جہنم کا ایک طبقہ ہے۔

ضحاک نے کہا ایک دروازہ یہود کے لیے ایک دروازہ نصاری کے لیے ہے ایک دروازہ الصابئین کے لیے ہے اور ایک دروازہ مجوس کے لیے ہے اور ایک دروزہ مشرکین کے لیے ہے جو کفار عرب ہیں اور ایک دروازہ منافقین کے لیے ہے اور ایک دروازہ اہل توحید کے لیے ہے اور اہل توحید کے لیے جو نجات کی تو قع دوسروں کے لیے بالکل نہیں ہے۔

حضرت سمرہ بن جندب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا بعض اہل دوزخ ایسے ہوں گے جن کے ٹخنوں تک آگ پہنچے گی اور بعض کے کمر بند تک آگ پہنچے کی اور بعض کی ہنسلی تک آگ پہنچے گی ان کے اعمال کے اعتبار سے ان کی منازل ہوں گی یہ اس آیت کی تفسیر ہے ہر دروازہ کے اوپر آگ کے ستر ہزار شامیانے ہیں اور ہر شا میانے میں ستر ہزار خیمے ہیں اور ہر خیمے میں آگ کے ستر ہزار تنور ہیں اور ہر تنور میں ستر ہزار آگ کی کھڑ کیا ہے اور ہر کھڑکی میں آگ کی ستر ہزار چٹانیں ہیں اور ہر چٹان کے اوپر آگ کے ستر ہزار پتھر ہیں اور ہر پتھر کے اوپر آگ کے ستر ہزار بچھو ہیں اور ہر بچھو کی آگ کی ستر ہزار دمیں ہیں اور ہر دم میں ستر ہزار ہڈیاں ہیں اور ہر بڈی میں ستر ہزار زہر کے ڈنک ہیں اور ستر ہزار آگ بھرکانے والے ہیں آپ نے فرمایا جو شخص سب سے پہلے جہنم میں داخل ہوگا وہ دروازے پر چار لا کھ جہنم کے پہرہ دار دیکھے گا ان کے چہرے سیاہ ہوں گے ان کے کھلے ہوئے مونہوں سے ڈاڑھیں دکھائی دے رہی ہوں گی ان کے دو لوں سے رحمت نکالی گئی ہوگی ان میں سے کسی کے دل میں ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی رحم نہیں ہوگا۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج 7 2266 ۔ 2265، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ 1417 ھ)

حضرت علی (رض) نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا جہنم کے دوروازے ایک دوسرے کے اوپر تہہ بہ تہہ ہیں آپ نے ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کے اوپر رکھ کر بتایا ( جامع البیان رقم الحدیث 16014، مطبوعہ دارالفکر بیروت 1415 ھ) 

اکثر مفسرین کا مختار یہ ہے کہ جہنم کے سب سے اوپر کے طبقہ میں اسید نامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کے گنہ گار ہوں گا یہ طبقہ خالی ہوجائے گا اور اس کے خالی دروازے کھڑ کھراتے رہیں گے، پھر دوسرا طبقہ لظی ہے پھر الحطمہ پھر سعیر پھر سقر، پھر الجحیم پھر الحاویہ ضحاک نے کہا سب سے اوپر طبقہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کے گنہگار ہیں دوسرے میں نصاری تیسرے میں یہود چوتھے میں الصابؤن پانچویں میں المجوس چھٹے میں مشرکین عرب ساتویں میں منافقین آل فرعون اور اہل مائدہ کے کافرین۔

حضرت انس بن مالک (رض) نے سات حصوں کی تفسیر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے کہ جہنم کے سات حصوں میں ایک حصہ ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ سے غافل ہیں ایک حصہ ان لوگوں کے لیے جو اپنی شہوت کو اللہ تعالیٰ کے احکام پر ترجیح دیتے ہیں ایک حصہ ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے غیط کو اللہ کے غیظ کے مقابلہ میں زیادہ قرار دیتے ہیں ایک حصہ ان لوگو کے لیے ہے جو اپنے حصہ کی رغبت کو اللہ کے مقابلہ میں ترجیح دیتے ہیں اور ایک حصہ ان لوگوں کے ہے جو اللہ کے سامنے سرکشی کرتے ہیں۔

ابو عبداللہ حلیمی نے کہا اگر یہ حدیث ثابت ہو تو مشرکین سے مراد وہ لوگ ہیں جو دو خدا مانتے ہیں اور رشک کرنے والوں سے وہ لوگ مراد ہیں جو یہ پتا نہیں کہ ان کا کوئی خدا ہے یا نہیں اور غافلین سے مراد وہ لوگ ہیں جو مطلقا خدا کا نکار کرتے ہیں جو دہریے ہیں اور اللہ کے مقابلہ میں اپنی شہوت کو ترجیح دینے والے لوگ ہیں جو گنا ہوں میں ڈوبے رہتے ہیں کیونکہ وہ اللہ کے رسول کے احکام کی تکذیب کرتے ہیں، اور اللہ غیظ سے اپنے غیظ کو زیادہ قرار دینے والے وہ لوگ ہیں جو انبیاء (علیہم السلام) اور دیگر مبلغین کو قتل کرنے والے ہیں اور نصیحت کرنے والوں پر ظلم کرنے والے ہیں اور اللہ کے مقابلہ میں اپنی رغبت ہو وہ ان کی عبادت کرنے والے ہیں۔

اگر یہ حدیث ثابت ہو تو اللہ تعالیٰ ہی خوب جاننے والا ہے کہ اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس حدیث سے کیا مراد ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن ج 10 ص 29 ۔ 28، التذکرہ ج 2 ص 127 ۔ 126، مطبوعہ بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 43