أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَـقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ‌ۚ ۞

ترجمہ:

اور بیشک ہم نے انسان کو بجتی ہوئی خشک مٹی سے پیدا کیا جو پہلے سیاہ سٹرا ہوا گارا تھی۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اور بیشک ہم نے انسان کو بجتی ہوئی خشک مٹی سے پیدا کیا جو (پہلے) سیاہ سڑا ہوا گارا تھی۔ (الحجر :26)

مشکل الفاظ (صلصال، الحماء اور مسنون) کے معانی صلصال :

علامہ راغب اصفہانی متوفی 504 ھ نے لکھا ہے اصل میں خشک چیز کے بجنے اور کھنکنے کو صلصال کہتے ہیں اور اسی وجہ سے خشک مٹی کو بھی صلصال کہتے ہیں کیونکہ اس پر بھی انگلی ماری جائے تو وہ بجتی ہو اور کھنکتی ہے۔ قرآن مجید میں ہے : مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ (الرحمن : ١٤) ٹھیکرے کی طرح بجتی ہوئی مٹی سے مشکیزہ میں بچے ہوئے پانی کے ہلنے سے جو کھڑ کھڑاہٹ کی آواز آتی ہے اس کو صلصلتہ کہتے ہیں۔ اسی وجہ سے خشک بجنے والی مٹی کا نام صلصلتہ رکھا گیا ہے اور قول یہ ہے کہ سڑی ہوئی مٹی کو صلصال کہتے ہیں جب گوشت سٹرجائے تو عرب والے کہتے ہیں صل اللحم اور اصل میں لفظ صلال تھا پھر تغیر کے بعد یہ لفظ صلصال ہوگیا۔ (المفردات ج 2 ص 372، مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ 1418 ھ)

امام خلیل بن احمد فراہیدی متوفی 157 ھ لکھتے ہی‏ں خشک مٹی جب حرکت دینے سے بجنے لگے تو صلصال ہے اور جب اس کو آگ پر پکایا جائے تو وہ فخار ہے (ٹھیکرا) حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا اور ان کے پتلے کو چالیس دن دھوپ میں رکھا گیا حتی کہ وہ صلصال ہوگئے۔ (کتاب العین ج 2 ص 1005 مطبوعہ انتشارات اسوہ ایران، 1414 ھ)

امام ابو عبداللہ بن دمسلم بن قتیبہ المتو فی 276 ھ لکھتے ہیں : جس خشک مٹی کو آگ نہ چھوا ہو اس کو صلصال کہتے ہیں جب تم اس پر انگلی مارو تو اس سے بجنے کی آواز آئے اور جب اس کو آگ پر گرم کرلیا جائے حم کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے : مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ (الحجر :27) دریا سے مٹی نکالی جاتی ہے اس حمات کہتے ہیں۔ (کتاب العینج 1 ص 432)

المسنون : امام ابو عبیدہ نے کہا ہے اس کا معنی ہے بدبودار۔ (تفسیر القرآنص 203)

علامہ راغب نعیمی اصفہانی متوفی 502 ھ نے کہا ہے الحماء کا معنی ہے سیابدبودار مٹی۔ جب کہ کنوئیں کی تہہ سے مٹی نکالی جاتی ہے تو کہتے ہیں حمئت البیر (المفردات ج 1 ص 175)

المسنون کا معنی ہے وہ چیزجو متغیر ہوگئی یعنی سڑ گئی ہو۔ (المفرداتج 2 ص 323)

علامہ نظام الدین قمی نیشاپوری متوفی 728 ھ لکھتے ہیں : خشک مٹی جو آگ پر پکائی نہ گئی ہو اس کو صلصال کہتے ہیں اور جب آگ پر پکائی جائے تو اس کو فخار (ٹھیکرا اور الحماء کا معنی ہے سیاہ سڑی ہو مٹی۔ امام ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ المسنون کا معنی ہے ڈھالی ہوئی چیز یعنی اس مٹی میں انسان کو صورت ڈھالی گئی تھی یا اس اس کا پتلا بنایا گیا تھا اور ابن الکیت نے کہا ہے کہ اس کا معنی ہے سڑی ہوئی بدبو دار چیز۔ (تفسیر غرائب القرآن و غائب الفرقان ج 4 ص 219، مطبوعہ دارا لکتب العلمیہ بیروت 1416 ھ)

امام الدین محمد بن عمررازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں : مسنون کے معنی میں حسب ذیل اقوال ہیں :

(1) ابن لکیت نے کہا مسنون کا معنی ہے تغیر، اس کی دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہے : لَمْ يَتَسَنَّهْ (البقرہ : ٢٥٩) کھانا متغیر نہیں ہوا یعنی سڑا نہیں۔

(2) رگڑی ہوئی اور گھسی ہوئ چیز جب پتھر کو رگڑیا گھساجائے تو کہتے ہیں سننت الحجر

(3) زجاج نے کہا ہے یہ لفظ سنن الطریق سے بنا ہے اور اس کا معنی بھی متغیر ہونا ہے۔

(4) امام ابو عبیدہ نے کہا ہے اس کا معنی ہے ڈھالی ہوئی چیز۔

(5) سیبویہ نے کہا اس کا معنی ہے گیلی مٹی۔ (تفسیر کبیر ج 7 ص 138، مطبو عہ دارا لفکر بیروت، 1415 ھ)

انسان کی تخلیق سے الوہیت اور وحدانیت پر استدلال

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں، زمینوں، پہاڑوں، درختوں، اور حیوانوں سے اپنی الوہیت اور وحدانیت پر استدلال فرمایا تھا اور اس آیت میں انسان کی تخلیق سے اپنی الو ہیت اور وحدانیت پر استدلال فرمایا ہے۔ اس کی اس کی تقریر یہ ہے 

تقریر یہ ہے کہ دلائل سے ثابت ہے کہ جہان حادث ہے اور قدیم نہیں ہے تو پھر انسان کی تخلیق کا سلسلہ ماضی کی جانب کسی ایک انسان پر ختم ہوگا جو پہلا انسا ہوگا اور ضروی ہے کہ وہ انسان ماں باپ اور معروف طریقہ سے پیدا نہ ہو اور نہ وہ پہلا انسان نہیں ہوگا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اس نے انسان کو مٹی کے پتلے سے بنایا ہے اور جیسا کہ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ انسان جو ن کہ حادث ہے اور قدیم نہیں ہے اس لیے اس کو عدم سے وجود میں لانے کے لیے کوئی علت اور فاعل ہونا چاہیے اور ضروری ہے کہ وہ علت اور افاعل جواب اور قدیم ہو ممکن اور حادث نہ ہو کیونکہ ممکن اور حادث کو تو اپنے وجود میں خود میں خود کسی علت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ علت اور فاعل واحد ہو کیونکہ متعدد واجب نہیں ہوسکتے ورنہ ہر واجب میں دو جز ہوں گے ایک نفس وجوب جس میں وہ سب مشترک ہوں گے اور ایک وہ جز جس سے ایک واجب دو سرے واجب سے ممتاز ہوگا اور جو چیز سے مرکب ہو وہ اپنے وجود میں ان اجز کی محتاج ہوتی ہے اور محتاج ممکن اور حادث ہے اور واجب نہیں ہوسکتا ہے پس ثابت ہوا کہ انسان کا بنانے والا واجب اور واحد ہے اور جب پہلے انسا کا وہ بنانے والا ہے تو تمام انسانوں کا وہی پیدا کرنے والا ہے جو واجب قدیم اور واحد ہے اور وہی اللہ تعالیٰ ہے۔ 

انسان کی خلقت کے مادہ میں مختلف آیات کی تو جیہ 

إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ( آل عمران : ٥٩) اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی طرح ہے جس کو اس نے مٹی سے پیدا کیا۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔

إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ طِينٍ ( ص : ٧١) میں گا رے (مٹی اور پانی کا آمیزہ) سے ایک بشر پیدا کرنے ولا ہوں۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو گارے اور کیچڑ سے پیدا کیا گیا ہے۔

خَلَقَ الإنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ (الرحمن : ١٤) انسان کو ٹھیکرے کی طرح بجتی خشک مٹی سے پیدا کیا ہے۔

اور اس آیت میں فرمایا ہے : اور بیشک ہم نے انسان کو بجتی ہوئی خشک مٹی سے پیدا کیا جو پہلے سیاہ سڑا ہوا بدبو دار گارا تھی۔

ان آیتوں میں اس طرح تطبیق دی جاسکتی ہے کہ پہلے انسان کا مٹی سے پیدا کیا پھر گارے سے، پھر سیاہ سڑے ہوئے بدبو دار گارے سے پھر ٹھیکرے کی طرح بجنے والی خشک مٹی سے۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ انسان کو تین مرتبہ بنایا گیا۔ چمٹنے والی مٹی سے خشک مٹی سے اور سیاہ بدبو دار کیچیڑ سے۔ (الجا مع جز 14 ص 37، مطبوعہ دارالفکر بیروت 1415 ھ)

امام ابن عساکر نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے لیے تمام رؤئے زمین سے مٹی لی گئی، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے شایان شان ہاتھ سے ان کا پتلا تیار کیا حتی کہ وہ پتلا خشک ہوگیا اور ٹھیکرے کی طرح بجنے ولی مٹی ہوگیا کہ جب اس پر انگلی ماری جائے تو اس سے کھنکتی ہوئی آواز نکلے۔ (الدارلمشور ج 5 ص 77، مطبوعہ دارا لفکر بیروت، 1414 ھ)

علامہ ابو المظفر السمعانی الشافی المتوفی 489 ھ لکھتے ہیں : بعض آثار میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے گارے کا خمیر بناکر چھو ڑدیا ،۔ حتی کہ وہ سیاہ بدبودار گارا ہوگیا۔ ) تفسیر القرآن ج 3 ص 137، مطبو عہ دارالوطن، ریاض 1418 ھ) اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو کسی بھی جنس کے جسم سے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کردیتا اور وہ اس پر بھی قادر تھا کہ مرحلہ وار پیدا کرنے کے بجائے ابتداء پیدا کردیتا لیکن جس طرح اس نے علم کیبر کو تدریجا چھ دونوں میں پیدا فرمایا ہے اسی طرح اس نے اس عالم صغیر یعنی انسان کو بھی تدریجا پیدا کیا اور اس میں بندوں کو یہ تعلیم دینا مقصود ہے کہ وہ اطمیان سے تدریجا کام کیا کریں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 26