حدیث نمبر217

روایت ہے رفاعہ ابن رافع سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی میں چھینکا تو کہہ لیا تمام تعریفیں اﷲ کی ہیں زیادہ اچھی اس میں برکت والی اس پر برکت جیسے ہمارا رب چاہے اور راضی ہوا ۱؎ تو جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو پھرے اور فرمایا نماز میں کلام کرنے والا کون تھا کوئی نہ بولا پھر دوبارہ یہی فرمایا کوئی نہ بولا پھر سہ بار یہی فرمایا تو رفاعہ نے عرض کیا یارسول اﷲ میں ہوں۲؎ تب نبی کریم رؤف و رحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس میں تیس اور چند فرشتوں نے جلدی کی کہ کون انہیں لے کر چڑھے ۳؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)

شرح

۱؎ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب نماز میں کلام منسوخ نہیں ہوا تھا اب نمازی چھینک پر یہ نہیں کہہ سکتا۔(مرقاۃ)بعض علماء نے فرمایا اب بھی یہ جائز ہے،بعض نے فرمایا دل سے کہے زبان سے نہ کہے مگر پہلی بات زیادہ قوی ہے۔فتح القدیر میں ہے کہ اگر زبان سے یہ کلمے ادا کیئے تو نماز جاتی رہے گی۔

۲؎ صحابہ کرام کا خاموش ہونا حضور علیہ السلام کی ہیبت کی وجہ سے تھا ورنہ اس وقت نماز میں کلام جائز تھا۔خیال رہے کہ اس حمد کرنے والے کو حضور علیہ السلام نے متکلم فرمایا حَامِد نہ فرمایا۔معلوم ہوا کہ یہ کلام میں شمار ہے اب جیسے اور کلاموں سے نماز فاسد ہوگی ایسے ہی اس سے۔

۳؎ یعنی یہ الفاظ ایسے مقبول ہوئے کہ ہر فرشتہ چاہتا تھا کہ انہیں لے کر بارگاہِ الٰہی میں میں پہلے پیش ہوں۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور علیہ السلام کی نگاہ غیبی چیزوں فرشتوں وغیرہ کو بھی دیکھتی ہے اور منہ سے نکلے ہوئے کلمات کو بھی ملاحظہ فرماتی ہیں اور اس ملاحظہ سے آپ کی نماز کے حضور میں کچھ فرق نہیں آتا۔