وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًاؕ-قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ(۵۰)

اور عاد کی طرف ان کے ہم قوم ہود کو (ف۱۰۹) کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو (ف۱۱۰) اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تم تو نِرے مفترِی(بالکل جھوٹے الزام عائد کرنے والے) ہو (ف۱۱۱)

(ف109)

نبی بنا کر بھیجا ۔ حضرت ہو د علیہ السلام کو ” اخ ” باعتبارِ نسب فرمایا گیا اسی لئے حضرت مُترجِم قُدِّسَ سِرُّہ نے اس لفظ کا ترجمہ ہم قوم کیا ۔ اَعْلَی اللہ مُقَامَہ ۔

(ف110)

اس کی توحید کے معتقِد رہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ۔

(ف111)

جوبُتوں کو خدا کا شریک بناتے ہو ۔

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًاؕ-اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(۵۱)

اے قوم میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا میری مزدوری تو اسی کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا (ف۱۱۲) تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۱۱۳)

(ف112)

جتنے رسول تشریف لائے سب نے اپنی قوموں سے یہی فرمایا اور نصیحتِ خالصہ وہی ہے جو کسی طمع سے نہ ہو ۔

(ف113)

اتنا سمجھ سکو کہ جو مَحض بے غرض نصیحت کرتا ہے وہ یقیناً خیر خواہ اور سچا ہے ۔ باطل کار جو کسی کو گمراہ کرتا ہے ضرور کسی نہ کسی غرض اور کسی نہ کسی مقصد سے کرتا ہے ۔ اس سے حق و باطل میں بہ آسانی تمیز کی جا سکتی ہے ۔

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ(۵۲)

اور اے میری قوم اپنے رب سے معافی چاہو (ف۱۱۴) پھر اس کی طرف رجوع لا وہ تم پر زور کا پانی بھیجے گا اور تم میں جتنی قوت ہے اس سے اور زیادہ دے گا (ف۱۱۵) اورجرم کرتے ہوئے روگردانی نہ کرو (ف۱۱۶)

(ف114)

ایمان لا کر جب قومِ عاد نے حضرت ہود علیہ السلام کی دعوت قبول نہ کی تو اللہ تعالٰی نے ان کے کُفر کے سبب تین سال تک بارش موقوف کر دی اور نہایت شدید قحط نمودار ہوا اور ان کی عورتوں کوبانجھ کر دیا جب یہ لوگ بہت پریشان ہوئے تو حضرت ہود علیہ الصلٰوۃ و السلام نے وعدہ فرمایا کہ اگر وہ اللہ پر ایمان لائیں اور اس کے رسول کی تصدیق کریں اور اس کے حضور توبہ و استِغفار کریں تو اللہ تعالٰی بارش بھیجے گا اور ان کی زمینوں کو سرسبز و شاداب کرکے تازہ زندگی عطا فرمائے گا اور قوّت و اولاد دے گا ۔ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ ایک مرتبہ امیرِ معاویہ کے پاس تشریف لے گئے تو آپ سے امیرِ معاویہ کے ایک ملازم نے کہا کہ میں مالدار آدمی ہوں مگر میرے کوئی اولاد نہیں مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جس سے اللہ مجھے اولاد دے ۔ آپ نے فرمایا استِغفار پڑھا کرو ، اس نے استغفار کی یہاں تک کثرت کی کہ روزانہ سا ت سو مرتبہ استِغفار پڑھنے لگا اس کی برکت سے اس شخص کے دس بیٹے ہوئے ۔ یہ خبر حضرت معاویہ کو ہوئی تو انہوں نے اس شخص سے فرمایا کہ تو نے حضرت امام سے یہ کیوں نہ دریافت کیا کہ یہ عمل حضور نے کہاں سے فرمایا ۔ دوسری مرتبہ جب اس شخص کو امام سے نیاز حاصل ہوا تو اس نے یہ دریافت کیا ، امام نے فرمایا کہ تو نے حضرت ہود کا قول نہیں سنا جو انہوں نے فرمایا ” یَزِدْکُمْ قُوَّۃً اِلیٰ قُوَّتِکُمْ” اور حضرت نوح علیہ السلام کا یہ ارشاد ” یُمْدِدْکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ” فائدہ : کثرتِ رزق اور حصولِ اولاد کے لئے استِغفار کا بکثرت پڑھنا قرآنی عمل ہے ۔

(ف115)

مال و اولاد کے ساتھ ۔

(ف116)

میری د عوت سے ۔

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ(۵۳)

بولے اے ہود تم کوئی دلیل لے کر ہمارے پاس نہ آئے (ف۱۱۷) اور ہم خالی تمہارے کہنے سے اپنے خداؤں کو چھوڑنے کے نہیں نہ تمہاری بات پر یقین لائیں

(ف117)

جو تمہارے دعوے کے صحت پر دلالت کرتی اور یہ بات انہوں نے بالکل غلط اور جھوٹ کہی تھی ۔ حضرت ہود علیہ السلام نے انہیں جو معجزات دکھائے تھے ان سب سے مکر گئے ۔

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍؕ-قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ(۵۴)

ہم تو یہی کہتے ہیں کہ ہمارے کسی خدا کی تمہیں بری جھپٹ(پکڑ) پہنچی (ف۱۱۸) کہا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم سب گواہ ہوجاؤ کہ میں بیزار ہوں ان سب سے جنہیں تم اللہ کے سوا اس کا شریک ٹھہراتے ہو

(ف118)

یعنی تم جو بُتوں کو برا کہتے ہو اس لئے انہوں نے تمہیں دیوانہ کر دیا ۔ مراد یہ ہے کہ اب جو کچھ کہتے ہو یہ دیوانگی کی باتیں ہیں ۔ ( معاذ اللہ )

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ(۵۵)

تم سب مل کر میرا برا چاہو (ف۱۱۹) پھر مجھے مہلت نہ دو (ف۱۲۰)

(ف119)

یعنی تم اور وہ جنہیں تم مبعود سمجھتے ہو سب مل کر مجھے ضرَر پہنچانے کی کوشش کرو ۔

(ف120)

مجھے تمہاری اور تمہارے معبودوں کی اور تمہاری مکاریوں کی کچھ پروا نہیں اور مجھے تمہاری شوکت و قوّت سے کچھ اندیشہ نہیں ، جن کو تم معبود کہتے ہو وہ جماد و بے جان ہیں نہ کسی کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ ضرَر ، ان کی کیا حقیقت کہ وہ مجھے دیوانہ کر سکتے ۔ یہ حضرت ہود علیہ السلام کا معجزہ ہے کہ آپ نے ایک زبردست جبّار ، صاحبِ قوت و شوکت قوم سے جو آ پ کے خون کی پیاسی اور جان کی دشمن تھی اس طرح کے کلمات فرمائے اور اصلًا خوف نہ کیا اور وہ قوم باوجود انتہائی عداوت اور دشمنی کے آپ کو ضرَر پہنچانے سے عاجز رہی ۔

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْؕ-مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَاؕ-اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۵۶)

میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا رب ہے اور تمہارا رب کوئی چلنے والا نہیں (ف۱۲۱) جس کی چوٹی اس کے قبضۂِ قدرت میں نہ ہو (ف۱۲۲) بےشک میرا رب سیدھے راستہ پر ملتا ہے

(ف121)

اسی میں بنی آدم اور حیوان سب آ گئے ۔

(ف122)

یعنی وہ سب کا مالک ہے اور سب پر غالب اور قادِر و متصرِّف ہے ۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْؕ-وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْۚ-وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْــٴًـاؕ-اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ(۵۷)

پھر اگر تم منہ پھیرو تو میں تمہیں پہنچا چکا جو تمہاری طرف لے کر بھیجا گیا (ف۱۲۳) اور میرا رب تمہاری جگہ اوروں کو لے آئے گا (ف۱۲۴) اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے (ف۱۲۵) بےشک میرا رب ہر شے پر نگہبان ہے(ف۱۲۶)

(ف123)

اور حُجّت ثابت ہو چکی ۔

(ف124)

یعنی اگر تم نے ایمان سے اعراض کیا اور جو احکام میں تمہاری طرف لایا ہوں انہیں قبول نہ کیا تو اللہ تمہیں ہلاک کرے گا اور بجائے تمہارے ایک دوسری قوم کو تمہارے دِیار و اَموال کا والی بنائے گا جو اس کی توحید کے معتقِد ہوں اور اس کی عبادت کریں ۔

(ف125)

کیونکہ وہ اس سے پاک ہے کہ اسے کوئی ضرَر پہنچ سکے لہٰذا تمہارے اِعراض کا جو ضرَر ہے وہ تمہیں کو پہنچے گا ۔

(ف126)

اور کسی کا قول فعل اس سے مخفی نہیں ۔ جب قومِ ہود نصیحت پذیر نہ ہوئی تو بارگاہِ قدیرِ برحق سے ان کے عذاب کا حکم نافذ ہوا ۔

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّاۚ-وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ(۵۸)

اور جب ہمارا حکم آیا ہم نےہود اور اس کے ساتھ کے مسلمانوں کو(ف۱۲۷)اپنی رحمت فرما کر بچالیا (ف۱۲۸) اور انہیں (ف۱۲۹) سخت عذاب سے نجات دی

(ف127)

جن کی تعداد چار ہزار تھی ۔

(ف128)

اور قومِ عاد کو ہوا کے عذاب سے ہلاک کر دیا ۔

(ف129)

یعنی جیسے مسلمانوں کو عذابِ دنیا سے بچایا ایسے ہی آخرت کے ۔

وَ تِلْكَ عَادٌ ﳜ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ(۵۹)

اور یہ عاد ہیں (ف۱۳۰) کہ اپنے رب کی آیتوں سے منکر ہوئے اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر بڑے سرکش ہٹ دھرم کے کہنے پر چلے

(ف130)

یہ خِطاب ہے سیدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمّت کو اور ” تِلْکَ” اشارہ ہے قومِ عاد کی قُبور و آثار کی طرف ۔ مقصد یہ ہے کہ زمین میں چلو ، انہیں دیکھو اور عبرت حاصل کرو ۔

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْؕ-اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠(۶۰)

اور ان کے پیچھے لگی اس دنیا میں لعنت اور قیامت کے دن سن لو بےشک عاد اپنے رب سے منکر ہوئے ارے دور ہوں عاد ہود کی قوم