امانت

زین العابدین ندوی 
اسلام میں امانت کا مفہوم بہت وسیع ہے، خدا کی عطا کردہ ہر ایک نعمت اس کی امانت ہے، جس کے متعلق ہر انسان سے سوال کیا جائے گا اور حفاظت امانت کی اس کے علاوہ اور کوئی شکل نہیں کہ عطیات خداوندی کا حق ادا کیا جائے، جو بھی جس قدر بھی نوازشات خداوندی سے بہرہ ور ہو اس کا حق ادا کرنا اس کا فرض ہے، جس میں ذرہ برابر بھی کوتاہی خیانت کہلاے گی۔ 
علم امانت ہے، دولت امانت ہے، عہدہ ومنصب امانت ہے اور لمحات زندگی امانت ہیں، علم کا حق یہ ہے کہ تواضع اختیار کرتے ہوئے اس کی روشنی میں کتاب وسنت کے مطابق فیصلہ کئے جائیں، دولت کا حق یہ ہے کہ اس کو ضرورت مندوں تک پہونچایا جاے، اور اسلام کی تبلیغ و ترویج میں صرف کیا جائے، عہدہ ومنصب کا حق یہ ہے کہ حق وباطل، خیروشر کے درمیان امتیاز کرتے ہوئے نظام عدل قائم کیا جائے اور لمحات زندگی کا حق یہ ہے کہ اسے کارآمد مشاغل میں استعمال کیا جائے اور امر بالمعروف، نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیا جائے، لیکن اگر علم ودولت تکبر کا سبب بن جائیں، عہدہ و منصب کے بل بوتے پر انصاف کا خون کیا جائے اور ظالمانہ نظام کو تقویت دی جائے اور زندگی کے قیمتی لمحات لوگوں کو بیوقوف بنانے اور اپنے الو سیدھا کرنے میں صرف کئے جائیں تو یاد رکھئے یہ صریح خیانت ہے اور اس مرتکب خائن کہلاے گا، اس زمانہ میں جن کی کوئی کمی نہیں ہے۔ 
آج کل مدارس اسلامیہ جو دین کے قلعہ سمجھے جاتے ہیں، ان کے ذمہ داران بھی خیانت کے ارتکاب سے پاک نہیں ہیں، شفافیت اور امانت کا درس دینے والے احبابِ باوقار صاحب جبہ و دستار بھی سینہ تک اس مرض میں ڈوبے ہوئے ہیں، کیا قوم و ملت کی رقم سے چلنے والے مدارس پر ذاتی تسلط اور من چاہی حکمرانی عوام الناس کے ساتھ خیانت نہیں ہے؟ دین کی آڑ میں دنیا کی گرم بازاری دین کا سودا نہیں ہے؟ سفید لباس اور لمبی داڑھیوں کے پس پردہ لوگوں کو دھوکہ دینا خیانت نہیں ہے؟ کیا پیری ومریدی کا جھانسہ دے کر لوگوں کی جیبیں ڈھیلی کرنا تصوف کا استہزاء نہیں ہے؟ 
افسوس تو اس وقت ہوتا ہے کہ خائنوں اور جھوٹوں کے ٹولہ نے اصلاح وارشاد کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے، آخر اس امت میں صلاح کیوں پیدا ہو اور کہاں سے پیدا ہو جب مصلحین کی شکل میں چوروں کا گروپ منصہ شہود پر جلوہ گر ہوچکا ہے اور لوگ انہیں مسیحا سمجھنے کی بھول میں پڑے ہوے ہیں، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا مومن جھوٹ نہیں بول سکتا، اس کا مطلب یہ کہ جھوٹ بولنے والا صحیح معانی میں مومن نہیں ہو سکتا، اور جس کا ایمان ہی کامل نہ ہو اس سے اصلاح کی امید بوالعجبی است، جس کی ذاتی زندگی خود گندگیوں سے پٹی پڑی ہو وہ دوسروں کو کیا خاک گندگی سے نکالنے کا کام کرے گا؟ دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کی علامت بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا منافق جھوٹ بھی بولتا ہے، خیانت بھی کرتا ہے اور وعدہ خلافی بھی کرتا ہے، میں سچ کہتا ہوں آج کے بعض نام نہاد مصلحین میں کوئی خوبی ہو یا نہ ہو مذکورہ یہ تین خامیاں ضرور پائی جاتی ہیں، جس سے ان کا چہرہ مزید روشن ہو جاتا ہے۔ 
مجھے معلوم ہے میری باتیں بہت تکلیف دہ ہیں لیکن مبنی بر حقیقت ہیں، یہ باتیں میں اس لئے کہہ اور لکھ رہا ہوں کہ امر بالمعروف اگر ایک اہم ذمہ داری ہے تو نہی عن المنکر بھی اسی کا حصہ ہے، عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ لوگ امر بالمعروف کی ادائیگی میں خوب سرگرم رہتے ہیں اور نہی عن المنکرات کے سلسلہ میں خاموش بیٹھے رہتے ہیں، آخر کیوں اگر برائی کو دیکھ کر تکلیف نہ ہو ، غیرت ایمانی نہ بھڑکے تو ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ کہیں ہم منافق تو نہیں ہو گئے؟ اور اگر برائی کرنے میں مزا آنے لگے، محارم خداوندی کو پامال کرنے میں لطف ملنے لگے تو پھر خدا سے استغفار کرنا چاہیے ورنہ خاتمہ بالخیر بھی خطرہ میں پڑ سکتا ہے۔ 
اللہ نفاق وشقاق اور منافقین سے ہماری حفاظت فرماتے اور امانت الہی کی ادائیگی کی توفیق بخشے۔ آمین