ام المومنین حضرت خدیجتہ الکبریٰ کا کرداروعمل

تحریر: مفتی شاکرالقادری فیضی
 دین اسلام کی خاتون اول ‘حضور سیدالمرسلین نائب رب العالمین سیدنا رحمتہ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کی زوجہ اول ‘ اور پہلی صحابیہ ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالٰی عنہا ہیں- آپ شرافت’ امانت’ ایفائے عہد’ سخاوت’ غریب پروری’ فراخ دلی عفت وحیاء پاکیزہ عادات واطوارکالبادہ اوڑھ کر واقعہ فیل سے 15 سال پہلے بمطابق 555عیسوی میں مکہ مکرمہ میں پیداہوئیں. وقت کے ساتھ ساتھ ہہ کمال و خوبیاں آپ کی طبیعت کا لازمی جز بن گئیں. 
آپ کانام *خدیجہ* کنیت *ام ہند* لقب *طاہرہ* ہے 
سلسلہ نسب اس طرح ہے 
خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی بن کلاب بن مرہ 
ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالٰی عنہا کا نسب حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وصحبہ و سلم کے نسب مبارک سے قصی پر جاکر مل جاتاہے. 
حضرت خدیجہ الکبری کے والد خویلد بن اسد ایک کامیاب تاجر اور اپنے قبیلے میں بڑی باعظمت شخصیت کے مالک تھے. ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالٰی عنہا بچپن ہی سے نہایت نیک اور شریف الطبع  تھیں. جب سن بلوغ کو پہونچیں تو ان کی یکے بعد دیگرے تین شادیاں ہوئیں اور تینوں شوہروں کی موت کے بعد 595عیسوی میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وصحبہ و سلم کا شرف زوجیت حاصل ہوا. اس وقت حضرت خدیجہ الکبری کی عمر مبارک 40 سال اور حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وصحبہ و سلم کی ظاہری عمر شریف 25 سال تھی. دین مہر 6 اونٹ تھے. 
لیکن بعض روایت میں ہیکہ حضرت خدیجہ الکبری کاتیسرا اور آخری نکاح حضور سید عالم رحمت تمام صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وصحبہ و سلم ہی سے ہوا. 
آپ حضور کی سب سے پہلی بیوی اور رفیقہ حیات ہیں. یہ خاندان قریش کی بہت باوقاروممتاز خاتون ہیں. ان کی شرافت وپاکدامنی کی بناء پر عام مکہ والے آپ کو طاہرہ کے  لقب سے پکارا کرتے تھے. انھوں نے حضور سید عالم نور مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وصحبہ و سلم کے اعلی اخلاق وعادات ‘کمال سیرت’ جمال صورت سے بے حد متاثر ہو کر خود ہی اپنی سہیلی نفیسہ کے ذریعہ حضور سے نکاح کی رغبت ظاہر کی. چنانچہ اشراف قریش کے مجمع میں باقاعدہ نکاح ہوا. یہ حضورکی  بہت  ہی جاں نثار اور وفاشعار بیوی ہونے کے ساتھ پہلی صحابیہ و مومنہ ہیں.مال ومنال حضور کے ارشاد پہ راہ حق میں خرچ کردیا. حضور کے اعلان نبوت کے بعد کفار مکہ سرداران قریش نے اسلام کے دیئے بجھا نے کی بہت زور لگائے. دین کی بقاء وحفاظت کیلئے آپ نے بے مثال قربانیاں دیں.  ظلم وستم برداشت کئے ہر مظالم و جفا کا ڈٹ کر مقابلہ کرکے تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ و سلم میں نمایاں کردار نبھایا اور صبر ورضا کا  پیکر بن کر حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کی محبت ورفاقت کا فریضہ انجام دیا. اور اسلام کے داعیانہ فہم وفراست کی عملی تصویر پیش کرتی رہیں. حضور سے نکاح کے بعد حضرت خدیجہ الکبری تقریبا 25 سال بقید حیات رہیں. اس مدت میں آپ نے آقائے دو جہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کی رفاقت و جاں نثاری کاحق ادا کرکے عالم کو حیرت میں ڈال دیا- اوراسلام کی وسعت پذیری و نشر و اشاعت سے بے حد مسرور ہوتی تھیں. وہ اپنے غیر مسلم اعزہ واقرباء کے طعن و تشنیع کی پرواہ کئے بغیر اپنے آپ کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کیلئے وقف کرکے تبلیغ حق میں دست و بازو بن چکی تھیں.جب حضور کفار کی لایعنی اور بیہودہ باتوں سے کبیدہ خاطر ہوتے تو آپ کی ہی وہ ذات ہے جو عرض کرتیں یارسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم  آپ رنجیدہ نہ ہوں بھلا کوئی ایسا نبی و رسول بھی آج تک آیا ہے جس سے لوگوں نے تمسخر نہ کیا ہو’ اور انھیں نہ ستایا ہو ام المومنین  حضرت خدیجہ الکبری کے اس کہنے سے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وصحبہ و سلم کا ملال طبع دور ہوجاتا. غرض اس پر آشوب زمانہ میں  حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالٰی عنہا نہ صرف حضور  صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کی ہم خیال اور غمگسار تھیں بلکہ ہر موقعے اور ہر حزن وملال میں آپ کے ساتھ کھڑی رہتی تھیں. غرض بڑے خطرناک اوقات میں حضرت خدیجہ الکبری نے جس استقلال واستقامت کے ساتھ مصائب وحالات کا مقابلہ کیا اس خصوصیت میں تمام ازواج مطہرات پر ان کو ایک ممتاز فضیلت وبرتری حاصل ہے. 
حضرت خدیجہ الکبری کے عادات واطوار اور کردار یہ ہیں کہ آپ اولاد پر بہت مہربان ‘امور خانہ داری میں کماحقہ واقف’ گھر کا انتظام بہت اچھے ڈھنگ سے کرتیں’ غریبوں مسکینوں بھوکوں ضرورتمندوں کا خاص خیال رکھتیں . حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ و سلم سے بے حد تعظیم و توقیر سے پیش آتیں.  حضور کے اظہار نبوت کے قبل اور بعد آپ کی ہر بات کی تصدیق کرتی تھیں. حضرت خدیجہ الکبری کے فضائل ومحاسن میں بہت سی حدیثیں بھی ہیں چنانچہ حضور اقدسصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وصحبہ و سلم نے فرمایا کہ تمام دنیا کی عورتوں میں سب سے زیادہ اچھی اور باکمال چار بیبیاں ہیں ایک حضرت مریم” دوسری  حضرت آسیہ تیسری حضرت خدیجہ چوتھی فاطمہ ‘
ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے محمد صلی اللہ علیہ و سلم یہ خدیجہ جوآپ کیلئے ایک برتن میں کھانا لے کر آرہی ہیں جب یہ آپ کے پاس آجائیں تو ان سے انکے رب عزوجل اور میرا سلام کہدیجئے اور ان کو خوشخبری سنادیجئے کہ جنت میں ان کے لئے موتی کا ایک گھر بناہے جن میں نہ کوئی شور ہو گا نہ کوئی تکلیف ہو گی. ام المؤمنین حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالٰی عنہا کی وفات 10 رمضان المبارک 620عیسوی 65سال کی عمر ہجرت سے تین سال قبل مکہ شریف میں ہوئی. مکہ شریف کے جنتہ المعلی قبرستان میں خود حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وصحبہ و سلم نے اپنے دست مقدس سےان کو  سپرد خاک فرمایا۔
ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالٰی عنہا کی وفات کے بعد حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کو بے پناہ صدمہ ہوا یہاں تک کہ آپ نے اس سال کو عام الحزن (غم کاسال) فرمایا۔
حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد بھی آپ کو ان سے اتنی  محبت تھی کہ جب قربانی کرتے تو پہلے حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالٰی عنہا کی سہیلیوں کو گوشت بھیجتے اور پھر بعد میں کسی اور کو عنایت فرماتے -حضرت خدیجتہ الکبریٰ کا جب کوئی رشتہ دار آتا تو حضور اس سے بے حد محبت فرماتے اور خاطر ومدارت کرتے. ہماری گھر کی خاتون کو بھی حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالٰی عنہا کے کردار و عمل سے نصیحت لینی چاہئے کہ کس قدر انھوں نے دین حق کی اشاعت اور حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کی محبت میں اپنے کو سرشار کر رکھا تھا۔
اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے