ام المومنین حضرت سیدہ خديجة الكبرى رضی المولى عنہا ایک مثالی خاتون

تحریر: محمد ضیاء الحق قادری
اگر ہم تاریخ اسلام کا  گہرائی اور گیرائی سے مطالعہ کریں تو ہمیں ایسی معظم محتشم ہستیاں نظر آتی ہیں جن کی حیات طیبہ کے اہم گوشوں پر روشنی ڈالی جائے تو یہ کہنا حق بجانب ہوگا کہ  وہ ہستیاں ہمارے لئے نمونہ عمل بن سکتی ہیں ۔انہی مکرم ہستیوں میں سے ایک مثالی ہستی کا نام نامی اسم گرامی  مخدومہ کائنات  عابدہ زاہدہ مکرمہ معظمہ ام المومنین حضرت سیدہ خدیجہ الکبری سلام اللہ علیہا کی ذات با برکت ہے 
آپ کی ذات گرامی امت مسلمہ کے لئے مکمل نمونہ عمل ہے۔اور علامہ ابن اثیر اور امام ذہبی کا بیان ہے کہ اس بات پر تمام امت کا اجماع ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلے ایمان لانے والی مخدومہ سیدہ خدیجہ الکبری سلام اللہ علیہا ہیں ۔ 
آپ کے والد گرامی خویلد بن اسد اور والدہ جناب فاطمہ بنت زائدہ بن اصم ہیں۔ اپ کا نسب مبارک چند واسطوں سے  نبی مکرم رسول محتشم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اجداد باوقار سے جا ملتا ہے ۔
والد محترم کی جانب سے آپ کا سلسلہ نسب اس طرح سے ہے خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبد العزی بن  قصی بن  کلاب ۔جبکہ والدہ کی جانب سے سلسلہ نسب کچھ اس طرح سے ہے۔خدیجہ بنت زائدہ بن اصم بن رواحہ بن حجر بن عبد بن معیص بن عامر بن لوی بن غالب ۔
لوی جو کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے جد ہشتم ہیں یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المومنین حضرت سیدہ خدیجہ الکبری سلام اللہ علیہا ایک دوسرے کو چچا کے بیٹے اور چچا کی بیٹی کھہ کر پکارتے تھے ۔ آپ کی ولادت عام الفیل  سے ۱۵سال پہلے ۵۵۵عیسوی میں   
ہوئی ۔ آپ ایسی نیک سیرت اور  اوصاف حمیدہ کی حامل تھیں۔جنھیں امت مسلمہ کے لیے نمونہ عمل قرار دے کر دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کی جا سکتی ہے۔طیبہ طاہرہ ام المومنین حضرت سیدہ خدیجہ الکبری سلام اللہ علیہا کی خصوصیات کا بطور اختصار ذکر کیا جا رہا ہے ۔
*صاحب کردار خاتون*
نوع انسانی کی تاریخ آپ رضی المولی عنہا کی ابتدائی زندگی کے حوالے سے خاموش ہے۔آپ رضی المولی عنہا بچپن میں ہی  شفقت پدری سے محروم ہو گئی تھیں ۔آپ رضی المولی عنہا اس عہد میں  تجارت کو شروع کیا جب ربا کو اس کی بنیاد سمجھا جاتا تھا ۔لیکن اس تاریخی  ساز دور میں جس مثالی دور میں تجارت کو انسانی زندگی کے لئے ترقی کا ذریعہ تصور کیا جاتا تھا ۔سیدہ خدیجہ الکبری سلام اللہ علیہا نے اپنے بہترین فہم و فراست کے ذریعے اپنے مال کو مضاربہ کی بنیاد پر استوار کیا۔
اپ رضی المولی عنہا نے اپنے کو زمانہ جاہلیت کے شر سے خود کو محفوظ رکھا۔اہل مکہ اس زمانہ میں آپ سلام اللہ علیہا کی پاک دامنی اور پارسائی کی وجہ سے ملکہ عرب کے ساتھ ساتھ سيدة التجار طیبہ و طاہرہ کھا کرتے تھے۔
*ام المومنین حضرت سیدہ خدیجہ الکبری سلام اللہ علیہا آقا علیہ السلام کی محبوب ترین زوجہ*
پیغمبر اسلام صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے 25 سال کی عمر شریف میں 500درہم  حق مہر کے ساتھ 40سالہ طیبہ طاہرہ حضرت سیدہ خدیجہ الکبری سلام اللہ علیہا سے نکاح فرمایا۔حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم  کا خانہ معیشت ازدواجی زندگی کے ساتھ آباد ہو گیا۔
حضرت سیدہ خدیجہ الکبری سلام اللہ علیہا تقریبا 25 برس تک حضور علیہ السلام کی خدمت اقدس میں رہیں ۔اور آپ کی زندگی میں حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ نے کوئی دوسرا نکاح نہیں فرمایا۔مخدومہ کائنات عابدہ زاہدہ مکرمہ معظمہ ام المومنین حضرت سیدہ خدیجہ الکبری سلام اللہ علیہا نے اپنی پوری دولت آقا علیہ السلام کے قدموں پر قربان کر دی۔اور ساری زندگی آقا علیہ السلام کی محسنہ اور غمگسار بن کر رہیں۔
*صاحب فضیلت شخصیت*
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نے متعدد احادیث طیبہ میں آپ کی فضیلت کو بیان فرمایا ہے جو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ آپ رضی المولی عنہا کس قدر صاحب فضیلت ہیں۔
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال اتي جبريل النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله هذه خديجة قد أتت معها إناء فيه ادام و طعام فإذا اتيتك فاقرا عليها السلام من ربها ومني و بشرها بيت في الجنة من قصب لا صخب فيه ولا نصب 
ترجمہ روایت ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ جبریل امین نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ خدیجہ آرہی ہیں ان کے ساتھ برتن ہے جس میں سالن اور کھانا ہے تو جب وہ اپ کے پاس آئیں تو انہیں ان کے رب کا سلام اور میرا سلام فرمائیں اور انہیں جنت کے اس گھر کی بشارت دے دیں جو ایک موتی کا ہے نہ اس میں شور ہے نہ کوئی تکلیف 
(مسلم و بخاری شریف )
عن انس ان النبي صلى الله عليه وسلم قال حسبك من نساء العالمين مريم بنت عمران و خديجة بنت خویلد و فاطمة بنت محمد و آسیة امرأة فرعون 
 ترجمہ روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے نے فرمایا کہ تمہارے جہان والی عورتوں میں جناب مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد، اور آسیہ فرعون کی بیوی کافی ہیں
( ترمذی شریف )
 حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اہل جنت کی عورتوں میں سب سے افضل حضرت خدیجہ، حضرت فاطمہ، حضرت مریم و آسیہ ہیں ۔(رضی اللہ تعالٰی عنہن)
ایک اور جگہ فرمایا يا خديجة انت خير أمهات المؤمنين و افضلهن. اے خدیجہ!تم امہات المومنین میں سب سے بہتر اور بافصیلت ہو۔
*صالح اولاد کی تربیت*
مذہب اسلام میں اولاد کی تربیت کو بہت ہی زیادہ اہمیت دی گئی ہے ۔اور اس میں ماں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔مخدومہ کائنات عابدہ زاہدہ مکرمہ معظمہ ام المومنین حضرت سیدہ خدیجہ الکبری سلام اللہ علیہا قرآن مجید کی آیات کریمہ کی ضوء تمام مومنین کی ماں ہونے کے ساتھ ساتھ اس لحاظ سے بھی پہچانی جاتی ہیں کہ آپ ایسی اولاد کی ماں ہیں جو دنیا اسلام کے لیے ایک بہترین نمونہ عمل ہیں۔آپ سلام اللہ علیہا نے اپنے آغوش مبارک میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا جیسی طیبہ و طاہرہ اولاد کی تربیت فرمائی جو سیدہ نساء العالمين کے لقب سے پہچانی جاتی ہیں ۔
اور اولاد کی تربیت کے ساتھ ساتھ حضرت خدیجہ الکبری سلام اللہ علیہا نے پچیس سال تک آقا علیہ السلام کی رفیق و محسنہ بن کر خدمت کرتی رہیں اور آپ کریم آقا علیہ السلام کی محبوب ترین زوجہ محترمہ ہجرت سے تین برس قبل پینسٹھ برس کی عمر شریف پا کر ماہ رمضان المبارک میں مکہ مکرمہ کے اندر انہوں نے وفات پائی ۔حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مکہ معظمہ کے مشہور قبرستان حجون  (جنت المعلی )میں خود بہ نفس نفیس ان کی قبر میں اتر کر اپنے مقدس ہاتھوں سے آپ سلام اللہ علیہا کو سپرد خاک فرمایا چونکہ اس وقت نماز جنازہ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا اس لیے رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپ رضی المولی عنہا کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی ۔اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعا ہے کہ مولی ام المومنین کے صدقے میں اس احقر کو روضہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضری نصیب فرمائے آمین یا رب العالمین