ام المومنین خدیجۃ الکبریٰ:نقوش حیات

تحریر: محمد ہاشم اعظمی مصباحی
حق وصداقت کی خوگر۔اخلاق ومروت کی پیکر ، پاکیزہ سیرت،  بلند کردار، گداز دل۔ پرسوز جان، ناز و نعم کی پروردہ ۔ دولت جس کے گھر کی باندی ،فہم وفراست میں اپنی مثال آپ، جود وسخا جس کے در کے بھکاری ہیں جسے اسلام کی خاتون اوّل ہونے کاشرف حاصل ہے جسے سب سے پہلے جنت کی بشارت دی گئی۔ جسے حبیب کبریا کی صحبت بابرکت میں پچیس سال رہنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ جس کے گھر میں وحی اترتی رہی۔ جس نے شعب ابی طالب میں رسول اللہؐ کے ساتھ محصور رہ کر رفاقت، محبت، وارفتگی اور ایثار کا مثالی کردار پیش کیا ۔ جس نے اپنی ساری دولت رسول اللہؐ کے قدموں میں نچھاور کردی، جس کی قبر میں ہادیِ برحق خود اترے اور لحد مبارکہ کا بچشم خود معاینہ فرمایا۔ اپنے دست اقدس سے قبر میں اتارا، سرور دو عالم کی ہمدرد و غمگساررفیقہ حیات۔ خاتون جنت حضرت فاطمۃ کی ماں ، حضرات حسنین کریمین کی نانی۔ عثمان  وعلی کی خوش دامن جسے تاریخ میں سیدہ، طاہرہ، صدیقہ، خدیجۃ الکبری کے نام سے یاد کیا جاتا ہے آئیے اسی خاتون جنت کی رشک بھری زندگی کا دل آویز تذکرہ احادیث و تواریخ کی روشنی میں دیکھتے ہوئے اپنے تاریک دلوں کو روشن کرتے ہیں الآجری لکھتے ہیں:خدیجۃ الکبریٰ کی ذات میں اللہ تعالیٰ نے ہرجہت سے شرف و کرم جمع کر دیا تھا۔ آپ کی خوشی میں نبیﷺ کی خوشی تھی۔ خدیجۃ الکبریٰ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی آنکھوں کے لئے راحت اور دل کے لئے سکون تھیں۔ الشریعۃللآجری264.4
 نمونۂ عمل: ام المومنین حضرت خدیجة الکبریٰ کی زندگی مسلم خواتین کیلئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے آپ نے صرف نبوت کی تصدیق ہی نہیں کیا بلکہ آغاز اسلام سے لیکر زندگی کی آخری سانس تک ہر موڑ پر اسلام کی معین ومددگار بھی رہیں اور ہمہ دم قدم رسول پر نثار بھی۔آپ ناصرف یہ کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ہم خیال اور غمگسار تھیں بلکہ ہرقدم پران کی مددکیلئے بھی تیار رہتی تھیں۔
 ولادت با سعادت: اسلام کی مادرمعظم حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی ولادت با سعادت 556ء مکہ مکرمہ میں عظیم قبیلہ قریش کے مشہور و معروف خاندان بنی اسد میں عام الفیل سے 15 سال پہلے ہوئی 
 نام ونسب: خدیجہ نام، ام ہند کنیت، طاہرہ لقب، سلسلہ نسب یہ ہے۔ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبد العزی بن قصی، قصی پر پہنچ کر ان کا خاندان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے مل جاتا ہے۔ والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ تھا اور لوی بن غالب کے دوسرے بیٹے عامر کی اولاد تھیں۔خدیجہ کے والد اپنے قبیلے میں نہایت معزز شخص تھے۔مکہ میں اقامت کیا،عبد الدارین ابن قصی  کے حلیف بنے اور یہیں فاطمہ بنت زائدہ سے شادی کی، جن کے بطن سے عام الفیل سے 15 سال قبل خدیجہ پیدا ہوئیں، سنِ شعور کو پہنچیں تو اپنے پاکیزہ اخلاقکی بنا پر طاہرہ کے لقب سے مشہور ہوئیں۔
نکاح: سیدہ خدیجہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے تجارتی کاروبار میں شریک کیا اور کئی مرتبہ اپنا سامانِ تجارت دے کر بیرون ملک بھیجا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تاجرانہ حکمت، دیانت، صداقت، محنت اور اعلیٰ اخلاق سے اتنی متاثر ہوئیں کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شادی کا پیغام بھجوایا۔ جس کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بڑوں کے مشورے سے قبول فرمایا۔ اس وقت ان کی عمر چاليس سال تھی جبکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف پچیس سال کے عنفوانِ شباب پر تھے. خدیجہ کی دولت و ثروت اور شریفانہ اخلاق نے تمام قریش کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا اور ہر شخص ان سے نکاح کا خواہاں تھا، لیکن کارکنان قضا و قدر کی نگہِ انتخاب کسی اور پر پڑ چکی تھی، حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مال تجارت لے کر ملک شام سے واپس آئے تو خدیجہ نے شادی کا پیغام بھیجا، نفیسہ بنت مینہ یعلی بن امیہ کی ہمشیرہ اس خدمت پر مامورہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منظور فرمالیا،اور شادی کی تاریخ مقرر ہو گئی، خدیجہ کے والد اگرچہ وفات پا چکے تھے تاہم ان کے چچا عمرو بن اسد زندہ تھے، عرب میں عورتوں کو یہ آزادی حاصل تھی کہ شادی بیاہ کے متعلق خود گفتگو کر سکتی تھیں، اسی بنا پر خدیجہ نے چچا کے ہوتے ہوئے خود براہ راست تمام معاملات طے کیے۔
تاریخ معین پر ابو طالب اور تمام رؤسائے خاندان جن میں حمزہ بن عبد المطلب بھی تھے، خدیجہ کے مکان پر آئے، حضرت خدیجہ نے بھی اپنے خاندان کے چند بزرگوں کو جمع کیا تھا، ابو طالب نے خطبہ نکاح پڑھا۔ مہر حضرت خدیجہ بنت خویلد کا مہر آپ کے چچا جناب عمروبن اسد کے مشورہ سے 500 طلائی درہم  قرار پایا اور خدیجہ طاہرہ حرم نبوت میں داخل ہو کر ام المومنین کے شرف سے ممتاز ہوئیں، اس وقت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پچیس سال کے تھے اور خدیجہ کی عمر چالیس برس کی تھی۔ یہ بعثت سے پندرہ سال پہلے کا واقعہ ہے
 سعادت مندی:(1) حضرت خدیجہ کو اعلان نبوت کے بعد سب سےپہلے اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل ہے اسی لیے آپ کو اسلام کی خاتون اوّل کہا جاتا ہے (2) دوسرا شرف عظيم یہ ہے کہ آپ ہی کو پہلی ام المومنین ہونے یعنی امت کی پہلی ماں ہونے کی سعادت حاصل ہے ۔ (3)تیسری سعادت یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ساری اولادیں آپ ہی کے بطن سے پیدا ہوئیں صرف ابراہیم ماریہ قبطیہ کے بطن سے تھے ام المومنین حضرت ماریہ جو اسکندریہ کے بادشاہ اور قبطیوں کے بڑے کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور ہدیہ پیش کی گئی تھیں. طبقات الکبریٰ لابن سعد ج، 8،ص9،10،11)
خدمات: حضرت خدیجہ ؑ کی مالی امداد کی بدولت رسول خداؐتقریبا غنی اور بے نیاز ہو گئے۔ خداوند متعال آپؐ کو اپنی عطا کردہ نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:وَوَجَدَكَ عَائِلاً فَأَغْنَى۔ ترجمہ : اور خدا نے آپ کو تہی دست پایا تو مالدار بنایا(سورۃ الضُّحٰی آیت 8) رسول خداؐ خود بھی فرمایا کرتے تھے: ما نَفَعَنِي مالٌ قَطُّ ما نَفَعَني أَو مِثلَ ما نَفَعَني مالُ خَديجة 
ترجمہ: کسی مال نے مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا فائدہ مجھے خدیجہ کی دولت نے پہنچایا [بحارالانوار،ج19،ص، 63)] رسول خدا نے خدیجہ کی دولت سے مقروضوں کے قرض ادا کئے یتیموں، تہی دستوں اور بے نواؤں کے مسائل حل کئے۔
شعب ابی طالب کے محاصرے کے دوران حضرت خدیجہ کی دولت بنی ہاشم اور بنی المطلب کی امداد میں صرف ہوئی۔ یہاں تک کی احادیث میں آیا ہے کہ: أنفق أبو طالب وخديجة جميع مالہما” ترجمہ: ابو طالب  اور خدیجہ نے اپنا پورا مال اسلام اور قلعہ بند افراد کی راہ میں خرچ کیا۔)[ایضاً16]شعب ابی طالب میں محاصرے کے دوران حضرت خدیجہ کا بھتیجا حکیم بن حزام گندم اور کھجوروں سے لدے ہوئے اونٹ لایا کرتا تھا اور بے شمار خطرات اور زحمت و مشقت سے بنی ہاشم کو پہونچاتاتھا۔[سیرۃ النبی ج1ص221]یہ بخشش اس قدر قابل قدر اور خالصانہ تھی کہ خداوند عالم نے اس کی قدر دانی کرتے ہوئے اس نیک کام کو اپنی طرف سے اپنے حبیب حضرت محمدؐ کو عطا کردہ نعمات میں شمار فرمایا۔پیغمبر اکرمؐ بھی اس عظیم المرتبت خاتون کی بخشندگی اور ایثار کو ہمیشہ یاد فرماتے تھے۔
فضائل: نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت مریم علیہا السلام کوسابقہ امتوں کی اورحضرت خدیجہ کو اس امت کی سب سے افضل خاتون قرار دیا ہے۔حضرت علی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :خَیْرُ نِسَائِھَا مَرْیَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ، وَخَیْرُ نِسَائِھَا خَدِیْجَةُ *ترجمہ* (سابقہ) امت کی عورتوں میں سب سے افضل مریم بنت عمران ہیں اور (اس) امت کی عورتوں میں سب سے افضل خدیجہ ہیں۔“حضرت خدیجہ نے 25سال تک محمد رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی خدمت کی اور ہر طرح سے آپ صلی الله علیہ وسلم کا ساتھ دیا۔آپ کی خدمات کی بدولت اللہ تعالیٰ نے انہیں اس دنیا میں ہی جنت کی بشارت دے دی حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں:أَتٰی جِبْرِیْلُ النَّبِیَّ صلی الله علیہ وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ھٰذِہِ خَدِیْجَةُ قَدْ اَتَتْ مَعَہَا اِنَاءٌ، فِیْہِ اِدَامٌ اَوْطَعَامٌ اَوْشَرَابٌ، فَاِذَا ھِیَ اَتَتْکَ فَاقْرَأْ عَلَیْھَا السَّلَامَ مِنْ رَبِّہَا عَزَّ وَجَلَّ وَمِنِّیْ، وَبَشِّرْھَا بِبَیْتٍ فِی الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ، لَا صَخَبَ فِیْہِ وَلَا نصَبَ
ترجمہ: جبریل علیہ السلامنبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا:اللہ کے رسول! یہ خدیجہ آرہی ہیں،ان کے پاس ایک برتن ہے، جس میں سالن ‘کھانا یا پانی ہے۔جب وہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئیں تو ان کو ان کے بلند مرتبہ پروردگار اور میری طرف سے سلام کہیے اور ان کوجنت میں موتیوں والے گھر کی بشارت دیجیے، جہاں نہ کوئی شور شرابہ ہوگا اور نہ تھکن ہوگی۔“
اس روایت میں حضرت خدیجہ کے دوخصوصی فضائل کا ذکر ہے:اللہ تعالیٰ اور جبریل علیہ السلام کا ان کو سلام کرنا۔ان کوجنت میں موتیوں والے گھر کی بشارت ملنا۔( رضی الله عنہا وأرضاھا)
وفات: اکثر تاریخی مآخذ میں حضرت خدیجہ کی تاریخ وفات کو بعثت کا دسواں سال (یعنی ہجرت مدینہ سے 3 سال پہلے) قرار دیا گیا ہے۔ان مآخذ میں وفات کے وقت آپ کی عمر 65 سال ذکر کی ہیں۔ ابن عبدالبر کا کہنا ہے کہ ام المومنین خدیجہ کی عمر بوقت وفات 64 سال چھ ماہ تھی۔بعض مصادر میں ہے کہ حضرت خدیجہؑ کا سال وفات ابو طالب کا سال وفات ہی ہے۔ابن سعد کا کہنا ہے کہ حضرت خدیجہ ابو طالب  کی رحلت کے 35 دن بعد رحلت کر گئی ہیں۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ امت کی وہ عظیم ماں جنکی خدمات جلیلہ اور مال ومتاع کے ذریعہ اسلام کے چہرے پر رنگ وروغن آیا تھا ان کی وفات حسرت آیات کی صحیح تاریخ ہجرت سے 3 سال پہلے 30 اپریل 619ء مطابق 10 رمضان المبارک  سنہ 10 بعثت ہے۔ ابن سعد، ابن اثیر، الکامل، ج2، ص39، طبری،ج، 11،ص 493السیرۃ الحلبیہ، ج1، ص190۔۔۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب بھی اسی سال رحلت کر گئے تھی لہذا پیغمبراکرم نے اس سال کو عام الحزن کا نام دیا۔ الطبقات الکبریٰ ج8ص96
آخری آرامگاہ: احادیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اپنی ردا اور پھر جنتی ردا میں کفن دیااور مکہ کے بالائی حصے میں واقع پہاڑی (کوہ حجون) کے دامن میں، جنت المعلی میں سپرد خاک کیا۔ الاستيعاب لابن عبدالبر، ج4، ص493
اہلِ اسلام کی مادرانِ شفیق
بانوانِ طہارت پہ لاکھوں سلام
سیما پہلی ماں کہفِ امن و اماں
حق گزارِ رفاقت پہ لاکھوں سلام
(اعلیٰ حضرت)