أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لِّـلۡمُتَوَسِّمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک اس قصہ میں اہل فراست کے لیے نشانیاں ہیں۔

تفسیر:

بیشک اس (قصہ) میں اہل فراست کے لیے نشانیاں ہیں (الحجر : 75) 

 

متوسمین کا معنی 

اس آیت میں فرمایا ہے بیشک اس قصے میں متو سمین کے لے نشانیاں ہیں متو سمین وسم سے بنا ہے اس کے متعلق علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی 502 ھ لکھتے ہیں : وسم کا معنی علامت اتر اور نشان ہے قرآن مجید میں ہے : سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ( الفتح : ٢٩) ان کی نشانی ان کے چہروں میں سجدوں کے نشان ہیں۔ اور متوسمین کا معنی ہے عبرت پکڑنے والے نصحیت حاصل کرنے والے اور معرفت والے تو سم کا معنی ذاہانت ذکاوت اور فراست بھی ہے (المفردات ج 2 ص 679 مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکر مکہ۔ 1418 ھ) 

فراست کا معنی اور اس کے مصادق 

علامہ ابو اسعاد ات المبارک بن محمد ابن الا ثیر الجزری المتوفی 606 ھ لکھتے ہیں :

فراست کے دو معنی ہیں

(1) اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کے دل میں جو چیز ڈالتا ہے جس سے انہیں بعض لوگوں کے احوال کا علم ہوجا تا ہے یہ کبھی کرامت سے ہوتا ہے اور کبھی صحیح گمان سے اور کبھی حدس سے (اچانک کسی چیز کے یاد آنے کو حدس کہتے ہیں)

(2) دلائل تجر بہ ظاہر صورت کی کیفیت اور باطنی اور اوصاف کی مدد سے لوگوں کے احوال کو جان لینا۔ (النہایہ ج 3 ص 383، مطبوعہ دارا لکتب العلمیہ بیروت 1418 ھ)

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں :

ثعلب نے کہا جو شخص تم کو سر سے لے کر قدم تک دیکھے وہ اسم ہے فراست اس شخص کو حاصل ہوتی ہے جس کا دل پاک اور صاف ہو اور دنیاوی تفکرات سے خالی ہو اور وہ شخص گناہوں کے میل برے اخلاق کی کدوت اور لا یعنی کاموں سے استدلال کرنا ہے بعض علامتیں وہ ہوتی ہیں پہلی نظر میں ہی ہر شخص کو نظر آجاتی ہیں اور بعض علامات مخفی اور دقیق ہوتی ہیں وہ ہر شخص پر منکشف ہوتی ہیں اور نہ بادی النظر میں ان کا پتا چلتا ہے

حسن بصری نے کہا متوسمین وہ لوگ ہیں جنہوں ان آیتوں میں غور وفکر کر کے یہ جان لیا ہے کہ جو ذات قوم لوط کو ہلاک کرنے پر قادر ہے وہ اس زمانہ کے کافروں کو بھی ہلاک کرنے پر قادر ہے اور یہ ظاہری دلائل سے کسی چیز کو جان لینا ہے۔

امام شافعی اور امام محمد بن حسن سے مرو ہے کہ وہ دونوں کعبہ کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے ایک شخص مسجدی کے دروازے پت تھا ان میں سے ایک نے کہا میرا گمان یہ ہے کہ یہ شخص برھئی ہے دوسرے نے کہا میرا گمان یہ ہے کہ یہ شخص لوہار ہے اس شخص سے پوچھا گیا تو اس نے کہا پہلے میں بڑھئی تھا اور اب میں لوہار ہوں روایت ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) کے پاس مذجح کی ایک قوم آئی ان میں اشتر بھی تھا حضرت عمرنے کہ اس کو سر سے پاؤں کی طرف دیکھا پھر پوچھا یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ مالک بن الحارث ہے آپ نے کہا اللہ اس کو ہلاک کرے میں دیکھ رہا ہوں کہ اس کی وجہ سے مسلمان پر ایک سخت مصیبت کا دن آئے گا پھر اس کے فتنہ سے جو ہونا تھا وہ ہوا ( یہ شخص حضرت عثمان (رض) کے قاتلوں میں سے تھا) اور روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک (رض) بازار میں گئے اور ایک عورت کی طرف دیکھا پھر وہ حضرت عثمان (رض) کے پاس گئے تو حضرت عثمان نے کہا تم میں سے کوئی شخص ہمارے پاس آتا ہے اور اس کی آنکھوں میں زنا کا اثر ہوتا ہے حضرت انس نے کہا کیا رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی نازل ہونے لگی ؟ حضرت عثمان نے کہا نہیں ! یہ برہان اور فراست ہے اور صحا نہ اور تابعین (رض) سے ایسی بہت مثالیں منقول ہیں۔ (الجامع الا حکام القرآن جز 10 ص 40، مطبوعہ دارالفکر بیروت 1415 ھ)

ملا علی بن سلطان محمد القاری الحنفی المتوفی 1014 ھ لکھتے ہیں :

فراست ایک نور ہے جس کو اللہ تعالیٰ قلب میں القا فرماتا ہے حتی کہ اس سے بعض مغی اس منکشف ہو کر بالکل مشاہد ہوجاتے ہیں اور یہ اس شخص کو حاصل ہوتی ہے جو علم اور عمل میں مرتبہ کمال کو پہنچ جائے جیسا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے میری امت میں ملھمین ہوں گے ( جن پر الہام کیا جائے گا) اور آپ کا ارشاد ہے جس نے چالیس روزتک اخلاص عمل کیا اس کے قلب سے اس کی زبان پر حکمت کے چشمے ظاہر ہوتے ہیں۔ (مرقات ج 3 ص 4 مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان 1390 ھ)

نیز ملا علی قاری لکھتے ہیں : یا فعی نے حکایت کی ہے کہ امام الحرمین میں ابو المعالی ابن الا امام ابو محمد الجوینی ایک دن صبح کی نماز کے بعد مسجد میں بیٹھے ہوئے درس دے رہے تھے اسی اثناء میں شیوخ الصوفیہ اپنے اصحاب کے ساتھ کہیں دعوت میں جاتے ہوئے گزرے۔ امام جوینی نے دل میں سوچا ان صوفیہ کو سوائے کھانے اور رقص کرنے کے اور کیا کام ہے وہ شیخ الصوفیہ دعوت سے واپسی میں پھر اسی حال میں پھر اس مقام سے گزرے اور امام جوینی سے کہا اے فقیہ ! اس شخص کے متعلق آپ کا کیا فتوی ہے جو حالت جنابت میں صبح کی نماز پڑھادے اور پھر اسی حال میں مسجد میں بیٹھ کر علوم کا درس دے اور لوگوں کی غیبت کرے تب امام الحرمین کو یاد آیا کہ ان پر تو غسل واجب تھا پھر اس کے بعد صوفیہ کے متعلق ان کا اعتقاد اچھا ہوگیا۔ (مرقات ج 3 ص 19 مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان 1390 ھ) 

فراست کے متعلق احادیث 

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مومن کی فراست سے ڈور کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی۔ (اسنن الترمذی رقم الحدیث : 3127 جامع البیان رقم الحدیث : 16060، تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث :12427 تاریخ بغداد ج 3 ص 191 کتاب الضعف آئے للعقیلی ج 4 ص 129، حلیتہ الا ولیاء ج 10 ص 281، المعجم الا وسط رقم الحدیث : 7839 المعجم الکبیر رقم الحدیث : 7497 حافظ الہثیمی نے کہا اس حدیث کی سند حسن ہے مجمع الزوائد رقم الحدیث : 1794)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک اللہ کے سوا کچھ ایسے بندے ہیں جو لوگوں کو تو سم (فراست) سے پہچان لیتے ہیں۔ (جامع البیان رقم الحدیث : 16062، المعجم الاوسط رقم الحدیث 2960، مسند البزار رقم الحدیث : 3636 حافظ الہثیمی نے کہا اس حدیث کی سند حسن ہے، مجمع الزوائد رقم الحدیث : 17939 تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 614، تفسیر المعانی ج 3 ص 147 الدرالمنشور ج 5 ص 91)

حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے اور اس کی توفیق سے بولتا ہے۔ (جامع البیان رقم الحدیث : 16064، تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 614 الدرالمشنور ج 5 ص 91)

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا لوگوں میں سب سے پہلے زیادہ فراست والیے تین شخص تھے

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دور کی خاتون جس نے کہا تھا : قَالَتْ إِحْدَاهُمَا يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الأمِينُ القصص : ٢٦) اے اباجان آپ انہیں اجرت پر رکھ لیں بیشک بہترین آدمی جس کو آپ اجرت پر رکھیں وہی ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔ پوچھا تمہیں اس کی قوت کیسے معلوم ہوئی کہا یہ کنوئیں پر آئے اس پر بہت بھاری پتھر تھا جس کو انہوں نے اٹھالیا پوچھا تم کو اس کے امانت دار ہونے کا کیسے علم ہوا ؟ کہا میں ان کے آگے آگے چل رہی تھی انہوں نے مجھے اپنے پیچھے کردیا

اور دوسرا شخص حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دور کا آدمی ہے جس نے کہا : وَقَالَ الَّذِي اشْتَرَاهُ مِنْ مِصْرَ لامْرَأَتِهِ أَكْرِمِي مَثْوَاهُ عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا ( یوسف : ٢١) اور مصر کے جس شخص نے انہیں (راہگیروں سے) خریدا تھا اس نے اپنی بیوی سے کہا اعزازو اکرام سے ان کی رہائش کا اہتمام کرو شاید یہ ہمیں نفع پہنچائیں یا ہم ان کو بیٹا بنالیں۔

اور تیسرے شخص حضرت ابوبکر ہیں جب انہوں نے حضرت عمر کو اپنا خلیفہ بنایا (المعجم الکبیر رقم الحدیث : 2829، مجمع الزوائد رقم الحدیث : 17941)

القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 75