رمضان المبارک کے امتیازات

تحریر:ظفر احمد خان
 رمضان المبارک کو اپنی عظمتوں اور برکتوں کے لحاظ سے دیگر مہینوں پر ایک امتیاز حاصل ہے یہی وہ مقدس اور بابرکت مہینہ ہے جس میں آخری آسمانی کتاب قرآن مجید کا نزول ہوا،اسی عظمت والےمہینہ میں اللہ تعالی کے حکم سے جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں شیطان کو پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے،اس ماہ میں اللہ تعالی خصوصی طور پر اپنے بندوں کی مغفرت کرتا ہے اور سب سے زیادہ اسی ماه میں دوزخ سے آزادی کا پروانہ عطا کرتا ہے، اس ماہ کے روزے رکھنا ایمان والوں پر فرض کیا گیا ہے اس سے پہلے بھی امتوں پر روزے فرض کئے گئے تھے لیکن چند ایسی خصوصیات اور امتیازات اس امت کے روزے داروں کو عطا کی گئی ہیں جن سے پہلی امتوں کو محروم رکھا گیا تھا
        (1)روزے دار کے منہ کی بو: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ اللہ کے رسول سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے اللہ تعالی سے نقل کیا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے ہر عمل کا کفارہ ہے اور روزہ میرے لئے ہے میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، اور یقینا روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے ، اس حدیث میں روزہ میرے لیے ہے اور روزے دار کے منہ کی بو کو مشک سے بھی پسندیدہ کہہ کر اللہ نے روزے دار کو بڑی اہمیت اور عزت بخشی ہےروزے دار کے منہ کی بو کو پسندیدہ قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اسے عیب نہ تصور کریں اور ناگوار سمجھتے ہوئے روزے دار سے کنارہ کشی اختیار نہ کریں اور گفتگو کرنے میں کراہیت محسوس نہ کریں اور یہ بھی کہ یہ بو معدہ خالی ہونے کی وجہ سے آتی ہے اس کا تعلق منہ سے نہیں ہےلہذا مسواک ترک نہیں کرنا چاہئے کیونکہ مسواک کی ترغیب رسول اللہ نے دلائی ہے اور روزے دار کے منہ کی بو پر مسواک کرنے سے کوئی اثر نہیں پڑے گا
        (2)فرشتوں کی دعا: روزے دار کے لئے فرشتے افطار کے وقت تک دعا کرتے ہیں فرشتے اللہ کی معصوم مخلوق ہیں  اللہ کے احکام کی کبھی نافرمانی نہیں کرتے ہمیشہ اللہ کی اطاعت میں لگے رہتے ہیں ان کی دعا قبولیت کے زیادہ قریب ہوتی ہےروزے داروں کے حق میں ایسی نورانی مخلوق کا دعا کرنا امت محمدیہ کے مرتبے کی بلندی کو ثابت کرتا ہے تو وہیں روزے کی اہمیت و عظمت کو بھی واضح کرتا ہے
        (3)جنت کی تزئین: اللہ تعالی روزانہ جنت کو سنوارتا اور مزین فرماتا ہے اور پھر جنت سے خطاب کرکے فرماتا هےکہ میرے نیک بندے اس ماہ میں اپنے گناہوں کی معافی مانگ کر اور مجھے راضی کرکے تیرے پاس آئیں گے، ایک دوسری روایت میں ہے کہ ماہ رمضان کے استقبال کے لئے جنت ایک سال سے دوسرے سال تک مزین اور آراستہ کی جاتی ہے پھر جب رمضان کی پہلی رات آتی ہےتو عرش کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے جو جنت کے درختوں کے پتوں اور دروازوں سے مس ہوتی ہے اور ان کو ہلاتی ہے جسے سن کر جنت کی حوریں آراستہ ہوکر جنت کے بالاخانوں سے جھانکتی اور آواز دیتی ہیں کہ کوئی ہے جو ہم کو اللہ سے مانگ لے اور اللہ ہم سے ان کا نکاح کر دے
       (4) شیاطین کو مقید کرنا: ماہ رمضان المبارک میں سرکش شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے یا بیڑیوں میں جکڑ دیا جاتا ہے جس کی بنا پر بندوں کو گمراہ کرنے اور بہكانے کی کوششوں میں ناکام رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ عام دنوں کی بہ نسبت رمضان میں لوگ برائیاں کم کرتے ہیں یہ بات مشاہدے میں بھی آتی ہے کہ رمضان المبارک میں کتنے ہی چور لٹیرے بدمعاش نشہ خور اور سٹے باز و دیگر برائیوں میں مبتلا افرادبرائیوں سے باز آ جاتے ہیں یا پھر کم کردیتے ہیں
          (5) آخری رات میں مغفرت: رمضان المبارک  کی آخری رات میں روزے داروں کی مغفرت کردی جاتی ہے احادیث میں اس رات کو لیلۃ الجائزہ کہا گیا ہے جس میں ایمان و احتساب کے ساتھ صیام و قیام اور عبادت کرنے والوں کے لئے بڑی خوشخبریاں ہیں،  چنانچہ اس رات میں فرشتے بھی بہت خوش ہوتے ہیں اور اللہ تعالی فرشتوں سے سوال کرتے ہیں اس مزدور کی اجرت کیا ہے جس نے اپنی مزدوری پوری کرلی تو فرشتے عرض کرتے ہیں اسے پوری پوری اجرت اور بدلہ ملنا چاہیےاس پر اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں فرشتوں تم گواہ رہو میں نے امت محمدیہ کے روزے داروں کو اجرت دے دیا یعنی میں  نے روزے داروں کو بخش دیا. 
         (6) نفسانی خواہشات پر روک: روزہ نفس کی خواہشات کو اپنے ضابطے اور قوانین کی گرفت میں لیتا ہے اور خودی کو ان پر قابو پانے کی مشق کراتا ہے۔ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ صبح صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک ہمارے لیے حلال طریقے سے بھی ان نفسانی خواہشات کو پورا کرنا حرام ہے۔ عام دنوں سے زیادہ عبادت کرنی ہے، نماز کا اہتمام کرنا ہے۔ اللہ کی رحمت اپنی مغفرت اور جہنم سے نجات حاصل کرنا ہے، یہ ساری مشق محض اس لیے نہیں ہے کہ ہم اپنی بھوک، پیاس، شہوت اور آرام طلبی پر قابو رکھیں۔ نفس اور جسم پر قابو محض ایک مہینے کے لیے نہیں ہے دراصل اس کا مقصد یہ ہے کہ نفس کے زور دار حربوں کا مقابلہ کر کے ناجائز جذبات اور خواہشات پر قابو پایا جائے بلکہ ہمیشہ کےلیے ان سے نجات حاصل کر لی جائے۔
(7) ریا سے پاک عبادت:  روزہ کا تعلق باطن سے ہے نہ کہ ظاہری اعمال اور حرکات و سکنات سے، ایک روزہ دار کی کیفیت کا اندازہ بخوبی اللہ تعالیٰ ہی لگا سکتا ہے اور بشر اس سے عاری ہے کہ وہ کسی روزہ دار پر یہ بات چسپاں کر دے کہ وہ روزہ دار نہیں ہے، اس میں صبح سے شام تک خورو نوش سے احتراز کرنا اور تمام نفسانی خواہشات سے بچنا روزہ دار کی بہترین خوبی تصور کی جاتی ہے،   ہر عبادت میں ریا کا امکان ہے، صرف روزہ ہی ایک ایسی عبادت ہے جس میں ریاکاری کا کوئی مسئلہ نہیں۔ یہ باطنی عبادت ہے اور اس کا تعلق ایک طرف اللہ تعالی کے ساتھ ہے اور دوسری طرف بندے کے ساتھ۔ نماز، زکوۃ، حج و غیرہ ایسی عبادات ہیں جنہیں دوسرے لوگ دیکھ سکتے ہیں، انہیں محسوس کرسکتے ہیں اور زکوۃ سے مستفید بھی ہوسکتے ہیں۔ مگر روزے کے ساتھ ایسا معاملہ پیش نہیں آسکتا۔ اس کا تعلق صرف روزے دار کی ذات سے ہوتا ہے، دوسرا شخص نہ اسے دیکھ سکتا ہے اور نہ محسوس کرسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص عام لوگوں کے سامنے تو نہیں کھاتا پیتا مگر در پردہ ایسا کرلیتا ہے تو اس کا روزہ کہاں ہوگا، وہ لاکھ اعلان کرتا پھرے کہ میں روزہ دار ہوں مگر اس کی حقیقت کو وہ خود جانتا ہے یا اللہ تعالی جانتا ہے کہ وہ روزہ دار ہے یا نہیں، اس کا تعلق براہ راست اللہ تعالی سے ہے. 
         (8) لا محدود اجر: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ پاک فرماتا ہے کہ انسان کا ہر نیک عمل خود اسی کے لیے ہے مگر روزہ کہ وہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا(بخاری)، یعنی دیگر نیکیوں کے لیے تو اللہ تعالیٰ نے یہ ضابطہ بیان فرمایا ہے کہ”الحسنة بعشر امثالھا” یعنی نیکی کم از کم دس گنا سے لیکر سات سو گناہ تک ملے گی، لیکن روزے کو اللہ تعالیٰ نے اس عام ضابطے اور کلیے سے مستثنیٰ فرما دیا اور یہ فرمایا کہ قیامت والے دن اس کی وہ ایسی خصوصی جزاء عطا فرمائے گا، جس کا علم صرف اسی کو ہے اور وہ عام ضابطوں سے ہٹ کر خصوصی نوعیت کی ہوگی۔
         اللہ تعالی ان امتیازات میں ہمارا حصہ نصیب فرمائے اور رمضان کو ایمان و احتساب کے ساتھ گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین