روزہ ایک روحانی ٹریننگ

تحریر:محمد ظفر نوری ازہری
اللہ رب العزت قرآن شریف میں ارشاد فرماتا ہے: یاَيُهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَيْکُمُ الصِّيَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔ ١۸٣ترجمہ: ائے ایمان والو تم پر روزے فرض کیئے گئے ہیں جیسا کہ تم سےپہلے لوگوں  پر روزے فرض کئے گئے تھے تاکہ تم متقی ہوجاؤ۔
     اس ایت کریمہ سے پتا چلا کہ روزے اس لئیے فرض کیئے گیئے ہیں تاکہ ہمارے اندر تقوی پیدا ہوجائے اور ہم متقی پرہیز گار ہوجائیں۔
اچھا تو!! تقوی کیسے کہتے ہیں؟ یہ بھی سمجتے چلیں۔
     حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ  سے پوچھا کہ تقوی کیسے کہتے ہیں؟ تو حضرت ابی ابن کعب نے فرمایا کہ تقوی کو ہم اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ ہم ایسے راستے پر چل رہے ہیں جہاں کافی کانٹے دار جھاڑیاں ہیں اور ہمارا لباس بھی کمزور ہے تو ایسے عالم میں جب ہم اس راستے پر چلیں گے تو خوب سنبھل کر کپڑوں کو بچا بچاکر چلیں گے کہیں وہ کانٹے ہمارے لباس کو تار تار نہ کردیں ٹھیک اسی طرح  زندگی کے راستے میں بھی  گناہوں کے کانٹوں سے اپنے اپ کو  بچانا برے کاموں سے محفوظ رکھنا تقوی ہے۔(ابن کثیر)
       جو کام جتنا اہم ہوتا ہے اس کی ٹرینینگ بھی اتنی ہی اہم اور کڑی ہوتی ہے روزے کا مقصد ہے “تقوی” یعنی بندے کو گناہوں سے بچانا اور یہ بہت بڑا کام ہے کیونکہ نیکی کرلینا، عبادت کرلینا تو پھر بھی اسان ہے مگر اپنے اپ کو گناہوں سے بچانا یہ بہت مشکل کام ہے۔ روزہ دراصل اپنے اپ کو گناہوں سے بچانے کا بہترین ذریعہ ہے تو ائیے دیکھتے ہیں روزہ کیسے گناہوں سےبندے کو بچاتاہے۔کیسے اللہ کے قریب کرتا ہے۔ جس سے بندہ متقی پرہیزگار بن جاتاہے۔
قارئین کرام
    رات ساڑے تین چار بجے کا ٹائم وہ ٹائم ہوتاہےجب ہر طرف سنٹا چھایا ہوا ہوتا ہے باہر صرف کتوں اور چھنگروں کی اوازوں کا پہراہوتاہے اور گھروں میں کولر پنکھوں اور خراٹوں کی اوازوں کا شورہوتاہے اس وقت نیند شباب پر ہوتی ہے۔ نیند کےعلاوہ اس گھڑی  کچھ اچھا نہیں لگتا ہے۔ ایسے عالم میں اچانک مسجد کے مائک سے اواز اتی ہے “حضرات! السلام علیکم! سحری کا وقت ہوچکا ہے اٹھو اور سحری کرلو اور جو لوگ اٹھ گئے ہوں وہ اپنے پڑوسیوں کو بھی اٹھا دیں تاکہ وہ بھی سحری کرلیں” اس وقت اٹھنا کتنا مشکل ہوتا ہے یہ بتانے کی ضروت نہیں ہے پھر اٹھ کر کھانا کھانا  یہ تو اور مصیبت کا کام کیوں کہ  یہ سونے کا وقت ہے ناکہ کھانے کا  لیکن بندہ یہ سوچ کر اٹھ جاتاہے  مولی! اگر تیری رضا اسی میں ہے تو میں اٹھوں گا بھی اور سحری بھی کروں گا۔ جیساکہ تیرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے  “سحری کرو؛ کیونکہ سحری میں برکت ہوتی ہے” (بخاری، مسلم)
“سحری تناول کرنا  ہمارے اور اہل کتاب کے روزے کے درمیان فرق ہے”(مسلم)
اور ایک حدیث میں یہ ہے کہ “بیشک اللہ تعالی سحری کرنے والوں  پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے فرشتے  ان کیلیے  رحمت کی دعا کرتے ہیں”(احمد)
     جب ان احادیث کو سوچتاہے  تو فورا بستر چھوڑ کر اٹھ جاتا ہے اپنے داتوں کی صفائی کر کے وضو بنا کر دورکعت نماز تہجد پڑھ کر سحری کھانے کے لئیے تیار ہوجاتا ہے۔ سحری سے فارغ ہو کر وہ جیسے ہی بستر پر لیٹتا ہے ابھی چند منٹ ہی گزرتے ہیں کہ پھر مسجد سے اذان کی اواز اتی ہے اور مؤذن کہتاہے “آؤ کامیابی کی طرف” “آؤ نماز کی طرف” پھر وہ بستر سے اٹھتا ہے، اور عاجزی و انکساری کےساتھ مسجد کی طرف چل پڑ تاہے۔ نماز فجر ادا کرنے کے بعد کچھ دیر مسجد میں روک کر ذکر،اذکار، اوراد و وظائف اور قرآن شریف کی تلاوت سے اپنے قلب و جگر کو چمکاتا ہے، پھر  گھر اکر کچھ ارام کرنے کے بعد روٹی روزی کے لئیے اپنے کام پرچلا جاتا ہے۔ اس دوران وہ تمام گناہوں کی چیزوں سے روکتا ہے، اپنے انکھ، ناک، کان، دل، دماغ اور زبان کی بھی گناہوں سےحفاظت کرتا ہے۔ حالتِ روزہ میں وہ اپنی بیوی سے بھی اس طرح کی باتیں نہیں کرتا ہے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے نا “جوروزہ رکھ کر بری بات کہنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالی کو اس کی پرواہ نہیں کہ اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے”(بخاری ) 
        ظہر کی نماز کے بعد اب گرمی تیز ہونے لگتی ہے سورج بھی اگ برسانے لگتا ہے ادھر  دھیرے دھیرے بھوک اور پیاس کی شدت میں بھی تیز ی انا شروع ہوجاتی ہے ہونٹ پیاس کی وجہ سوکھ رہے ہوتے ہیں گلا چٹک رہا ہوتا ہے۔ کمزوری کے احساس میں بھی برابر اضافہ ہو رہا ہوتا ہے۔ وہ بھوک پیاس کی سختی کو  برداشت کر رہا ہوتا ہے۔ جبکہ کھانے پینے کی تمام چیزیں اس کے پاس موجود ہوتی ہیں۔ مجال ہے کہ تنہائی میں بھی کھانے پینے کی کسی چیز کو ہاتھ لگائے۔ اس کی جان کی طرح یہ بات ہمیشہ اس کے ساتھ رہتی ہے کہ میرا مولی! مجھے دیکھ رہا ہے پھر چاہے وہ گھر کی چار دیواری میں یا آفس کے بند کیبن میں ہو ہر دم ہر پل روزہ اسے بتاتا رہتا ہے۔ تیرا مولی تجھے دیکھ رہا ہے اور جانتے ہیں!!!  بندے کے اندر یہ احساس بڑے بڑے مجاہدے اور چلوں کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ جو روزہ اسے پہلی گھڑی سے ہی عطا کردیتا ہے….سبحان اللہ!  
       اب جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے بھوک پیاس بھی بڑھتی جاتی ہے یہ بھوک پیاس انسان کے اندر بیٹھے اس جانور(نفس) کی گردن مروڑ کے رکھ دیتی ہے جو اسے گناہ پر اکساتاہے اس سے غلط برے اور گندے کام کراتا ہے۔ ویسے آپ نے دیکھا ہوگا اکثر ادمی اسی وقت گناہ کرتا ہے، جب اس کا پیٹ بھرا ہوا ہوتا ہے۔  
       اسی اثنا میں نماز عصر کا وقت ہوجاتا ہے روزہ دار نماز عصر  کے لئیے مسجد جاتاہے، اور جیسے ہی وضو کے لئیے “وضو خانے” پر  بیٹھ تاہے تو ٹھنڈا ٹھنڈا پانی اسے بہت اچھا لگتا اور وضو کرتے وقت تو روزہ دار  پانی منہ میں لے لیتا  ہے اب اگر پانی کا گھونٹ  نگل جائے تو کسی کو کیا پتا چلے گا مگر  روزہ دار کو اس کا ضمیر  چھنجوڑتا ہے اور کہتا ہے کوئی نہیں دیکھ رہا تو کیا ہوا تو نے جس رب کے لئیے روزہ کھا ہے وہ تو دیکھ رہا ہےنا  بتا قیامت کے دن اپنے مولی کو کیا منہ دکھائےگا پھر وہ پانی کو منہ سے نکال دیتا ہے، اور وضو مکمل کر کے نماز عصر ادا کرتا ہے نماز کے بعد اپنا کام مکمل کر کے اب وہ اپنے گھر جانے کی تیاری کرتا ہے۔ اب کیا ہوتا ہے صبح سے پیٹ خالی ہونے کی وجہ سے اب سانسوں میں ہلکی سی اسمیل انے لگتی ہے اور اس بو کو کوئی بھی پسند نہیں کرتا ہے اگر کسی کے منہ سے بو ائے تو لوگ اس سے گھن کرتے ہیں اس سے بات نہیں کرتے ہیں اس سے دور رہتے ہیں لیکن قربان جائیں!! روزدار کی عظمت پر حدیث قدسی میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں “روزدار کی منہ کی بو اللہ کو مشک سےبھی  زیادہ پسند ہے”(بخاری) یہاں سے یہ پتا چلا “بو” جسے کوئی پسند نہیں کرتا ہے روزدار کے منہ کی بو بھی اللہ کو پسند ہے تو بتاؤ! اللہ کو روزدار کا سحری میں اٹھنا اور دن بھر بھوکا پیاسا رہنا پھر تھکاوٹ کے باوجود تراویح پڑھنا کتنا پسند ہوگا؟ جیسے ہی گھر پہونچتا ہے چینج کرنے کے بعد وضو کرتاہے، اور کچھ ہی دیر میں افطاری کا دستر خوان سجادیا جاتا ہے وہ دستر خوان کے پاس اکر  بیٹھ جاتا ہے  یہ وقت بہت ہی سہانا ہوتا ہے ایسا لگتا ہے جیسے دن بھر کی محنت کے بعد محنتان ملنے کا وقت اگیا ہو ان مسرت  بھرے لمحات کو صرف روزدار ہی محسوس کرسکتا ہے اور ہاں! اس وقت جو دعا کی جاتی ہے اللہ اسے قبول فرمالیتا ہے اپ نے دیکھا ہو گا جب لوگوں کو حکومت سے کوئی بات منوانی ہو تو وہ بھوک ہڑتال پر بیٹھ جاتے ہیں پھر حکومت کو بھوکوں کی بات ماننی پڑتی ہے، اس بھوک میں بڑی طاقت ہے اسی بھوک کے عالم میں افطار کے وقت روزہ دار بھی جو دعا کرتا ہے تو اللہ پاک بھی روزہ دار کی دعا قبول فرمالیتا ہے جیساکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “افطار کے وقت کی قبول ہوتی ہے”۔ ترمذی
دستر خوان پر ایک سے ایک نعمت ہوتی ہیں۔ دل چاہتاہے بس کھاتے ہی رہیں مگر دو چار مینٹ میں پھر نماز کا وقت ہوجاتا ہے تو دستر خوان کی تمام نعمتوں کو چھوڑ کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر  ہوجاتاہے۔  پھر نماز کے بعد کھانا کھاتا ہے دن بھر کا روزہ اور تھکاوٹ کی وجہ سے  بدن چور چور ہو رہا ہوتا ہے۔ اب دل چاہتا ہے کہ بس سوجائیں ذرا کمر سیدھی کری نہیں کہ انکھ لگ جاتی عشا کی اذان کی خوبصورت اواز سے اس کی  انکھ کھل جاتی ہے۔  اب عشاء کی نماز کے ساتھ میں ۲۰ رکعات تراویح بھی پڑھنا ہے کافی سستی اتی ہے لیکن ارشاد رسول ہے “عشاء کی نماز منافقین پر بھاری ہوگی”(ابن ماجہ) اس لئیے جلدی سے مسجد پہونچ جاتا ہے نماز عشاء اور تراویح ادا کرتا ہے۔ تو اللہ کی رحمت کیسے برستی ہے  حضور فرماتےہیں “جو ایمان اور احتساب نفس کے ساتھ قیام اللیل کرتا ہے یعنی تراویح پڑھتا ہے  تو اللہ اس کے پچھلے تمام گناہ صغیرہ معاف فرماتا ہے”(بخاری مسلم)
تراویح کے بعد کچھ سوتا ہے پھر سحری سے دوسرا روزہ شروع ہوجاتا ہے اور روحانی ٹرینینگ کا یہ پروسیزر ۲۹ /٣۰ دن تک مسلسل جاری رہتا ہے جس سے روزدار کو مندجہ ذیل باتیں حاصل ہوتی ہیں۔
  
 گناہوں سے پاک صاف ہوجاتا ہے متقی پرہیزگار ہوجاتا ہے۔
سحری اور افطاری میں پابندئ وقت کی وجہ باقی تمام امور میں بھی وقت کا پابند ہوجاتا ہے۔
روزے میں ٣۰ دن حلال چیزوں کو چھوڑنے کی وجہ سے تمام حرام چیزوں کو چھوڑنا اسان ہوجاتا ہے۔
بھوک پیاس کی وجہ سے غریبوں کی بھوک پیاس کا  احساس ہوتا ہے۔
کھانا اور پانی کتنی بڑی نعمت ہے پتا چلتا ہے۔ 
 ہردم ہرپل اللہ پاک کا قرب عطا ہوتا ہے۔
بے شمار طبی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔
نفس پر کنٹرول کرنا آتا ہے۔
مستجاب الدعوات بن جاتا ہے۔
ریا کاری سے بچ جاتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔
        مختصر میں یوں سمجھ لیں اگر ہم اپنی پوری زندگی رمضان کی طرح بنالیں گے تو پھر موت بھی عید کی طرح ہو گی۔ان شاء اللہ تعالی