روزے کی حکمتیں

تحریر: ظفر احمد خان
 ماہ رمضان المبارک ہم پر سایہ فگن ہے الحمداللہ، اس مہینے کی سب سے اہم عبادت ہے روزہ، اس میں بہت ساری حکمتیں پوشیدہ ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی عبادت ہے کہ جس کے ذریعہ عابد اور معبود کے درمیان حقیقی تعلق ظاہر ہوتا ہے، روزہ ایک ایسی عبادت ہے کہ جس کے ذریعہ یہ بات بالکیہ طور پر نمایا ں ہوجاتی ہے کہ کون اپنے مولی کا مطیع و فرمابنردار ہے اور کون اپنی خواہشات نفس کا پیروگار ہے۔اسی سے بندہ کے ایمان کی صداقت اواس کے اندر ہر موقع پر اللہ تعالیٰ کی نگرانی کا تصورکی گہرائی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اگر کسی مسلمان کو بلاکسی عذرشرعی روزہ توڑنے کے لئے مارا جائے یا اس کو قید و بند میں جکڑ دیا جائے تو بھی وہ ہرگز اپنا روزہ نہ توڑے گااور روزہ کی یہی  سب سے زیادہ متاثر کن حکمت ہے۔
      روزے کی فرضیت کی ایک حکمت حصول تقویٰ ہے، جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے “اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقوی اختیار کرو” (البقرہ: 183)، تقوی یہ ہے کہ انسان کے اندر ایسی کیفیت پیدا ہوجائے جو اللہ کے تمام احکام بجالانے اور تمام برائیوں سے دور رہنے پر آمادہ کر دے. 
          روزے کی ایک اور عظیم حکمت رب کی خوشنودی اور آخرت کی فلاح ہے، یہ ایک ایسی عبادت ہے جس کے ذریعہ بندہ اپنے رب کا تقرب حاصل کرتاہے، کھانے ،پینے اور جنسی تعلقات وغیرہ کو اللہ رب العالمین کی محبت پر قربان کر دیتاہے ،تاکہ وہ رب کی خوشنودی اور آخرت کی فوزوفلاح سے ہمکنار ہوسکے، اس ایثا ر وقربانی اور کسر نفی سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بندہ اپنی ذات کے اوپر رب کی ارادت وچاہت کو اور دنیا پر اخروی زندگی کو ترجیح دیتاہے ۔
     روزے کی ایک نہایت ہی زبردست حکمت اللہ کے عطا کردہ نعمتوں کا شکر کرنا ہے، روزہ کھانا پینا ترک کر دینے کا نام ہے اور یہ اللہ کی بڑی نعمت ہے جب انسان کچھ دیر کے لیے ان نعمتوں کے استعمال سے رک جاتا ہے تو اس کی قدر و قیمت معلوم ہوتی ہے اور یہی قیمت جذبہ شکر پیدا کرتی ہے. 
         روزے کی ایک اور حکمت شھوات نفسانی پر قابو پانا ہے ، کیونکہ جب نفس آسودہ ہو اور انسان کا پیٹ بھرا ہو تو وہ شھوات کی تمنا کرنے لگتا ہے ، اور بھوک کی حالت میں ایسا نہ کرتے ہوئے خواہشات سے بچتا ہے ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :”اے نوجوانوں کی جماعت ! تم میں سے جو بھی نکاح کرنے کی طاقت رکھتا ہے وہ شادی کرے ، کیونکہ شادی کرنا آنکھوں کونیچا کردیتا ، اورشرمگاہ کی حفاظت کرتا ہے ، جوشخص نکاح کی طاقت نہ رکھے تواسے روزے رکھنے چاہیيں ، کیونکہ یہ اس کے لیے ڈھال ہیں”. 
          روزے کی ایک عمدہ حکمت حصول صبر ہے،  انسان کے اندر یہ جوہر پیدا کرنا کہ وہ کسی نعمت کی محرومی پر شکوہ شکایت کے بجائے صبر سے کام لے اور اپنی ذات کو ابتلاء و آزمائش کی گھڑی میں حالات کا خندہ پیشانی سے مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے صبر کریے اور اللہ کا شکر بھی ادا کرے. 
     روزے کی یہ بھی بہترین حکمت ہے کہ وہ  جذبہ ایثار و ہمدردی کو ابھارتا ہے، روزے کی حالت میں انسان عملاً بھوک پیاس کی کیفیت سے گزرتا ہے جس سے معاشرے کے مسکین نادار اور مفلوق الحال افراد روز دو چار ہوتے ہیں، روزے کے ذریعہ آسودہ حال لوگوں کو ان مفلوک الحال افراد کی زبوحالی کا احساس ہوتا ہے جس سے اخوت محبت مروت انسانیت اور دردمندی وغمخوار جیسی اعلی اقدار وجود میں آتی ہیں. 
    روزے کی ایک اعلیٰ حکمت نفس کی پاکیزگی ہے، روزہ انسان کے نفس اور قلب کے علاوہ باطن کو ہر قسم کی آلودگی اور گندگی سے پاک کرکے مطہر کردیتا ہے، ایک ماہ کے مسلسل روزے اور مجاہدے کا عمل انسان کو ایسا تربیت یافتہ کردیتا ہے جس سے آئندہ کی عملی راہ آسان ہو جائے. 
       روزے کی ایک جاندار و شاندار حکمت یہ ہے کہ انسان کو حرام کردہ چیزوں سے بچنے کی تربیت مل جائے، وہ اس طرح کی انسان جب صرف اور صرف اللہ کی خوشنودی کے لئے اس کے حکم سے کچھ دیر کے لیے حلال چیزوں سے رک جاتا ہے تو حرام چیزوں سے تو بدرجہ اولیٰ رک جائے گا اس لئے روزہ اللہ کے حرام کردہ امور سے بچاؤ کا ذریعہ ہے
      روزے کی ایک  حکمت مومن کو کثرت اطاعت و عبادت کا عادی بنانا ہے، کیونکہ انسان روزے کے حالت میں بہت زیادہ اطاعت و عبادت میں مشغول ہوتا ہے اور بعد میں اس کا عادی ہو جاتا ہے. 
        روزے کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ  ہے کہ اس سے بہت سے طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں اور کئی امراض سے حفاظت ہوتی ہے ، روزہ کے صحت پر مبنی متعدد فوائد ہیں جو کھانے اور پینے کی کمی اور ہاضمی نظام کو راحت پہنچانے کے باعث حاصل ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ،نسان سے اس کے سبب کئی  خطرناک امراض کو دور کردیتا ہے، اسی طرح کھانے کے اوقات کا لحاظ رکھنے اور معدہ کو ایک معینہ مدت کیلئے آرام دینے سے انسانی جسم کو صحت و توانائی حاصل ہوتی ہے ۔
       اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے حکمتیں اور مقاصد علمائے کرام نے بیان کیے ہیں، اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو روزے کے مقاصد اور حکمتوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور عبادت پر ہماری مدد فرمائے آمین