عالمی یوم مادر (World’s Mother Day)

تحریر: محمد ظفر نوری ازہری
اس زمانے کی بات ہے جب عرب میں عورتوں کا کوئی مقام نہیں تھا اور معاشرے میں ان کی نہ کوئی عزت اور نہ ہی  کوئی حیثیت تھی اور تو اور جس کے شوہر کا انتقال ہوجائے اسے تو منہوس،  ڈائن اور کلموہی سمجھتےتھے، بیوا کے سائے سے بھی نفرت کرتے تھے اور اس سے بچنے کےلیے اسے ایک کال کوٹھری میں بند کردیا کرتے تھے،  بچیوں کو تو وہ لوگ پیدا ہوتے ہی دفن کردیا کرتے تھے، عورتوں کے اوپر اس قدر ظلم و زیادتی  ہو رہی تھی کہ جسے تو بیان بھی نہیں کیا جاسکتا ہے اس کے باوجود  عرب کی اسی سرزمین پر  اسی جہالت بھرے ماحول میں ایک خاتوں ایسی بھی تھیں جن کی سب عزت کیا کرتے تھے ان کا نام ادب و احترام سے لیتے تھے،ان کی امانت و دیانت کا دور دور تک چرچہ تھا ان کی طہارت و پاگیزگی کی وجہ سے سب انہیں “طاہرہ” کے لقب سے بھی یاد کرتےتھے۔ بڑے بڑے تاجر انہیں “سیدۃ التجار” کہتے تھے سارا عرب جنہیں “کوئین آف دی عرب” یعنی ملکہ عرب کہتا تھا ان کا بزنس ایک طرف ملک شام تو دوسری طرف یمن تک  پھیلا ہوا تھا اتنے بڑے کاروبار کو سنبھالنے کے لیے ورکرس کا بھی ایک اچھا خاصا عملہ تھا، کئی کئی نوکر چاکر ان کے حکم کے انتظار کے لیے آگے پیچھے گھوما کرتے تھے، بہت ہی لگزری لائف تھی، ان کے پاس عزت و  شہرت اور  دولت کسی چیز کی بھی توکمی نہیں تھی یوں کہہ سکتے ہیں وہ سب  کچھ تھا جس کی خواہش ایک انسان کو ہوتی ہے ارے! یہ اتنی خوبیوں والی ہستی کون تھیں؟کیا نام تھا ان کا؟ تو سنو!!!  ان نام حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا تھا جو حضور کی پہلی شریک حیات تھیں، خاتون جنت حضرت فاطمہ کی ماں تھیں، مولی کائنات کی ساس تھیں، حسن و حسین کی نانی تھیں، ہاں ہاں وہ سب مومنین کی ماں تھیں، جنہوں نے ایک تاجر فیملی میں انکھ کھولی آپ کے والد خویلد عرب کے نامی گرامی تاجر تھے ان کا کوئی لڑکا نہیں تھا اس لئے کاروبار کی ذمہ داری بھی آپ ہی کے سر تھی اور پھر والد کے انتقال کے بعد تو پورا بزنس آپ ہی نے سنبھال اور اپنی حکمت عملی، محنت لگن، اور ایمان داری سے اسے کئی گنا زیادہ بڑھادیاتھا!
 آپ کا پہلا نکاح ابو ہالہ بن نباش تمیمی سے ہوا ان سے آپ کے دو بیٹے تھے ہالہ اور ہند ابو ہالہ کےانتقال کے بعد پھر آپ کا دوسرا نکاح عتیق بن عابد سے ہوا اور ان سے ایک بیٹی ہوئی اس کا نام بھی ہند تھا مگر کچھ دنوں کے بعد ان کا بھی انتقال ہوگیا (۲) ایک کے  بعد ایک صدمے کی وجہ سے دنیا سے آپ کی طبیعت اچاٹ سی ہوگئی تھی اور آپ زیادہ تر اپنا وقت تنہائی میں گزارنے لگیں لیکن اپ کی عفت وطہارت عظمت و شرافت اور  بے پنا خوبیوں کی وجہ سے کئی لوگ آپ سے نکاح کے خواہش مند تھے لیکن اب آپ کا دل شادی بیاہ کی طرف سے بالکل نکل چکا تھا آپ کی عمر بھی چالیس سال کے آس پاس ہو چکی تھی اب تو بس آپ کو ایک عقلمند، ایماندار،دور اندیش، نیک صالح، آدمی کی تلاش تھی جو آپ کے کاروبار کو سنبھالے آپ کی ہیلپ کرے وغیرہ وغیرہ اس وقت ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت و دیانت کے گھر گھر چرچے تھے لوگ آپ کو امین اور صادق جیسے القابات سے یاد کرتےتھے حضرت خدیجہ کے کہنے پر  حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کا سامان تجارت لیکر بصری گئے حضرت خدیجہ نے آپ پر نظر رکھنے کے لیے اپنے غلام میسرہ کوبھی آپ کے ساتھ کردیا تھا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے  منفرد انداز اور سلیقے کی وجہ سے تجارت میں زبردست فائدہ ہوا اور قافلے کا ہر ایک آدمی آپ سے خوش تھا واپسی پر میسرہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی ایک ایک چیز بتائی اور بہت تعریف کی، اس وجہ سے آپ کا دل حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف مائل ہونے لگا پھر حضرت خدیجہ نے اپنی سہیلی نفیسہ کے ذریعہ حضور کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے اور آپ کے گھر والوں نے اس رشتے کو منظور کرلیا اور نکاح کے لئے دن اور تاریخ بھی مقرر ہوگئے اور وقت مقررہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم  اپنے خاندان کے لوگوں کے ساتھ حضرت خدیجہ کے گھر پہونچ گئے اور ٥۰۰ درہم مہر کے ساتھ آپ کا نکاح ہو گیا، نکاح کا خطبہ ابو طالب نے پڑھا اس وقت حضور کی عمر ۲٥ سال اور حضرت خدیجہ کی عمر ٤۰ سال تھی
 نکاح کے بعد اب حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ام المومنین بن چکی تھیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  انہی کے گھر پر رہنے لگے آپ  حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کا بہت خیال رکھتی تھیں کبھی کوئی کام حضور کی مرضی کے خلاف نہیں کرتی تھیں اور حضور بھی آپ سے بے پناہ محبت فرماتے تھے آپ سے چار بیٹیاں اور دو بیٹے ہوئے حضور کئی کئی دن  عبادت کے لئے غار حرا میں چلے جاتے تھے آپ گھر کا سارا کام خود کرتیں  بچوں کی دیکھ بھال کرتیں اور اپنے ہاتھوں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے لئے کھانا پکاتیں اور ٹفن تیار کر کے غار حرا لیجاتیں غار حرا آپ کے گھرسے دو تین میل کے فاصلے پر تھا آپ کی اس خدمت پر اللہ کی بارگاہ سے آپ کے لیے سلام آیا
پھر ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم غارحرا میں عبادت و ریاضت میں مشغول تھے اور قرآن شریف کی پہلی وحی نازل ہوئی جب آپ گھر تشریف لائے آپ نے فرمایا مجھے کمبل اڑھاؤ مجھے کمبل اڑھاؤ آپ کافی گھبرائے ہوئےتھے اس وقت حضرت خدیجہ نے آپ کو تسلی دی اور آپ کو ورقہ بن نوفل(پچھلی کتابوں کے عالم تھے) کے پاس لائیں اور ساری بات بتائی تو ورقہ بن نوفل کی بات سے یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ کے نبی ہیں تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  سب سے پہلے کلمہ شہادت پڑھ کر مسلمان ہوگئیں اس طرح اپ اس امت کی سب سے پہلی مسلم خاتون بن گئیں اور آپ ہی  سب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے نکاح میں آئیں اس طرح اپ اس امت کی سب سے پہلی ام المومنین بنیں اور اس امت میں یہ اعجاز بھی آپ ہی کو حاصل ہے کہ سب سے پہلے نماز پڑھنے والی سب سے پہلے وضو فرمانے والی سب سے پہلے اپنامال اسلام اور مسلمانوں پر خرچ کرنے والی  آپ ہی ہیں یوں اپ امت کی خاتون اول بنیں
 آپ نے اپنا پورا مال اسلام اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  پر نچھاور فرمادیا اور اللہ نے آپ کے مال کو اتنی شان عطا فرمائی کہ آپ کے مال کو اللہ نے اپنا مال فرمایا ارشاد ربانی ہے”ووجدک عائلا فاغنی”اور ہم نے آپ کو ضرورت مند پایا تو غنی کردیا…… سبحان اللہ!! آپ نے کسی حال میں  بھی سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہ چھوڑا سکھ دکھ میں ہمیشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہیں آپ کو حوصلہ اور تسلی دیتی رہیں شعب ابی طالب کا وہ زمانہ کتنا درد ناک تھا جس میں مسلمانوں کا مکمل بائیکاٹ کردیا گیا تھا اس وقت مسلمانوں نے تین سال کا عرصہ بہت مشکل میں گزارا جب کھانے پینے کو کچھ نہیں تھا تو پتوں پر گزر بسر کیا بتاؤ ! اس وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کو حضرت خدیجہ پرکتنا پیار آتا ہوگا جو ملکہ عرب تھیں عیش و آرام کی زندگی چھوڑ کر اس پریشانی کے عالم میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ کھڑی تھیں
  پھر اعلان نبوت کے دسوے سال ١۰ رمضان المبارک کو٦٤ سال ٦ ماہ کی عمر میں آپ اس دنیائےفانی کو خیرآباد کہہ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے مالک حقیقی سے جاملیں( انا للہ وانا الیہ راجعون)  اس وقت نماز جنازہ کا حکم  نہیں آیا تھا اس لیے آپ کی نماز جنازہ نہیں ہوئی مگر سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے ہاتھوں سے آپ کو قبر میں اتارا سبحان اللہ!!  اس قبر میں روشنی کا کیاعالم  ہوگا جس میں میت سے پہلے سراج منیر اترے ہوں ہمارا تو ایمان کہتا ہے پورا جنت المعلی قبرستان جگمگا اٹھا ہوگا  آپ کے وصال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا شدید غم ہوا کہ اس سال کو تاریخ میں “عام الحزن” یعنی غموں کا سال کہاجانے لگا۔
   تقریبا ۲٥ سال تک آپ سرکار  دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہیں اس مدت میں سرکار نے دوسرا نکاح نہیں فرمایا محبت کا عالم تو یہ تھا بعد وصال بھی سرکار کبھی ان کے خلاف ایک بات نہیں سنی اسی محبت کی وجہ سے سرکار نے ان کی سہلیوں کا بھی خیال رکھا ہر اس چیز کا خیال فرمائے جسے آپ سے نسبت تھی
  آپ مومنین کی پہلی ماں ہیں اس لیے 10 رمضان المبارک کو “یوم مادر” کے طور پر منائیں اپنے گھر والوں  کو خاص طورسے خواتین کو ان کے بارے میں بتائیں اور اگر اپنی والدہ کا کسی وجہ سے دل دکھایا ہے تو سچے دل سےان سے معافی مانگیں اور ہوسکے تو اپنی والدہ کو “مدر ڈے” پر کوئی نا کوئی تحفہ بھی دیں مولی ہمیں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین