أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوۡطِ ۨالۡمُرۡسَلُوۡنَۙ ۞

ترجمہ:

پھر جب فرشتے لوط کے گھر گئے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر جب فرشتے لوط کے گھر گئے، لوط نے کہا بیشک تم ناآشنا ہوگ ہو۔ فرشتوں نے کہا بیشک ہم آپ کے پاس عذاب کو لے کر آئے ہیں جس میں یہ لوگ شک کرتے ہیں، اور ہم آپ کے پاس برحق عذاب لے کر آئے ہیں اور بیشک ہم ضرور سچے ہیں سو آپ کچھ رات گزرنے کے بعد اپنے گھر والوں کو لے کر روانہ ہوں اور آپ ان سب کے پیچھے چلیں اور آپ میں سے کوئی شخص مڑکر نہ دیکھے اور آپ سب وہاں جائیں جہاں کا آپ کو حکم دیا گیا ہے۔ ) الحجر : 65 ۔ 61) 

فرشتوں کا حضرت لوط کے پاس حسین و جمیل لڑکوں کی صورت میں جانا 

جب فرشتوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو فرزند کی خوشخبری دے دی اور یہ بتایا کہ وہ ایک مجرم قوم کو عذاب دینے کے لیے آئے ہیں پھر اس کے بعد وہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی آل کے پاس اور ان کے گھر گئے حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو اجنبی شکلوں میں دیکھا تو کہا تم اجنبی اور ناآشنا لوگ ہو دوسرا احتمال یہ ہے کہ منکرون انکار سے بنا ہے یعنی تم پر انکار کیا گیا ہے کیونکہ وہ بہت حسین و جمیل نوجوانوں کی صورتوں میں آئے گے اور قوم لوط خوبصورت لڑکوں کے ساتھ برافعل کرتی تھی تو حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان پر انکار کیا کہ ان کی وجہ سے وہ اپنی قوم کے کسی فنتہ میں مبتلا نہ ہوجائیں فرشتوں نے کہا جس عذاب میں آپ کی قوم کے کافر اور منکر شک کرتے ہیں ہم اس عذان کو نازل کرنے کے لیے آئے ہیں اور اس عذاب کا نازل ہونا بالکل یقینی اور برحق ہے اس عذاب سے محفوظ رہنے کے لیے کچھ رات گزر نے کے بعد آپ اپنے گھر والوں کو لے کر روانہ ہوں اور آپ ان سے کے پیچھے چلیں تاکہ ان میں سے کوئی واپس نہ جاسکے مبادا اس پر بھی عذان نازل ہوجائے اور اپ میں کوئی شخص پیچھے مڑکر نہ دیکھے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ عذاب کو دیکھ کر اس پر دہشت طاری ہو اور اس کے ہوش وحواش جاتے رہیں۔ اور آپ سب وہاں جائیں جہاں آپ کا حکم دیا گیا ہے حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس سے مراد ملک شام ہے اور مفضل نے کہا آپ وہاں جائیں جہاں کے متعلق آپ سے جبرائیل نے کہا ہے

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 61