قرآن اور حقوق انسانی

تحریر: محمد نثار نظامی
اسلام مکمل نظام حیات اور دین فطرت ہے جس کی بنیاد عدل و مساوات ، اخوت وبھائی چارگی،
حقوق کی ادائیگی اور رواداری پر رکھی ہوئی ہے ، صالح معاشرہ کی تعمیر کے لیے اسلام نے جو اصول وقوانین مقرر فرماۓ وہ دیگر مذاہب عالم میں ناپید ہیں اس کے باوجود بھی بغض و حسد اور تعصب کی عینک لگانے والوں کو یہ ظلم و ستم کا دین نظر آتا ہے، اسلام اس مذہب مہذب کا نام ہے۔
جس میں تمام انسانی مسائل کا حل موجود ہے ،اس پاکیزہ مذہب میں امیر،غریب ، بادشاہ،فقیراورصغیروکبیر سب کے لئے واضح اور تفصیلی قوانین بیان کیۓ گئے ہیں
انسانی زندگی کا کوئی ایسا حصہ نہیں ہے جس کے لیے اس پاکیزہ مذہب نے مکمل دستور اور واضح قانون بیان نہ کیا ہو 
اسلام کے منجملہ بیان کردہ اصول و قوانین میں سے حقوق انسانی بھی ہے
اسلام حقوق  انسانی اور انسانی عظمت کی پاسداری کا داعی ہے اور اپنے ماننے والوں کو اس پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیتا ہے 
آج پوری دنیا میں صرف انہیں قوانین پر عمل کرکے انسانی حقوق کی حفاظت کی جاسکتی ہے جو مذہب اسلام نے قرآن و حدیث کے ذریعہ دنیا کو عطا کیے ہیں 
اسلام انسان کے بنیادی حقوق کا سب سے بڑا داعی ہے ،قبل اسلام انسان کو اس کے بنیادی حقوق سے بھی محروم کردیا گیا تھا مذہب اسلام نے انسانی حقوق کے سلسلے میں تاکیدی احکام جاری کیے اور پوری انسانیت کو عدل و انصاف ،حقوق مساوات اور آزادئ اعتقاد کا اختیار دیا 
حقوق مساوات: قرآن مقدس میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا
 *یآیھا الناس انا خلقنکم من ذکر و انثی و جعلنکم شعوبا و قبائل لتعارفوا ان اکرمکم عنداللہ اتقکم ان اللہ علیم خبیر*( اے لوگوں ! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں شاخیں اور قبیلے کیا کہ آپس میں پہچان رکھو ،بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے ) قرآن مقدس کی مذکورہ آیت سے معلوم ہوگیا کہ دنیا کے تمام انسان ایک اصل سے ہیں کوئی انسان اپنی پیدائش کی وجہ سے حقیرو ذلیل نہیں ہوسکتا ہے،کسی کو دوسرے پر تفوق نہیں ہے ، اونچ نیچ کا کوئی امتیاز نہیں اللہ کا بندہ ہونے میں سب برابر ہیں سب کو یکساں حقوق حاصل ہیں ہر انسان کی عزت و آبرو کی ضمانت ہے ہاں اللہ کے یہاں اگر کوئی برتری مقبول ہے تو وہ اعمال حسنہ کی برتری ہے جس کے اعمال اچھے ہونگے وہ اچھا ہے اور جس کے اعمال مذموم ہونگے وہ برا ہے مگر نفس انسانیت میں سب برابر ہیں کسی کونیچ نہیں خیال کیا جاسکتا 
نبی اکرم ﷺنے اپنے آخری خطبہ میں ارشاد فرمایا : کہ نہ عربی کو عجمی پر فضیلت ہے نہ عجمی کو عربی پر فضیلت ہے بلکہ سب اللہ کے بندے ہیں 
قرآن کی آیات اور پیغمبر اسلام کے اقوال زریں سے مساوات انسانی کا ایسا درس ملتا ہے جو دنیا کے کسی اور نظام میں نظر نہیں آتا ۔
حق عدل: اسلامی تعلیمات پر غور کیا جاۓ تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے عدل و انصاف پر کتنا زور دیا ہے اور اپنے متبعین سے عدل و انصاف کا کتنا پر زور مطالبہ کیا ہے اور مختلف شعبہاۓ حیات میں مسلمانوں نے عدل و انصاف کے ایسے نمونے پیش کیے ہیں جن کو پڑھ کر ،سن کر دنیا ورطۂ حیرت میں غرق ہوجاتی ہے اور یہ کہنے پر مجبور ہوجاتی ہے کہ اسلام ہی عدل و انصاف کا سب سے بڑا علم بردار ہے ۔ قرآن پاک میں پروردگار عالم کا ارشاد ہے ” ولایجرمنکم شنان قوم علی الا تعدلوا اعدلوا ھو اقرب للتقوی “(اور تم کو کسی قوم کی عداوت اس پر نہ ابھارے کہ انصاف نہ کرو ۔انصاف کرو وہ پر ہیزگار سے زیادہ قریب ہے ) دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ” ان اللہ یامرکم ان تود الآمنت الی اھلہا و اذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل ” ( بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو) — اس آیت کی تفسیرمیں صدر الافاضل علامہ سید نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں :یعنی فریقین میں سے اصلا کسی کی رعایت نہ ہو اپنا ہویا غیر ،مومن ہو یا کافر فیصلہ کرنے میں حق اورانصاف کو مدنظر رکھنا ہے خود پیغمبر اسلام ﷺ نے اس کی عملی تفسیر فرمائی ہے ،اسی لئے تو جب ایک یہودی اور مسلم (بظاھر) کے درمیان اختلاف ہوا تو ہادئ اعظمﷺ نے انصاف کرتے ہوئے یہودی کے حق میں فیصلہ سنایا ، قرآنی تعلیم اور پیغمبر اسلامﷺ کے ارشاد اور ان کے عمل سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ہر حال میں عدل و انصاف کا لحاظ کیا جائے گا 
حق آزادئ مذہب: اسلام کے بارے میں ایک غلط پروپیگنڈہ کیا گیا ہے کہ اہل اسلام نے جبرا دوسرے مذہب والوں کو مسلمان بنایاجب کہ اسلامی تعلیم یہ ہے کہ “لااکراہ فی الدین” یعنی دین میں کچھ زبر دستی نہیں ،قرآن کا یہ کھلا ہوا اعلان ہے کسی کو زبردستی مسلمان نہیں بنایا جاسکتا اسلام ہر انسان کواپنے مذہب پر قائم رہنے کا اختیار دیتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ اسلامی ریاست میں کثیر غیر مسلم افراد نے قیام کیا اور اپنے مذہب پر قائم رہ کر زندگیگزارتے رہے  
اور اسلامی ریاست میں ان کے تمام حقوق کی حفاظت بھی کی گئی ہے ،کوئی اس بات کا انکار نہیں کرسکتا کہ مسلم حکمراں حضرت اورنگ زیب رضی المولی عنہ نے اپنے جان کی بازی لگاکر اپنی رعایہ میں سے مختلف غیر مسلموں کے جان کی حفاظت کیا ہے ،یہ تو کچھ تاریخ نویسوں کی تنگ نظری ہے کہ ایسے منصف حکمراں کو ظالم و جابر کی شکل میں پیش کیا ہے 
حق نسواں: اسلام سے قبل عورتوں کو ذلت و رسوائی کے قعر عمیق میں پھینک دیا گیا تھا
تاریخ شاہد ہے کہ قبل اسلام عورتوں کی کوئی حیثیت نہ تھی ،معاشرہ میں ان کی کوئی عزت نہ تھی، سماج میں کوئی مقام نہ تھا بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس زمانے میں عورت نحوست کا شعار او قباحت کا نشان تصور کی جاتی تھی مگر جب اسلام آیا تو اس نے خیمہ زن ضلالت و گمرہی کو اکھاڑ پھینکا ، جو لوگ پہلے گمرہی کی تاریکیوں میں زندگی بسر کرتے تھے یقینا حضورﷺ کی تشریف آوری کی وجہ سے ان لوگوں کے غمزدہ چہروں پر رونقوں نے قبضہ کرلیا ، باغ عالم میں بہار آگئی ، پژمردہ کلیاں شگفتہ ہوگئیں ،اداسیوں نے مسکراہٹوں کا لباس پہن لیا ، سسکیوں کی جگہ قہقہے گونج اٹھے ، آپ کی قدوم میمنت لزوم سے جہان عالم کا چپہ چپہ فیضیاب و سرشار ہوگیا ،وہیں عورتوں اور بچیوں کی زندگی بھی مسرت و شادمانی سے جھوم اٹھیں 
جب سرکار دوعالم ﷺ آخری نبی بن کر تشریف لائے تو قرآن مقدس نے آپ کے متعلق ارشاد فرمادیا “وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین ” یعنی ہم‌نے آپ کو سارے جہان کے لئے رحمت بناکر بھیجاتو جہاں پوری دنیا آپ کے رحم و کرم سے فیضیاب ہوئی وہیں دنیا بھر کی ستاۓ ہوئے عورتوں کی قسمت کا ستارہ بلند ہوگیا ،رحمت عالم ﷺ کی فکری و عملی کاوشوں نے عورتوں کے وجود کو سراپا رحمت و برکت بنادیا ۔
اور یہ بات بھی ذہن نشیں کرلیں کہ سب سے پہلے اسلام نے عورتوں کے حقوق کی آواز کو بلند کیا اور انکے حقوق کی محافظت کرکے مردوں کی طرح عزت کے مقام پر بٹھایا