متشدد ہندوستان کے سیکولر مسلمان

تحریر: چودھری عدنان علیگ
جس طرح اس وقت دنیا کے سر پر کرونا جیسا مہلک عذاب منڈ لا رہا ہے اور اب تک لاکھوں کی تعداد میں لوگ اسکا شکار اور ہزاروں لقمہ اجل بن چکے ہیں. اور دنیا کے تمام ممالک حالات کی سنگینی اور کشیدگی کو قابو کرنے کے لیے شب وروز کوششوں اور جد وجہد میں منہمک ہیں تو وہی ھندوستان میں حالات بد سے بد تر ہوتے جارہے ہیں، کرونا کے علاوہ ایک اور قبیح اور خطرناک بیماری زہر آلود نشا اسلاموفوبیہ ہندوؤں کے ذھنوں میں بھرا جارہا ہے، کرونا وائرس کی آڑ میں حکومت طرح طرح کی پلاننگ کرکے مسلمانوں کو ہر ناحیہ ہر زاویہ اور ہر کونے سے تنگ کررہی ہے، اور حالات دن بدن ھندوستانی مسلمانوں کو نسل کشی کی طرف لے جارہے ہیں. کرونا وائرس لاک ڈاؤن کے فوراً بعد پہلے میڈیا نے تبلیغی جماعت کو نشانہ بنایا پھر ھندو اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں کا سوشل بائیکاٹ کیا گیا اور اب روزانہ کوئی مدرسہ، کچھ تبلیغی کچھ مسلمان کرونا میں ایسے آرہے ہیں جیسے یکایک کرونا کا رخ بدل گیا ہو. جبکہ بہت سے ھندو اکثریتی علاقوں میں قائم شدہ تمام مساجد ومکاتب اور مدارس کو حکومت نے ھاٹ اسپاٹ ڈکلیر کرکے سبکو بند کرادیا، ایسے ایسے کیسیز جو کہ صیحت یاب ہیں کسی بھی طرح کی جسمانی پریشانی سے دو چار نھی ہیں وہ بھی کرونا پازیٹیو بتادیے گیے ،کچھ جگہوں سے مسلم سوشل ایکٹوسٹ کو تبلیغی کہکر بھگایا گیا کچھ کو کرونا بتاکر گرفتار کرلیا گیا، اسکے علاوہ وہ طلبہ لیڈرس جو CAA NRC NPR کے خلاف کیے گیے احتجاجی مظاہروں میں پیش پیش تھے اور مسلم نوجوانوں کی سربراہی کررہے تھے انکو بھی نمبر وائز جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا، آپکو پتہ ہونا چاہیے کہ کسی بھی ٹھیک ٹھاک انسان کو کرونا قرار دینا کسی سازش سے کم نھی، متحرک طلبہ کی گرفتاری سوشل ایکٹوسٹ کو گھروں میں قید کردینا کسی سنگھی اور فسطائی پالیسی سے کم نھی ہے. پوسپیٹلس راشن اور حجام کی دکانوں سے مسلمانوں کو بھگادینا بائکاٹ کردینا کسی زہر آلود حملہ سے کم نھی. کیونکہ معاشی اور سماجی بائکاٹ سے ہی نسل کشی کا راستہ ہموار کیا جاتا ہے، حالات کا رخ کسی بھی اعتبار سے ہماری موافقت کرتا نظر نھی آرہا ہے میڈیا کا زہر ہر ایک پڑھے لکھے انپڑھ جاہل ھندو تک کا مائنڈ واش کرچکا ہے، اب ہر کہیں ہمکو ترچھی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے، مسلم کرونا فیکٹری ایک عام ٹرم بن چکی ہے. لیکن ایک ہم ہیں کہ ہم ابھی بھی اپنوں کو ہی کوس رہے ہیں، اپنوں پر ہی طنز کے نشتر چلا رہے ہیں اپنے دینی رہنماؤں کو ہی زبانی کانٹوں سے کرید رہے ہیں. غلطیاں کوتاہیاں سب ہوتی ہیں لیکن انکے سرزد ہونے میں کہیں مصلحت سامنے آجاتی ہیں تو کہیں ملک ریپوٹیشن اور کمیونٹی کی ریپوٹیشن کا خیال قدم روک لیتا ہے ورنہ کام کرنے کا جزبہ ہر اس سربراہ میں ضرور ہوتا ہے جو میدان میں آکر باگ ڈور سنبھال لیتا ہے، بس کچھ غلطیاں ایسی ہوجاتی ہیں جو سہوا سرزد ہوجاتی ہیں، بہرحال اس وقت ضرورت ھیکہ تمام ذاتی اختلافات رنجشوں کو بالائے طاق رکھ کر متحد ہویا جائے ایک متحد متحرک ہمتور جیشِ اسلامی کی شکل اختیار کی جائے اور خود کو منظم منسق کرکے ہر میدان میں اترا جائے، یاد رکھیں کہ اب سیکولرزم کی ڈفلی بجانے سے کچھ نھی ہوگا.
 اب  اگر سیکولر ہونا ہے تو اپنے مسلکی اختلافات میں ہوئیے، نظریاتی اختلافات میں سیکولر روش اختیار کی جئے، کیونکہ اس سے مذہبی مسلکی پیچیدگیاں ہمارے اتحاد کی راہ میں رکاوٹ نھی بنیں گی، لیکن ملکی سطح پر غیر مسلم کے بیچ سیکولرزم کا ناچ رچنا بند کیجیے کیونکہ جتنا نقصان مسلمانوں کو اس سیکولر نشے نے پہنچایا ہے اتنا نقصان کسی بھی چیز نے نھی پہنچایا. اور حقیقت بھی یہی ہے کہ 
ھندوستانی مسلم معاشرہ ھندو مسلم یکتا کے براہ راست سیاسی قبضے کے نتیجے میں سیکولرلائز ہوا، جبکہ تاریخ گواہ ھیکہ ھندوستان میں اتحادی راہیں ہموار کرتے کرتے مسلمان خود اپنے اصل مقصد اور اصل اسلامی شناخت کو کہیں پیچھے چھوڑتے ہوے سیکولر گھڑے میں گرتے چلے گیے.
1857 کا غدر ہو یا انگریز کی چاپلوسی کرکے مسلمانوں کا قتلِ عام، گجرات کا آتش زدہ خطہ ہو یا دہلی مضفر نگر کی سڑکوں پر بکھری برسریدہ لاشیں سب کے سب اس بات کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں کہ مسلمان اس ملک میں شروع سے ہی تنہا ہے اسکو کبھی بھی کسی بھی کمیونٹی کا ساتھ نھی ملا، اسکو ہمیشہ اپنی لڑائی خود لڑنی پڑی ہے اور لڑنی پڑیگی، کیونکہ یہ ایک مسلم حقیقت ھیکہ کفر وایمان کا اتحاد نہیں ہوسکتا کفر و شرک ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے  اسلیے مسلمانوں کو چاہیے تھا کہ زمانہ قدیم میں ہی سیکولر بنیادوں اور سیکولر طریقوں کو چھوڑ کر اپنے اندر اتحاد پیدا کرتے اور جوشِ ایمانی کے ساتھ جیشِ اسلام کا حقیقی منظر نامہ پیش کرتے، بظاہر سیکولرزم کی بنیادیں آپسی پیار ومحبت امن وامان کو استوار کرنے کے لیے ڈالی جاتی ہیں لیکن اسکا سائڈ افیکٹ کچھ اور ہوتا ہے کہیں نہ کہیں اسکی آڑ میں تشدد تعصب کنڈلی مار کر بیٹھا رہتا ہے جو کسی بھی جگہ مسلم مخالف سیاسی حرکات کو قوت بخشنے میں مدد فراہم کرتا ہے، اگر سیکولرزم کا مطلب آپسی محبت امن امان ہے تو ہم وہ کام اسلامی رنگ میں رنگ کرکے متحد ہوکر بھی کرسکتے ہیں، کیونکہ اسلامی تعلیمات کی رو سے صاف ظاھر ہوتا ہے کہ اسلام معاشرتی سماجی معاشی رابطوں میں خود سیکولر ہونے کا درس دیتا ہے برابری مساوات ہمدردی غم خواری غم گساری عفو درگزر اسلام کے اہم ترین اعمال ہیں، اگر ھندی مسلمان صحیح طریقے سے اسلامی تعلیمات کو سمجھ لیتے یا ہمارے قائدین سیاسی روٹیاں سینکنے کے بجائے اسی نہج کی طرف دعوت دیتے تو آج اسلام اور مسلمانوں کا سر سرزمینِ ھند پر فخر کے ساتھ بلند ہوتا، لیکن سیکولرزم کے نام پر ہم نے جو مذہبی احکامات مذہبی امور اور شریعتی امور میں لیپا لاپی اور بھونڈا کھلواڑ کیا ہے  اور غیر مسلموں کو ان میں مداخلت کے جو مواقع فراہم کیے ہیں یقیناً وہ ہمارے لیے باعثِ شرم ہے. اگر آپ ھندوستان کے پچھلے پچاس سال کے حالات کا بغور جائزہ لیں گے تو آپکے سامنے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجایگی کہ ہمارا اسلامی معاشرہ برہمن کی سازشوں کے ذھنی تسلط کے نتیجے میں سیکولر لائزڈ ہوا اور اس سیکولرلائزیشن کی سرگرمی نے جہاں مسلمانوں کو نمایاں علاقوں کی جغرافیائی سرحدوں کا پابند بنا کر باہمی نقل مکانی کو محدود کیا وہاں داخلی سطح پر بہت ساری فکری،نظریاتی، سماجی معاشی دڑارئیں fault lines  بھی پیدا کیں جن میں لاینحل تضادات کا بدبودار مادہ رِستا رہتا ہے  انہی فالٹ لائنس اور دڑاروں کو بنیاد بنا کر  متشدد اور قدامت پسند ھندؤوں نے مزید سیکولرلائزیشن کے لیے  راستے ہموار کیے.  مثلاً جنگِ آزادی اور انگریزی تسلط کی آمد سے پہلے  ھندوستان میں مسلمانوں کی روایتی تعلیم کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں پایا جاتا تھا  بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم  یکساں بنیادوں پر استوار تھی  مثالی نہ سہی لیکن بہرحال ایک ہی اسلامی تصور جہاں کے ماتحت ضرور تھی  لیکن تجدد پسندی اور برہمن سازشوں کے نتیجے میں  بتدریج تین مختلف اقسام کے نظام تعلیم رائج کروائے گئے  جس کی سادہ تقسیم  مدارس  سرکاری سکولرز  نرسریاں اور انگلش میڈیم نظام کی صورت میں کی جا سکتی ہے  اس رنگا رنگی نے  جہاں مسلمانوں کو دینی مذہبی تہذیبی شعور اور تناظر سے محروم کیا  وہاں سیکولرز بنیادوں کے لیے فالٹ لائنس اور نا ختم ہونے والے تضادات کا ہجوم پیدا کیا انہی تضادات کے برے نتائج کو مثال بنا کر تجدد پسند  یکساں نظام تعلیم کے نام پر  نصاب کو سیکولرلائز کرتے رہے۔
  یعنی مذہبی علوم کی شکست اور سائنسی علوم کا عروج  اور وہی عمل یہاں ہند میں برہمن طاقت کے ایجنڈے کا حصہ بن کر  بالجبر نافذ کیا گیا،جسکے نتیجے میں مسلمان  سب سے پہلے اجتماعی اور سیاسی اداروں میں مذہب اور مذہبی احکامات سے دور ہوتے گیے، پھر اس کے بعد  عوامی سطح پر  انسانی معاشرے میں مذہب اور مذہبی تعلیمات سے دور ہوکر  غیر مذہبی زندگی گزارنا فیشن بنالیا۔ پھر ان دونوں مراحل کے نتیجے میں عوامی سطح پر ایسے معاشرتی ماحول کے عادی ہوگیے  جس میں مذہبی اور غیر مذہبی ہونے میں کوئی فرق نھی بچا بلکہ سیکولر یا غیر مذہبی انداز سے جینے کے لیے مجبور ہوگیے. اور اس کوشش میں رہے کہ وہ جدید ہوکر منظم ہوجائیں اور استعماری طاقت کو حاصل کرلیں. جبکہ یہی وہ نشہ تھا جس استعماری نشے کو رائج کرنے کے لیے دورِ جدید کے بہت سے مجددین اور متشدد ھندؤوں نے بھی اچھی خاصی تبلیغ وترسیل کی، اور اپنی قوم کے بیچ وہ لوگ اتحاد اور یکجہتی کی تبلیغ کرتے رہے سیکولرازم کو ملک کی تہذیب وثقافت کے لیے خطرہ بتاتے رہے، پھر دھیرے دھیرے سنسکرت زبان کو عروج دینے کی کوششیں جاری ہوئی اور اب منواسمرتی کو نافذ کرکے ھندو راشٹ گھوشت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جسکا فائدہ اور پھل آج وہ دیکھ رہے ہیں، اور ہم مسلمان سیکولرازم کے نشے میں مدہوش ہوکر اہلِ مغرب کی عملی زندگی کو اپنانے کے چکر میں خود اپنی مذہبی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ ہم نے یہ غور نھی کیا کہ مغرب کا انسان  اپنے فیصلے اور ارادے سے جدید (سیکولرلائز ) ہوا ہے  جبکہ ہم (لارڈ میکالے کے مجوزہ نظام تعلیم کے تحت )  استعماری کارخانوں میں بھوسہ پانی دینے کے لیے جدید بنائے گئے یہ”بننا ” اور ” “بنانا” فتح اور شکست کی تاریخی جدلیات سے معمور ہے.
میں پھر بھی یہی کہونگا کہ ابھی بھی وقت کی شکستہ دراڑوں سے روشنی پھوٹتی نظر آرہی ہے، جو استعماریت مادیت پرستی سیکولرزم لبرلزم جیسی تمام مسلم مخالف سازشوں پروپیگنڈوں کا پردہ فاش کرتی نظر آرہی ہے، اور اصل نظام حیات اور تصورِ جہاں کیا ہے اسکی طرف اشارہ کرتی نظر آرہی ہے، بہتر ہے ابھی بھی ہوش کے ناخن لے لیے جائیں اور یک قوم بن کر ایک متحد پلیٹ فارم قائم کیا جائے،اور مسلمان اسلامی رنگ اسلامی زندگی اسلامی ترجیحات اور اسلامی تعلیمات کے ساتھ جینے والا بن جائے، پھر کہیں جاکر ہمارے ذھنوں کے تنگ دریچے کھلیں گے اور اسلام کی وسعت کے ساتھ ساتھ ہم اس نور سے جدید بھی ہوجائیں گے اور منظم بھی منور بھی وہ نور جو اسلامی تعلیمات سے قلبوں کو ذھنوں کو معاشی سماجی وسائل و ذرائع کو منور کرتا ہے۔