مدارس عربیہ اسلامی قلعے ہیں

مولانا محمد قمرانجم قادری فیضی
اس پرفتن اور پُرآشوب وقت میں کفروالحاد کا دور دورہ ہے،ہرچہارجانب سے مذہب اور مذہبی رہنماؤں کےخلاف آوازیں اُٹھ رہی ہیں دوسروں کا کیا شکوہ ہے جبکہ اپنے ہی اس کی بیخ کنی پر آمادہ ہیں۔
اب بہتیرے ناعاقبت اندیش مسلمان بھی یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اب عربی فارسی اردوپڑھ کے کیا ہوگا۔
حالانکہ موجود وقت کےحالات اور اسکے نشیب و فراز پر غائرانہ نظر ڈالی جائے تو یہ کہنا بےجا نہ ہوگا۔
موجودہ زمانے میں مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری ودنیاوی تعلیم کی اشد ضرورت ہے، اگر اصحاب قوم وملت نے اس کی فکر نہ کی اور لاپرواہی برتی تو پھراس کا شاید انجام آج ملک کے جو حالات ہیں وہ اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرما ہی رہے ہیں۔
اِس دور میں جب کہ عربی اور فارسی کی تعلیم آہستہ آہستہ کم ہوتی جا رہی ہے مسلمانوں میں انگریزی  تعلیم کا دور بڑھ رہاہے۔
پہلے تو جن لڑکیوں کو انگیزی پڑھانی یا اسکی تعلیم دلوانی ہوتی تھی تو انہیں مذہبی مدارس ومکاتب میں بھیج کر اردوعربی فارسی وغیرہ کہ ایک حدتک تعلیم دلوانے کےبعدبلکہ بسا اوقات تو بہت کافی حدتک عربی کی تعلیم دلواکر انہیں اسکولوں میں بھیجا جاتا تھا۔
جس سے یہ فائدہ ہوتاتھا کہ لڑکے یا لڑکیاں مذہب اور مذہبی روایات سے اچھی طرح واقف ہوتے تھے۔
مگر آج مسلمانوں کی رغبت انگریزی تعلیم کی طرف اس حدتک بڑھ گئی ہے لڑکے زیرو کلاس سے ایسےہی مدارس و مکاتب میں داخل کردئےجاتےہیں جہاں اصولاً مذہبی تعلیم ممنوع ہے۔
سناجاتاہےکہ اب تو تاریخ کی ایسی ایسی کتابیں مرتب کی گئی ہیں جن میں اسلامی روایات کو کچھ ایسے عنوان سے درج کیا جا رہا ہے کہ اسلام کا صحیح نقشہ ذہن میں آ ہی نہیں سکتا، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ بچہ یہ بھی نہ جانیں، کہ خدائے تعالی، کسے کہتے ہیں اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی قدرومنزلت کیاہے، اور مسلمانوں کا مذہب کے ساتھ کیا تعلق ہے، ابھی تک پچھلی تعلیمات کا بہت کچھ اثر ہے، اس پر تو یہ عالم ہے مسجدیں ویران ہیں،، کسی مسلمان کی نمازہ جنازہ میں شرکت کیجئے تو نماز جنازہ کےوقت کم ازکم ایک تہائی افراد الگ کھڑے نظر آتے ہیں، انہیں معلوم ہی نہیں کہ نمازجنازہ کیاہے، کسیے ادا کہ جاتی ہے، اور نہ ہی اس بات کا احساس ہے کہ اب سیکھنے کی کوشش کی جائے، بعض تو ایسے ہوتے ہیں جو نماز سے تو واقف ہیں مگر طہارت کے بارے میں نہیں جانتے ہیں، مسلمانوں تھوڑی دیر اپنے گریبان میں جھانک کر تو دیکھو کہ آج جب کہ علم کی زیادہ ضرورت تم کو ہے، مگر ہم مسلمان علم سے کوسوں دور بھاگتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
یہ بات ناقابل تردیدہے کہ انسان کےلئے جتنے فضائل وکمالات ممکن ہیں ان میں علم کا مرتبہ سب سے اعلی واولی ارفع ہے، علم ہی تمام کمالات ظاہری وباطنی کا منبع فضائل صوری ومعنوی کا سرچشمہ ہے، اس کی اہمیت و افادیت اور علوئے مرتبت مسلم الثبوت ہے، افادیت واہمیت اور علوئے مرتبت کےلئے اتنا ضروری ہے کہ کسی فعل اختیاری کا صدوربغیر علم کے ناممکن ہے۔
حصول کمالات اسی پر موقوف ہے بغیر اسکے انسانی زندگی ،زندگی کہلانے کی مستحق نہیں ہے بلکہ جہالت کی زندگی موت سے بدرجہا بدتر ہے، جس قوم میں علم ہے وہ زندہ ہے اس لئے کہ وہ اپنی حیات سے منتفع ہے۔
اور ھاں جس میں علم نہیں وہ بد سے بد تر ہے اس لئے کہ اسے اپنی حیات سے کوئی نفع نہیں ہے، غرض یہ کہ
علم حیات ابدی ہے اور جہل موت دائمی، فرمان رب العزت ہے وَماَیستوی الاحیاء والاموات
اسی کی طرف اشارہ ہے اور حضرت سیدنا مولائے کائنات رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے”فالنّاسُ موتی واھلُ العلمِ احیاءُ”اسی کی شرح ہے، علم کے ہر کام میں حسن وکمال نظر آئےگا اور جہل کےہرگوشے میں قبح وزوال، علم راہ راست کی ہدایت کرتا ہے اور جہل گمراہی کی رہمنائی ،علم سےحق وباطل میں تمیز ہوتی ہے اور جہل سے نفس امارہ کی تائیداور باطل کی طرف میلان، عالم شیطان کے حق میں مصیبت جان ہے اور جاہل مسخرہءِ شیطان۔
“ھَل یستوی الذین یعلمون والذین لایعلمون”اس پر برہان ہے دنیا میں علم سے روشنی ہےاگریہ نہ ہوتو تمام دنیاتاریک نظر آئے، اگر علم نہیں ہے تو آنکھ رکھتے ہوئے بھی حقیقی بینائی حاصل نہیں ہے عالَم میں بینا وہی ہے جو زیور علم سے آراستہ وپیراستہ ہے، اگر کوئی ظاہری آنکھ نہ رکھتاہولیکن علم کی روشنی سے اسکا قلب ودماغ منورہےتو وہ آنکھ والوں سے بدرجہا بہترہے
اللہ تعالیٰ ہم سب کو علم دین حاصل کرنےکی توفیق رفیق بخشے، اور اپنے بچوں کو بھی علم دین مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سکھانے پڑھانے کی توفیق بخشے۔
آمین بجاہ سید المرسلین صلی الله تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
آج کا اداریہ مولانا محمد قمرانجم قادری فیضی (سب ایڈیٹر:ہماری آواز) کی تحریر ہے۔