مقاصد رمضان میں ہم کتنے کامیاب؟؟؟

تحریر: محمد قمر انجم قادری فیضی
دنیا کی ہرچیز کسی نہ کسی مدعا اور کسی نہ کسی مقصد کے لئے بنی ہے جو کوئی اس کے خلاف استعمال کرے تو لوگ اس کو پاگل اور دیوانہ کہیں گے، جیسے ٹوپی پاؤں میں پہننے اور جوتا سر پر رکھنے والااور گلاس میں تھوکنےوالااور اگالدان میں پانی پینےوالادیوانہ ہے اور اگر ان چیزوں کو مدعاو مقصد کےحساب سے استعمال کرے جیسے سرپے ٹوپی لگائے۔اور جوتا پاؤں میں پہنے وغیرہ اور اگر کوئی چیز اپنا مقصد پورا نہ کرے تو بےقیمت  بے وقعت نیز بیکار ہوجاتی ہے مثال کےطور پے اگر گھڑی کسی طرح وقت بتانا چھوڑ دے تویہ پھیکنےلائق ہوجاتی ہے اور بکری دودھ نہ دے تو قصائی کودے دی جاتی ہے مزید برآں اب دیکھنا یہ چاہئے کہ ہم کس مقصد کےلئے بنے ہیں اللہ تعالیٰ نے ہم انسانوں کو کس لئے پیدا فرمایا۔
اور وہ مقصد ہم پورا کررہے ہیں یا نہیں؟ تو ہم قرآن پاک سے پوچھتےہیں، تو قرآن پاک ارشاد فرماتاہے۔وماخلقت الجن والانا الا لیعبدون
ہمارےپیداہونےکا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اسکی پرستش کرناہے۔ائے اللہ!  تیری ذات بےمثل ویکتاہےاور اس جہاں میں تجھ ساعظیم کوئی نہیں ۔تیری عظمتوں کا ڈنکااس جگ میں چارسوہے تونےحضرت انسان کو اسی لئے بھنایا تھاکہ یہ تادم آخر تیری عظمتوں رفعتوںلیا۔
بول بالا کرتارہے. تیری عنایات کےگُن گاتا رہے، تیری محبت کا تاج ہر دم اپنے سر پر سجائے
اوراللہ تعالیٰ رمضان المبارک کی فضیلت ،اہمیت اور افادیت بیان کرتےہوئے قرآن پاک میں ارشاد فرماتاہے -وَمَن شَھِدَمِنکُم الشَهرَفَلیَصمهُ-
اس آیت کریمہ میں روزےکی فرضیت کابیان ہے، مگر اس جگہ چندامورقابل ذکرہیں-رمضان شریف کیوں آتاہے اس لئے کہ مسلمانوں کوگناہوں سےپاک کرے اسی لئے اس کو رمضان المبارک کےنام سے جانتے پہچانتے ہیں جسکےمعنی ہیں کرم کرنےوالا اور جَلانےوالا، یہ بھی گناہوں کا جلا دیاکرتایے لہذا یہ رمضان کریم ہے
اسکے کل چار نام قابل ذکر ہیں۔رمضان شہرالصبر۔ شہرالمواسات،یعنی بھلائی کرنا، شہروسعت رزق، جس طرح سے بھٹی میں لوہے کو رکھ کر اسکا مَیل نکالتے ہیں اسی طرح گناہ گار مسلمانوں کےلئے یہ بھٹی ہے جو ان کے گناہوں کو صاف وشفاف کرتی ہے ہاں کبھی کبھی صاف لوہے کو بھی بھٹی میں رکھتےہیں تاکہ اس کو کچھ سے کچھ کردیں۔مثلاَ اس سے کسی مشین کا کوئی پرزہ بنادیں۔جس سے اس لوہے کی قیمت و وقعت بڑھ جائے۔اس طرح نیک کار لوگ اس سے رفع مراتب پاتے ہیں ۔ایسے ہی گناہگار روزے سے پاک وصاف ہوجاتاہے اور متقی روزےسےزیادہ پرہیزگار بنتاہے اور انبیاو رسل کا اس سے قرب بڑھتاہے۔
ایک بار روح الامین سدرہ کےمکین حضرت جبرئیل علیہ السلام  حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے جس وقت حضور نے قدم پاک منبرکے پہلے زینے پررکھا تو فرمایا آمین۔دوسرے پر رکھا تو فرمایا آمین۔اسی طرح تیسرے پر رکھا تو فرمایا آمین۔صحابہء کرام نے عرض کیا یارسول اللہ صلی الله تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ۔آپ آمین کس پر فرارہے ہیں، تو سرکار مدینہ صلی الله تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حضرت جبریل امین نے تین دعائیں فرمائی ۔پہلی جو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا نام سنے اور درود نہ پڑھے وہ ہلاک ہوجائے۔دوسری جو والدین کا بڑھاپاپائے اور جنت حاصل نہ کرے۔وہ ہلاک ہوجائے اور تیسری جو رمضان المبارک کا مہینہ پائے اور جنت نہ خریدے وہ ہلاک ہوجائے۔ہم نے فرمایا آمین۔
یہ ماہ رمضان المبارک خدائے تعالی کا مہمان ہمارا پاسبان اور مہربان ہےتقویٰ و طہارت کی بنیاد : 
 یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ : وہ لوگوں سے شرماتے ہیں۔ یعنی طعمہ اور اس کی قوم کے افراد لوگوں سے حیا کرنے کی بنا پر اور ان کی طرف سے نقصان پہنچنے کے ڈر سے اُن سے تو شرماتے اور چھپتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سے نہیں شرماتے حالانکہ وہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے حیا کی جائے اور اس کے عذاب سے ڈرا جائے کیونکہ وہ ان کے احوال کو جانتا ہے اور اس سے ان کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں حتی کہ وہ ان کے اس عمل سے بھی واقف ہے جب وہ اپنے دل میں ایسی بات تجویز کرتے ہیں اور رات میں ایسی بات کا مشورہ کرتے ہیں جو اللہ  تعالیٰ کوپسند نہیں جیسے بے گناہ پر الزام لگانا، جھوٹی قسم کھانا اور جھوٹی گواہی دینا، اور اللہ  تعالیٰ ان کے تمام ظاہری و باطنی تمام اعمال کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور ان کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں۔                         
آیتِ مبارکہ تقویٰ و طہارت کی بنیاد ہے۔ اگر انسان یہ خیال رکھے کہ میرا کوئی حال اللہ عَزَّوَجَلَّ  سے چھپا ہوا نہیں تو گناہ کرنے کی ہمت نہ کرے۔ قرآنِ پاک میں جگہ جگہ اسی چیز کے ذریعے لوگوں کو گناہوں سے رکنے کا حکم دیا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ دیکھ رہا ہے۔ اس جملے کا اگر کوئی شخص مراقبہ کرلے اور اسے اپنے دل و دماغ میں بٹھالے تو گناہوں کا علاج نہایت آسان ہوجائے گا۔ حضرت سہل بن عبداللہ تستری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :میں تین سال کی عمر کا تھا کہ رات کے وقت اٹھ کر اپنے ماموں حضرت محمد بن سوار  رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو نماز پڑھتے دیکھتا۔ ایک دن انہوں نے مجھ سے فرمایا: کیا تو اس اللہ تعالیٰ کو یاد نہیں کرتا جس نے تجھے پیدا کیا ہے؟ میں نے پوچھا : میں اسے کس طرح یاد کر وں ؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: جب لیٹنے لگو تو تین بار زبان کو حرکت دئیے بغیر محض دل میں یہ کلمات کہو:*اَللہُ مَعِیَ، اللہُ نَاظِرٌ اِلَیَّ، اللہُ شَاہِدٌ* اللہ عَزَّوَجَلَّ میرے ساتھ ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے دیکھ رہا ہے، اللہ  تعالیٰ میرا گواہ ہے۔            
حضرت سہل رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ) میں نے چند راتیں یہ کلمات پڑھے اور پھر ان کو بتایا، انہوں نے فرمایا: ہر رات سات مرتبہ یہ کلمات پڑھو، میں نے ایسا ہی کیا اور پھر انہیں بتایا تو انہوں نے فرمایا: ہر رات گیارہ مرتبہ یہ کلمات پڑھو۔ میں نے اسی طرح پڑھا تو مجھے اپنے دل میں اس کی لذّت معلوم ہوئی۔ جب ایک سال گزر گیا تو میرے ماموں نے کہا: میں نے جو کچھ تمہیں سکھایا ہے اسے یاد رکھو اور قبر میں جانے تک ہمیشہ پڑھنا، یہ تمہیں دنیا و آخرت میں نفع دے گا۔ میں نے کئی سال تک ایسا کیا تو میں نے اپنے اندر اس کا مزہ پایا، پھر ایک دن میرے ماموں نے فرمایا: اے سہل اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ ہو، اسے دیکھتا ہو اور اس کا گواہ ہو ،کیا وہ اس کی نافرمانی کرتا ہے؟ تم اپنے آپ کو گناہوں سے بچا کر رکھو۔ 
مغفرت کی امید پر گناہ کرنا بہت خطرناک ہے
یہ یاد رہے کہ کفر کے علاوہ قیامت کے دن ہر گناہ کے بخشے جانے کا امکان ضرور ہے مگر اس امکان کی امید پر گناہوں میں پڑنا بہت خطرناک ہے بلکہ بعض صورتوں میں گناہ کو ہلکا سمجھنے کی صورت میں خود کفر ہوجائے گا۔ کتنا کریم ہے وہ خدا عَزَّوَجَلَّ  جو لاکھوں گناہ کرنے والے بندے کو معافی کی امید دلا رہا ہے اور کتنا گھٹیا ہے وہ بندہ جو ایسے کریم کے کرم و رحمت پر دل و جان سے قربان ہوکر اس کی بندگی میں لگنے کی بجائے اس کی نافرمانیوں پر کمر بستہ ہے۔     
حضرت وحشی  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا قبولِ اسلام:    
حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے مروی ہے کہ وحشی جس نے حضرت حمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کو شہید کیا تھا وہ سلطانِ دو جہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی: مجھے امان دیجئے تا کہ میں آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے خدا کا کلام سنوں کہ اس میں میری مغفرت اور نجات ہے۔ ارشاد فرمایا: مجھے یہ پسند تھا کہ میری نظر تم پر اس طرح پڑتی کہ تو امان طلب نہ کر رہا ہوتا لیکن اب تو نے امان مانگی ہے تو میں تمہیں امان دیتا ہوں تاکہ تو خدا عَزَّوَجَلَّ  کا کلام سن سکے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی:  
 اور وہ جو  اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے۔وحشی نے کہا: میں شرک میں مبتلا رہا ہوں اور میں نے ناحق خون بھی کیا ہے اور زنا کا بھی مرتکب ہوا ہوں کیا ان گناہوں کے ہوتے حق تعالیٰ مجھے بخش دے گا؟ اس پرسرکارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خاموشی اختیار فرمائی اور کوئی کلام نہ فرمایا، پھر یہ آیت نازل ہوئی: مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھا کام کرے۔    
وحشی نے کہا: اس آیت میں شرط کی گئی ہے کہ گناہوں سے مغفرت اسے حاصل ہو گی جو توبہ کرلے اور نیک عمل کرے،جبکہ میں نیک عمل نہ کر سکا تو میرا کیا ہو گا؟ تب یہ آیت تلاوت فرمائی: جسکاترجمہ یہ ہےکہ بیشک  اللہ تعالیٰ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے۔    
اب وحشی نے کہا: اس آیت میں مَغفرت مَشِیَّتِ الٰہی کے ساتھ وابستہ ہے، ممکن ہے میں ان لوگوں میں سے ہوں جن کے ساتھ حق تعالیٰ کی مشیت ِمغفرت وابستہ نہ ہو،ا س کے بعد یہ آیت نازل ہوئی : تم فرماؤ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔    
یہ آیت سن کر وحشی نے کہا:اب میں کوئی قید اور شرط نہیں دیکھتا اور اسی وقت مسلمان ہو گیا۔کائنات میں تَفَکُّر کی ضرورت۔
س طرح کسی کی عظمت ، قدرت ، حکمت اور علم کی معرفت حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ اس کی بنائی ہوئی چیز  ہوتی ہے کہ اس میں غورو فکر کرنے سے یہ سب چیزیں آشکار ہو جاتی ہیں اسی طرح   اللہ تعالیٰ کی عظمت، قدرت، حکمت، وحدانیت اور اس کے علم کی پہچان حاصل کرنے کا بہت بڑا ذریعہ اس کی پیدا کی ہوئی یہ کائنات ہے،اس میں موجود تمام   چیزیں اپنے خالق کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی اور اس کے جلال و کبریائی کی مُظہِر ہیں اور ان میں تفکر اور تَدَبُّر کرنے  سے خالقِ کائنات کی معرفت حاصل ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں بکثرت مقامات پر اس کائنات میں موجود مختلف  چیزوں جیسے انسانوں کی تخلیق، زمین و آسمان کی بناوٹ ، زمین کی پیداوار،ہوا اور بارش، سمندر میں کشتیوں کی روانی، زبانوں  اور رنگوں کا اختلاف وغیرہ بے شمار اَشیاء میں غور وفکر کرنے کی دعوت اورترغیب دی گئی تاکہ انسان ان میں غورو فکر کے ذریعے اپنے حقیقی رب عَزَّوَجَلَّ  کو پہچانے ، صرف اسی کی عبادت بجا لائے اور اس کے تمام احکام پر عمل کرے۔  
امام محمد غزالی  علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ’’آسمان اپنے ستاروں ،سورج، چاند، ان کی حرکت اور طلوع و غروب   میں ان کی گردش کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔زمین کا مشاہدہ اس کے پہاڑوں ،نہروں ، دریاؤں ، حیوانات،نَباتات اور ان چیزوں کے ساتھ ہوتا ہے اورجو آسمان اور زمین کے درمیان ہیں جیسے بادل، بارش، برف،گرج چمک، ٹوٹنے والے ستارے   اور تیز ہوائیں۔یہ وہ اَجناس ہیں جو آسمانوں ،زمینوں اور ان کے درمیان دیکھی جاتی ہیں ، پھر ان میں سے ہر جنس کی کئی اَنواع ہیں ، ہر نوع کی کئی اقسام ہیں ،ہر قسم کی کئی شاخیں ہیں اور صفات ، ہَیئت اور ظاہری و باطنی معانی کے اختلاف  کی وجہ سے اس کی تقسیم کا سلسلہ کہیں رکتا نہیں۔زمین و آسمان کے جمادات،نباتات، حیوانات، فلک اور ستاروں میں سے ایک ذرہ بھی اللہ تعالیٰ کے حرکت دئیے بغیر حرکت نہیں کر سکتا اور ان کی حرکت میں ایک حکمت ہو یا دو ،دس ہوں یا ہزار ، یہ سب  اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی گواہی دیتی ہیں اور اس کے جلال و کبریائی پر دلالت کرتی ہیں اور یہی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت   پر دلالت کرنے والی نشانیاں اور علامات ہیں۔
فی زمانہ مسلمان  اللہ  تعالیٰ کی بنائی ہوئی اس کائنات میں غورو فکر کرنے اور اس کے ذریعے اپنے رب تعالیٰ کے کمال وجمال اور جلال کی معرفت حاصل کرنے اور اس کے احکام کی بجا آوری کرنے سے انتہائی غفلت کاشکار ہیں اور ان کے علم کی حد صرف یہ رہ گئی ہے جب بھوک لگی تو کھانا کھا لیا، جب پیاس لگی تو پانی پی لیا، جب کام کاج سے تھک گئے تو سو کر آرام کر لیا، جب شہوت نے بے تاب کیا تو حلال یا حرام ذریعے سے اس کی بے تابی کو دور کر لیا اور جب کسی پر غصہ آیا تو اس سے جھگڑا کر کے غصے کو ٹھنڈا کر لیا الغرض ہر کوئی اپنے تن کی آسانی میں مست نظر آرہا ہے۔ امام غزالی  علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ’’اندھا وہ ہی ہے جو  اللہ تعالیٰ کی تمام صَنعتوں کو دیکھے لیکن انہیں پیدا کرنے والے خالق کی عظمت سے مدہوش نہ ہو اور اس کے جلال و جمال پر عاشق نہ ہو۔ ایسا بے عقل انسان حیوانوں کی طرح   ہے جو فطرت کے عجائبات اور اپنے جسم میں غور و فکر نہ کرے،  اللہ  تعالیٰ کی عطا کردہ عقل جو تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے اسے ضائع کر دے اور اس سے زیادہ علم نہ رکھے کہ جب بھوک لگے تو کھانا کھا لیا،کسی پر غصہ آئے تو جھگڑا کر لیا۔اللہ رب العزت نے ہمیں جس مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اسکو پورا کرنے کی توفیق رفیق بخشے