أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَضَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ذٰ لِكَ الۡاَمۡرَ اَنَّ دَابِرَ هٰٓؤُلَاۤءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے لوط کو اس فیصلہ سے مطلع کیا کہ جس وقت صبح کررہے ہوں گے تو ان کی جڑ کاٹ دی جائے گی۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے لوط کو اس فیصلہ سے مطلع کیا کہ جس وقت یہ لوگ صبح کررہے ہوں گے تو ان کی جڑکاٹ دی جائے گی، دریں اثناء شہر کے لوگ اظہار خوشی کرتے ہوئے آگئے، لوط نے کہا بیشک یہ میرے مہمان ہیں تم ان کے معاملہ میں مجھے شرمندہ نہ کرو۔ اور اللہ سے ڈرو اور مجھے نے آبرو نہ کرو، ان لوگوں نے کہا کی اہم نے اپ کو دنیا کے لوگوں ( کو ٹھرانے) سے منع نہیں کیا تھا ؟ لوط نے کہا یہ میری قوم کی) بیٹیاں ہیں (ان سے نکاح کرلو) اگر تم کچھ کرنے والے ہو۔ (الحجر : 71 ۔ 66) 

قوم لوط کا اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے ان لڑکوں پر ہجوم کرنا 

اور ہم نے لوط کی طرف یہ وحی کی کہ صبح کے وقت ان لوگوں کی جڑکاٹ دی جائے گی اور شہر کے لوگ حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس اظہار خوشی کرتے ہوئے آئے کیونکہ وہ فرشتے بہت حسین و جمیل صورتوں میں آئے تھے اور کسی طرح شہر کے لوگوں کو پتا چل گیا کہ گھر میں خوبصورت لڑکے آئے ہوئے ہیں تو وہ بہت خوش ہوئے کہ ان کو اپنی ہوس پوری کرنے کا ریش لڑکے آئے ہوئے ہیں اور وہ اس قدر خوبصورت ہیں کہ اتنے خوبصورت لڑکے اس سے پہلے نہیں دیکھے گئے تو پھر شہر کے لوگ حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس اظہار خوشی کرتے ہوئے پہنچے کہ اب ان کی ہوس عمدہ طریقہ سے پوری ہو د کے گی، حضرت لوط (علیہ السلام) نے فرمایا یہ میرے مہمان ہیں تم ان کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو اور مجھے شرمندہ اور بےعزت کا موجب ہوتا ہے اور رہ میرے مہمان ہیں اور مہمان کی عزت اور تکریم کی جاتی ہے اور تم ان کی بےعزتی کرنے پر تلے ہوئے ہو اور مہمان کی بےعزتی میزبان کی نے عزتی ہوتی ہے سو تم مجھے بےعزت اور نے آبرو نہ کرو ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہم پہلے ہی تمہیں آگاہ کرچکے تھے کہ اجنبی لوگوں اور مسافروں کو مہمان نہابنایا کرو اور اپنے باس نہ ٹھہرا کرو کیونکہ وہ لوگ اجنبیوں اور مسافروں کے ساتھ یہ کام کیا کرتے تھے حضرت لوط (علیہ السلام) نے فرمایا اگر تم پر شہوت کا بہت غلبہ ہے تو میری قوم کی بیٹیاں ہیں ان سے نکاح کرکے اپنی شہوت پوری کرلو آپ نے اپنی قوم کی بیٹیوں کو اپنی بیٹیاں فرمایا کیونکہ نبی اپنی قوم کے لیے نہ منزلہ والد ہوتا ہے اور قوم کی بیٹیاں اس کی بیٹیاں کے منزلہ میں ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 66