أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَنَبِّئۡهُمۡ عَنۡ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ‌ۘ ۞

ترجمہ:

اور انہیں ابراہیم کے مہمانوں کا حال سنایئے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور انہیں ابراہیم کے مہمانوں کا حال سنایئے، جب وہ ان کے پاس گئے تو انہوں نے کہا سلام ! ابراہیم نے کہا نے شک ہم تم سے ڈر رہے ہیں، انہوں نے کہا آپ ڈریں نہیں بیشک ہم اپ کو علم والے بیٹے کی بشارت دے رہے ہیں۔ ابراہیم نے کہا کیا تم مجھ (بیٹے کی) بشارت دے رہے ہو !۔ حالانکہ مجھے برھاپا پہنچ چکا ہے ! سو اب تم کس چیز کی بشارت دے رہے ہو انہوں نے کہا ہم نے آپ کو برحق بشارت دی ہے سو آپ مایوس ہونے والوں میں سے نہ ہوں، ابراہیم نے کہا اپنے رب کی رحمت سے تو صرف گمراہ لوگ مایوس ہوتے ہیں۔ ( الحجر : 56 ۔ 51) 

اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی کی وجوہات اور اس کا کفر ہونا 

پہلے اللہ تعالیٰ نے نبوت پر دلائل دیئے پھر اس کے بعد توحید کو ثابت فرمایا پھر قیامت کے احوال بیان کیے اور نیکوکاروں اور بدکاروں کا حال بیان فرمایا اب اللہ تعالیٰ انیباء (علیہم السلام) کے واقعات شروع فرمارہا ہے تاکہ ان واقعات کو سن کر عبادت کا زیادہ ذوق اور شوق پیدا ہو اور ان کے منکرین کے انجام سے عبرت حاصل ہو اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہم السلام) کا ذکر فرمایا۔

اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب دینے کے لیے بھیجا تھا وہ جاتے ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس گئے اور ان کو سلام کیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب میں فرشتوں کو سلام کہا اور فرمایا ہم تم سے خوف زدہ ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس لیے خوف زدہ ہوئے تھے کہ انہوں نے ان کو مہمان سمجھ کر ان کے آگے بھنا ہوا گوشت رکھا تو انہوں نے اس کو نہیں کھا یا، دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ بغیر اجازت کے ان کے گھر آگئے یا کسی نامناسب وقت آئے تھے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ڈرے اور گھبراگئے، انہوں نے کہا آپ ہم سے مت ڈریں ہم تو آپ کو ایک علم والے بیٹے کی بشارت دینے آئے ہیں ان کی اس سے مراد حضرت اسحاق (علیہ السلام) تھے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس پر تعجب ہوا کہ اب وہ بوڑھے ہوچکے ہیں کیا بڑھاپے میں ان کے ہاں بیٹا ہوگا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی قدرت کا انکار نہیں کر رہے تھے بلکہ ہو یہ جاننا چاہتے تھے کہ آیا اللہ تعالیٰ ان کو جوان بنادے گا یا اسی حالت میں ان کے ہاں بیٹا ہوجائے گا ان کو بہت عرصہ سے بیٹے کی تمنا تھی جب انہوں نے یہ بشارت سنی تو وہ حیران بھی ہوئے اور بہت خوش بھی ہوئے انہوں نے جو کہا سو اب تم کسی چیز کی بشارت دے رہے ہو تو وہ اس بشارت کو دوبارہ سننا چاہتے تھے کیونکہ انسان خوشی کی خبر کو بار بار سننا چاہتا ہے فرشتوں نے پھر یہی خوشخبری سنائی اور کہا ہم نے آپ کو برحق بشارت دی ہے سو آپ مایوس ہونے والون میں سے نہ ہوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا اپنے رب کی رحمت سے تو صرف گمراہ لوگ مایوس ہوتے ہیں کیونکہ انسان اللہ تعالیٰ کی رحمت سے یا اس وجہ سے مایوس ہوتا ہے جب اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت پر یقین نہ ہو یا وہ یہ سمجھتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کو بندوں کی ضروریات کا علم نہیں ہوتا، کیا وہ اللہ تعالیٰ کے بخیل سمجھتا ہو پھر اس کی عطا سے مایوس ہوتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا سے وہی شخص مایوس ہوتا ہے جس کا اللہ تعالیٰ کے عالم قادر اور جو اد اور فیاض ہونے پر ایمان نہ ہو اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ان صفات پر ایمان نہ ہونا کھلی گمراہی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 51