یہودیوں کا ایمان وایقان حالات کے تناظر میں

تحریر: شاہ خالد مصباحی
یہودیوں کے ایمان و ایقان سے قبل کولمبس نے امریکہ کی ترقی کے پس پرد جو کارہائے مستتر انجام دیے ہیں
 اس پر کچھ سرخیاں ڈالنے کی اشد ضرورت محسوس کررہا ہوں ۔ جس سے ان  کی  وابستگی کے سارے جرائم ، ترقیاتی وسائل کے پس پرد  یہودی محنتیں ، صیہونی سازشیں افراد عالم پر مکمل طور سے عیاں ہوجائے ۔ 
*قارئین!*
       کولمبس نے جس نئی دنیا ’’امریکا‘‘ کا راستہ سپین میں آباد اقوام کودکھایا اس نے جدید دنیا میں ظلم، قتل وغارت، لوٹ ماراوراجتماعی نسل کشی کی ایک تارٰیخ رقم کردی۔ 
اس کو علم تاریخ سے شغف رکھنے والا ادنی سا طالب علم  کولمبس کی زندگی کا  مطالعہ کرکے سمجھ سکتا ہے ۔ 
لیکن قابل حیرت اور جاننے کی بات یہ ہے کہ جب کولمبس   15 مارچ 1493ء کو واپس سپین پہنچا تواس کے پاس امریکا میں بسنے والے ریڈ انڈینزکے بارے میں معلمومات کا ایک خزانہ تھا۔ اس کے روزنامچے میں درج معلومات جو تھی وہ  *ریڈانڈینز کی سادہ لوحی، نفاست، انسانی اقداراورحسن معاشرت پرمبنی معاشرے کی نشاندہی کرتی تھی۔* 
اور ایک ایسا معاشرہ جس میں ذاتی ملکیت بھی  نہ ہو،  اور تمام وسائل پوری بستی کے تصرف میں بھی ہوجائے ۔ حتی کہ انہیں نہ ہتھیاروں کا علم تھا اورنہ وہ لڑائی سے آشنا تھے۔ لیکن ان کے سرمایہ کاروں کی محنت راس آئی اورچارخونی چاند چاندوں کی پیشگوئی پرکامل یقین نے انہیں امریکا کی طرف ہجرت کرنے پر ابھارا ۔ اوراس کے بعد اس براعظم کے دوسوسال مقامی آبادی کے قتل اوراجتماعی نسل کشی کی اک ہولناک  داستان اوراق تاریخ کی زینت  بھی بنی ۔ جیسے 
*اجتماعی پھانسیاں، چھوٹے بچوں کوقتل کرکے ان کے گوشت کو کتوں کوخوراک بنانا، نوجوان عورتوں کوموت تک جنسی تشدد کا شکارکرنا، گھروں کوآگ لگانا، لوگوں کوقطار میں کھڑا کرکے تیراندازی کی مشق کرنا وغیرہم_ حتی کہ جب سارے  وسائل پر  قبضہ کرلیا گیا توامریکا معاشی دنیا میں ایک طاقت بن کرابھرنے لگا ۔ اور واضح رہے کہ اس کی معیشیت کی ڈوریں سپین اوریورپ سے ہجرت کرکے آنے والے یہودیوں کے ہاتھ میں تھیں۔ *تقریباً تین سوسال کے ظلم اورغلاموں کی تجارت کے بعد 1830ء میں امریکی برآمدات 72 ملین ڈالرتک جا پہنچیں جو 1910ء تک آتے آتے َِ 2۔67 بلین ڈالرہوگئیں۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے  طاقتوریہودی سرمایہ دار، سائنسدان، صحافی اورماہرین تعلیم امریکا اوریورپ کے معاشروں میں چھانے لگا*۔
 *قارئین!!*
   یہی زمانہ تھا جب 1896ء میں انہوں نے صیہونیت کی بنیاد رکھی اوروہ مشہوریاداشتیں تحریرکیں جنہیں پروٹوکول (Protocols) کہا جاتا ہے جس میں یورپ کے وہ تمام یہودی شامل تھے جوان ملکوں میں کامیاب توتھے، لیکن معاشرتی نفرت کا مسلسل سامنا کررہے تھے۔ کبھی اس شہرسے نکالے جاتے توکبھی دوسرے سے۔ حتی کہ دوہزارسال تک مسلسل عیسائیوں کے ہاتھوں ذلت اورظلم کی زندگی گزارنے کے بعد یہ لوگ اکٹھے ہوئے کیونکہ اب ان کے ربی انہیں کہ رہے تھے کہ اگلے چارچاند گرہن 50۔1949میں لگیں گے اور  اس سے پہلے یہودیوں پربہت بڑی آفتیں اورمصیبتیں نازل ہوں گی۔ اسی لیے انہوں نے پیش بندیاں شروع کیں۔  اور جن ملکوں میں یہ آباد تھے ان کے مفادات کے برعکس برطانیہ سے خود کومنسلک کرکے بالفورڈیکلریشن کروایا جس میں اسرائیل کی سرزمین اوریروشلم میں دنیا بھرکے یہودیوں کی واپسی کویقینی بنانے کا اپنے وقت کی عالمی طاقت برطانیہ نے اعلان کیا۔ اس کے بعد ہٹلر کے جرمنی سے لے کریورپ کے پولینڈ تک ان پرقیامتیں ٹوٹیں جنہیں وہ آج بھی ہالوکاسٹ کے نام سے یاد رکھتے ہیں۔ *(جیسا کہ اس کے بارے میں تفصیلا قسط پنجم میں ذکر کیا گیا)*
حتی کہ  ان کے اندازے کے مطابق 60 لاکھ یہودی بدترین تشدد سے قتل کیے گئے، لیکن اس آفت کے بعد ان کی پیش گوئیوں کے مطابق انہیں فتح کی صورت میں 14 مئی 1948ء کوایک وطن ملا جسے اسرائیل کہتے ہیں جہاں وہ 1920ء سے آہستہ آہستہ آباد ہونا شروع ہوگئے تھے۔ عربوں نے مل کر1948ء میں ان کے خلاف جنگ شروع کی۔ اس جنگ میں پانچ عرب ممالک شامل تھے۔ اسرائیل کے پاس ایک منظم فوج بھی نہ تھی، مگرچونکہ وہ کئی سالوں سے اس کی تیاریوں میں مصروف تھے اس لیے وہ یہ جنگ جیت گئے اورسات لاکھ فلسطینی بے گھرکردیے گئے اورانہوں نے اتنے ہی یہودیوں کودنیا بھرسے لاکروہاں آبادکیا۔ دنیا بھرکے یہودیوں کا ایمان اوریقین مزید مستحکم ہوگیا کہ چارچاند گرہن ان کے لیے پہلے آفت وتباہی لاتے ہیں جن میں فتح وکامیابی چھپی ہوتی ہے۔ لیکن اب وہ اگلے چارچاندگرہنوں کاانتظارکرنے لگے تھے  جوان کے مقدس ایام میں 68۔1967ء میں لگان تھے۔
        *قارئین!!!*
حیران کن بات یہ ہے کہ یہودیوں کی یروشلم سے بے دخلی توتاریخ کا حصہ ہے جوتینوں مذہبی کتابوں تورات، انجیل اورقرآن میں مختلف حوالوں سے مذکورہے، لیکن اس بے دخلی اوردربدری کے بعد یروشلم میں واپسی کا ذکربھی ان تینوں کتابوں میں ملتا ہے۔قارئین!*  اس حقیقت کو ذہن میں رکھ کر خود کا محاسبہ کریں کہ دوہزارسال سے یہودی دن میں تین دفعہ یروشلم کی طرف منہ کرکے عبادت کرتے ہیں اوریروشلم کی آبادی اورہیکل سلیمانی کی تعمیرکی دعا کرتے چلے آرہے ہیں۔ *لیکن ہم نے کتنے منصوبے بیت المقدس کی حفاظت میں بنائے ؟  کتنی دعائیں کیں ؟* حتی کہ وہ  اس دعا میں وہ اپنے مسیحا کی مدد بھی طلب کرتے ہیں کیونکہ ان کی کتابیں کہتی ہیں کہ آخری زمانوں میں چارخونی چاند تیزی سے لگیں گے اورپھر دنیا میں ان کا اقتدار قائم ہوجائے گا۔ 
    *50۔1949ء کے چاند گرہنوں اوراگلے آنے والے چاند گرہنوں (68۔1967ء) میں صرف 15 سال کا وقفہ تھا، لیکن ان پندرہ سالوں میں یہودیوں نے خود کواس آفت سے بچانے کی پوری تدابیریں قائم کیں تاکہ وہ آنے والی بشارت کوصرف اورصرف فتح میں بدل سکیں۔* 7 جون 1967ء کواردن، شام اورمصرکے ساتھ اسرائیل کی جنگ کا آغاز عرب ممالک نے کیا اورابتدائی طورپرفتح کی طرف ان کے قدم بڑھ گئے، لیکن آخرکاراسرائیل نے انہیں ذلت آمیزشکست دے کردوہزارسال بعد یروشلم پراقتدارقائم کرلیا۔ ایسا پہلی دفعہ ہوا کہ یہودی جس خوفناک آفت کا انتظارکررہے تھے وہ بہت کم ہوئی اوربدھ 7 جون 1967ء کوصبح سے لے کرگیارہ بجے دوپہرتک یروشلم فتح کرتے ہوئے وہ دیوارِگریہ پرجاپہنچے۔  لیکن اب انہیں صرف اورصرف 2014ء اور2015ء کولگنے والے چارخونی چاندوں کا انتظارتھا۔ ایک وسیع مواد جمع کیا گیا۔ تمام ربی اورقبالہ ،  صوفی سرجوڑکربیٹھے کہ یہ چارخونی چاند ان کوتاریخ کے آخری معرکے میں لے جائیں گے۔ ان کی اس تحقیق اوریقین وایمان نے امریکا کی عیسائیت کوبھی متاثرکیا اورامریکا میں عیسائیوں نے عرق ریزی کے ساتھ سوچنا شروع کیا کہ لگتا ہے کہ دنیا کا آخریعنی End of Timesکا مرحلہ آن پہنچا ہے۔ عیسائیوں کے ہاں دجال یعنی Antichrist کی گفتگونے زورپکڑااورایک عیسائی گروہ جس کی امریکا میں خاصی اکثریت ہے یعنی ایونجیلیکل میں اس کی مشہورشخصیت بلی گراہم ہے کہ جس نے ایک زمانے کواپنی تقریروں سے متاثرکیا ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ چونکہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ کو نہیں مانا تھا، اس لیے عذاب کا شکارہوئے اوراب انہیں یروشلم میں اکٹھا کرکے اللہ ایک اورموقع دے گا کہ جب وہ ہیکل سلیمانی تعمیرکرلیں گے اورایک عالمی حکومت بنا لیں گے توپھرحضرت عیسیٰ اس دنیا میں نازل ہوں گے اوراگریہودیوں نے نہ مانا توانہیں نیست ونابودکردیں گے۔ یہ طبقہ امریکا کے عیسائیوں کا قائل کرچکا ہے کہ جلدازجلد اسرائیل کی بالادستی مشرق وسطیٰ میں قائم کرو، ہیکل سلیمانی کی تعمیر میں مدد دو تاکہ حضرت عیسیٰ زمین پرواپس آسکیں۔ اس لیے سخت گیر عیسائیوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کوجوق درجوق ووٹ دیے تاکہ وہ یروشلم پر یہودی اقتدارقائم کروائے۔ 
 لیکن اس کے بالکل برعکس یہودی ’’چارخون چاند‘‘ کے موسم کوذہن میں رکھتے ہوئے گزشتہ کئی  سالوں سے صرف ایک کام میں مصروف تھے اور ان کی پیشگوئیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسیحا کی آمد سے پہلے اسرائیل کو ایک ایسی فوجی اوراقتصادی قوت میں تبدیل کرنا ہے جومسیحا کی جنگ میں اس کی دست وبازو بن سکے۔
           یہاں تک کہ ان کی محنتوں کا نتیجہ بھی بر آمد ہوا جس کا اظہار 30 مارچ 2017ء کواسرائیل کی دفاعی پیداوارکے *ڈائریکٹربرگیڈیئرمائیکل بن باروچ نے فخریہ طورپرکہتے ہوئے کیا  کہ 2016ء میں ہم ساڑھے چھ ارب ڈالرکا اسلحہ بیچ کردنیا کا اسلحہ برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک بن چکے ہیں۔ 1985ء سے لے کراب تک دنیا میں جتنے ڈرون فروخت ہوئے۔ ان دونوں معاملات میں امریکا اسرائیل سے بہت پیچھے چلا گیا ہے*۔ 1967ء میں جنگ جیتنے کے بعد تمام بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مرکزی دفاترکا ایک 
سب دفتراسرائیل میں قائم ہوچکا ہے اورتمام کمپیوٹرٹیکنالوجی تل ابیب کی سیلیکان وادی میں منتقل ہوچکی ہے اب صرف یہودی بینکاروں کو  ایک اعلان کرنا ہے کہ ایک کلومیٹرکے علاقے پرمشتمل وال سٹریٹ کے بینک ہیڈکوارٹراسرائیل منتقل ہوجائیں توصرف وہاں کمپیوٹرکھلنے کی دیرسے  ، اتنے وقت میں دنیا کا معاشی دارالحکومت نیویارک سے منتقل ہوکریروشلم منتقل ہوجائے گا۔ 
          *قارئین!!*
*غور کرنے کی بات ہے کہ یہ سب یہودیوں نے صرف اور صرف  اس ایمان اوریقین کی دولت سے حاصل کیا ہے کہ ان سے وعدہ کیا گیا ہے کہ ایک دن ان کا مسیحا آئے گا اورانہیں حضرت داؤد علیہ السلام اورحضرت سلیمان علیہ السلام والی حکومت دوبارہ مل جائے گی۔ وہ اسرائیل میں بشارتوں کے تحت ایک جنگ کے لیے جمع ہیں اور وہ جنگ بھی مسلمانوں کے ساتھ*۔
 وہاں اگرکوئی صلح کی بات بھی کرے تواس کا انجام بھی موت ہے جیسا کہ دیکھا بھی جا چکا کہ  4 نومبر1995ء کواسرائیلی وزیراعظم اسحاق رابین کا مقدربنی، جس نے امن کا معاہدہ کیا تھا۔ 
  *مسلمانوں!*
اٹھو اور اپنے بچاؤ  میں اک مضبوط  لائحہ عمل تیار کرو__ ورنہ اگر ہم اسی طرح اپنی ہی بنیاد کمزور کرنے پر تلے رہے ، آپسی نفرت و عداوت ہی کا بیچ ڈالتے رہے تو میری قوم کا ہر فرد  یاد رکھ لے کہ!!!!! 
  *انجام  موتورصرف موت ہوگا*۔ 
اور کیا قوم مسلم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ اس کی موت ایک شدت پسند یہودی کے ہاتھوں سے ہو؟؟؟  ۔ ویسے خدا خیر کرے ۔ ان کے منصوبے کو فیل کرے ۔ 
        *میں بڑے ادب کے ساتھ  اپنے ان  قائدین ، اور   علما کرام سے دریافت کرنا چاہتا ہوں جو دنوں و رات باطل کے منصوبوں اور سازشوں میں مصلحت تلاش کرکے امن کی باتیں کرتے ہیں کہ کیا مسلمان ، ہماری قوم  یہودی شدت پسندوں کا مقابلہ امن کے گیتوں سے کرسکیں گے ؟؟؟؟* 
           *کاش ہم  اپنی حفاظت کے لیے کوئی مضبوط سے  مضبوط تر  لائحہ عمل تیار کرتے!!!*
         اللہ ہم سبھی کی حفاظت فرمائے