أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الَّذِيۡنَ جَعَلُوا الۡـقُرۡاٰنَ عِضِيۡنَ ۞

ترجمہ:

جنہوں نے قرآن کو کچھ مان کر اور کچھ نہ مان کر ٹکڑے کردیا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جنہوں نے نے قرآن کو کچھ مان کر اور کچھ نہ مان کر) ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ سو آپ کے رب کی قسم ہم ان سب سے ضرور سوال کریں گے، کہ وہ کیا کرتے رہے تھے (الحجر : 93 ۔ 91) 

اس آیت میں فرمایا ہے جنہوں نے قرآن کو عطین کردیا علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی 502 ھ لکھتے ہیں : 

عضین کا معنی 

یعنی جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا بعض نے کہا یہ کہانت ہے اور بعض نے کہا یہ اگلے لوگوں کے قصے ہیں قرآن مجید میں ہے۔

أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ( البقرہ : ٨٥) کہا پس تم کتاب کے بعض حصے کے ساتھ ایمان لاتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو۔

اور عضون جمع ہے جیسے ثبون ثبتہ کی جمع ہے اسی طرح عضتہ کی جمع ہے عضوم ہے اسی طریقہ پر العضتہ اصل میں ایک درخت ہے اگر اس کی اصل العضو ہو تو یہ ناقص یائی ہے اور لام کلمہ حذف ہوگیا

عضیت الشیٗ کا معنی ہے کسی چیز کا ٹکڑے ٹکڑے کرنا اور ہر ٹکڑا عضۃ کہلاتا ہے اور تخضیۃ کا معنی ہے تجزیہ کرنا عضیت الجزورو الشاہ کا معنی ہے میں نے اونٹ اور بکری کو ٹکرے ٹکڑے کردیا وار ان کو تقسیم کردیا جعلو القران عضین کا معنی ہے انہوں نے قران کو بوٹی بوٹی کرڈالا۔

دوسری صورت یہ ہے کہ یہ اصل میں عضھہ تھا آخر میں جو تاء ہے وہ حالت وقف میں ہاء ہوجاتی ہے اور دوہاؤں کا اجتماع زبان ثقیل خیال کیا گیا تھا تو ایک ہاء حذف کردی گئی اور عضہ ہوگیا اس کا معنی جھوٹی اور بناوٹی بات ہے اس قول کی بناء پر جعلوا القران عضین کا معنی ہے انہوں نے قرآن کو بناوٹی خودساختہ اور من گھڑت کلام قرار دیا۔ المفردات مع التو ضیح ج 2 ص 439، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ 1418 ھ)

حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ یہ کتاب کے بعض حصے پر ایمان لائے اور بعض کے ساتھ کفر کیا اور یہ منکرین قرآن مجید کے متعلق مختلف باتیں کرتے تھے اس کو کذاب سحر کہا نت اور شعر کہتے تھے۔ 

گنہ گار مسلمانوں سے قیامت کے دن سوال کی کیفیت 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ کے رب کی قسم ہم ان سے سے ضرور سوال کریں گے یعنی ہم ان سے ضرور ان کاموں کے متعلق سوال کریں گے جو وہ دنیا میں کرتے رہے تھے امام بخاری نے کہا اکثر اہل علم نے کہا ہے ان سے لا الہ الا اللہ کے متعلق سوال کریں گے 

حضرت زید بن ارقم (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہا وہ جنت میں داخل ہوجائے گا آپ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ ! اخلاص کا کا کیا معیار ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے اجتناب کرے ( الجامع الصغیر رقم الحدیث : 8896)

نیز حضرت زید بن ارقم (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے یہ عہد کیا ہے کہ جو شخص بھی میری امت سے میرے پاس لا الہ الا اللہ لے کر آئے درآنحا لی کہ اس نے اس ( توحید) کے ساتھ کسی چیز کو نہ ملایا ہو تو اس کے لیے جنت واجب ہوجائے گی صحابہ نے پوچھا یارسول اللہ ! وہ لا الہ الا اللہ کے ساتھ کی چیز ملائے گا ؟ آپ نے فرمایا دنیا کی حرص کرنا اور دنیا کو جمع کرنا اور دنیا کی وجہ سے منع کرنا وہ نبیوں کی طرح باتیں کریں گے اور ظالمو‏ں کے عمل کریں گے حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لا الہ الا اللہ بندوں کو اللہ کی ناراضگی سے بچاتا ہے جب تک کہ دنیا کو دین پر ترجیح نہ دیں اور جب وہ دنیا کو دین پر ترجیح دیں اور لا الہ الا اللہ کہیں تو یہ کلمہ ان پر ردکر دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم نے جھوٹ بولا۔ نوادرالا صول ج 3 ص 73 ۔ 72، الجامع الاحکام القرآن جز 10 ص 56 ۔ 55، مطبوعہ بیروت)

یہ آیت اپنے عموم سے اس پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن اور کافر سب سے حساب لے گا ماسوان مومنوں کے جن کو اللہ تعالیٰ بغیر حساب کے جنت فرمائے گا۔ 

کفار سے قیامت کے دن سوال کی کیفیت 

اس میں اختلاف ہے کہ آیا کافروں سے بھی سوال کیا جائے گا اور ان سے بھی حساب لیا جائے گا یا نہیں صحیح یہ ہے کہ کافروں سے بھی سوال کیا جائے گا اور ان سے بھی حساب لیا جائے گا اور اس پر دلیل درج ذیل آیات ہیں :

وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ ( الصفت : ٢٤) اور انہیں ٹھہراؤ، بیشک ان سے سوال کیا جائے گا۔

إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ (٢٥) ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ ( الغاشیہ : ٢٦) بیشک ان کا لوٹنا ہماری ہی طرف ہے، پھر بیشک ہم ہی پر ان کا حساب لینا ہے۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے اللہ تعالی فرماتا ہے 

وَلا يُسْأَلُ عَنْ ذُنُوبِهِمُ الْمُجْرِمُونَ ( القصص : ٧٨) اور ان کے گناہوں کے مجرمین سے سوال نہیں کیا جائے گا۔

فَيَوْمَئِذٍ لا يُسْأَلُ عَنْ ذَنْبِهِ إِنْسٌ وَلا جَانٌّ ( الرحمن : ٣٩) انسان ہو خواہ جن ہو سو اس دن کسی کے گناہوں کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا۔

وَلا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ( البقرہ : ١٧٤) اور اللہ سے قیامت کے دن کلام نہیں کرے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا۔

كَلا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ المطففین : ١٥) حق ہی ہے کہ اس دن وہ اپنے رب کے دیدار سے ضرار محروم ہوں گے۔

ان آیات سے پتا چلتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کفار سے کلام نہیں فرمائے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا نہ وہ اس کو دیکھیں گے اور نہ ان سے کو گناہوں کے متعلق سوال کرے گا سو ان سے ان کا حساب بھی نہیں لیا جائے گا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ حشر کے دن کئی مواقف اور مختلف احوال ہوں بعض موافق اور بعض احوال میں اللہ تعالیٰ کوئی کلام کرے گا نہ کوئی سوال کرے گا نہ کوئی حساب لے گا یہ اس وقت ہوگا جب اللہ تعالیٰ جلال سے فرمائے گا : لمن الملک الیوم آج کس کی بادشاہی ہے ؟ پھر خود ہی فرمائے گا للہ الواحد القھار صرف اللہ کی جو ایک ہے اور سب پر غالب ہے ( المومن : 16) پھر جب ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدہ میں گر کر اللہ تعالیٰ کو راضی کریں گے تب اللہ تعالیٰ مخلوق سے سوال کرے گا اور ان سے حساب بھی لے گا اور ان سے کلام بھی فرمائے گا لیکن مومنون سے محبت سے کلام فرمائے گا اور کافروں سے غضب سے کلام فرمائے سو کفار سوال اور حساب کی نفی کی آیات کا تعلق پہلے موقف اور پہلے حال سے ہے اور ان سے سوال کرنے اور حساب لینے کے ثبوت کی آیات کا تعلق بعد کے موقف اور بعد کے حال سے ہے۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کے اعمال کو معلوم کرنے کے لیے سوال نہیں کرے گا کہ تم نے فلاں فلاں عمل کیوں کیے تم نے ہمارے رسولوں کی اور ہماری کتابوں کی نافرمانی کیوں کی اور اس کے لیے تمہارے پاس کیا عذر ہے

پس تحقیق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دن مومن اور کافر ہر شخص سے سوال کرے گا وہ ارشاد فرماتا ہے :

ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ ( التکاثر : ٨) پھر تم سے اس دن نعمتوں کے متعلق ضرور پوچھا جائے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 91