أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَتٰۤى اَمۡرُ اللّٰهِ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡهُ‌ ؕ سُبۡحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اللہ کا حکم آپہنچا سو (اے کافرو) تم اس کو بہ عجلت طلب نہ کرو، اللہ ان چیزوں سے پاک اور بلندو برتر ہے جن کو وہ اس کا شریک قرار دیتے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ کا حکم آپہنچا۔ سو (اے کافرو) تم اس کو بہ عجلت طلب نہ کرو، اللہ ان چیزوں سے پاک اور بلندو برتر ہے جن کو وہ اس کا شریک قرار دیتے ہیں۔ (النحل : 1)

عذاب کی وعید سے سورة النحل کی ابتداء کرنے کی توجیہ :

اس سورت کا بڑا مقصد مشرکین کو شرک اور دوسرے برے کاموں سے روکنا ہے اور ان کاموں پر ان کو آخرت کے عذاب سے ڈرانا ہے، اس سے پہلے بھی بہ کثرت آیات میں انہیں عذاب کی وعید سنائی جاچکی ہے اور ان کو یہ بتایا جاچکا ہے کہ وہ دن آنے والا ہے جس میں ان کی شوکت اور قوت زائل ہوجائے گی وہ کافی عرصہ تک اس دن کا انتظار کرتے رہے حتی کہ انہیں یہ یقین ہوگیا کہ یہ محض خالی کو لی دھمکی ہے اور کہنے لگے جس عذاب سے آپ ہمیں اتنے عرصہ سے ڈرا رہے ہیں آخر وہ اب تک کیوں نہیں آیا اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی : اللہ کا حکم آپہنچا سو (اے کافرو) تم اس کو بہ عجلت طلب نہ کرو۔

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی 310 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

ابن جریج بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ کا حکم یعنی اس کا عذاب آپہنچا تو منافقین نے آپس میں کہا یہ شخص یہ گمان کر رہا ہے کہ اللہ کا عذاب آپہنچا ہے تو تم فی الحال اپنی کارروائیاں موقوف کردو اور پھر انتظار کرو کہ کیا ہوتا ہے، پھر جب انہوں نے دیکھا کہ کوئی چیز نازل نہیں ہوئی تو انہوں نے کہا ہمارا گمان یہ ہے کہ کوئی عذاب نازل نہیں ہوگا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ 

اقترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون (الانبیاء :1) لوگوں کے لیے ان کا حساب قریب آگیا اور وہ غفلت سے روگردانی کیے ہوئے ہیں۔

منافقین نے کہا کہ یہ تو پہلے کی مثل ہے، اور پھر جب انہوں نے دیکھا کہ کوئی عذاب نازل نہیں ہوا تو انہوں نے کہا ہمارا گمان یہ ہے کہ کوئی چیز نازل نہیں ہوگی اس وقت یہ آیت نازل ہوئی :

ولئن اخرنا عنھم العذاب الی امۃ معدودۃ لیقولن ما یحبسہ الا یوم یاتیھم لیس مصروفا عنھم وحاق بھم ماکانوا بہ یستھزئون۔ (ھود :8) اور اگر ہم چند دنوں کے لیے ان سے عذاب روک لیں تو وہ ضرور کہیں گے کہ کس چیز نے اسے روک لیا ؟ سنو جس دن وہ عذاب ان پر آئے گا تو ان سے پھیرا نہ جائے گا اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑاتے تھے وہ ان کا احاطہ کرلے گا۔ (جامع البیان رقم الحدیث : 16192، مطبوعہ دار الفکر بیرو، 1415 ھ)

بہ ظاہر یہ روایت صحیح نہیں معلوم ہوتی کیونکہ النحل مکی سورت ہے اور مکہ میں منافقین موجود نہ تھے، امام فخر الدین رازی متوفی 606 ھ نے اس روایت کو اس طرح بیان کیا ہے :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشرکین کو کبھی دنیا کے عذاب سے ڈراتے تھے، یعنی ان کو قتل کردیا جائے گا اور ان پر غلبہ حاصل کیا جائے گا جیسا کہ غزوہ بدر میں ہوا اور کبھی ان کو قیامت کے عذاب سے ڈراتے تھے جو قیامت کے دن واقع ہوگا، پھر جب مشرکین نے کسی قسم کے عذاب کو نہیں دیکھا تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کرنے لگے، اور آپ سے عذاب کا مطالعہ کرنے لگے تب یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ کا عذاب آپہنچا سو (اے کافرو) تم اس کو بہ عجلت طلب نہ کرو۔ (تفسیر کبیر ج 7، ص 168، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1415 ھ)

مستقبل میں آنے والے عذاب کو ماضی سے تعبیر کرنے کی توجیہ :

اس آیت میں فرمایا ہے وہ عذاب آپہنچا حالانکہ ابھی وہ عذاب آیا نہیں ہے قیامت کے بعد آئے گا اس کی وجہ یہ ہے کہ جس چیز کا تحقق اور وقوع واجب ہو اور اس کے واقع ہونے پر قطعی عقلی دلائل قائم ہوں اس کو ماضی کے ساتھ تعبیر کردیا جاتا ہے اس کی مثال حسب ذیل آیات میں ہے :

ونادی اصحب الجنۃ اصحب النار ان قد وجدنا ما وعدنا ربنا حقا۔ (الاعراف : 44) اور جنت والوں نے دوزخ والوں کو پکارا بیشک ہمارے رب نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا ہم نے اس کو سچا پالیا۔

اذا زلزلت الارض زلزالھا۔ واخرجت الارض اثقالھا۔ وقال الانسان مالھا۔ (الزلزال : 1 ۔ 3) اور جب زمین زلزلہ سے ہلا دی گئی، اور جب زمین نے اپنے تمام بوجھ باہر نکال دیے، اور انسان نے (تعجب سے) کہا اس کو کیا ہوا۔

نیز اللہ تعالیٰ نے جس چیز کی خبر دی ہے اس میں ماضی اور مستقبل کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کے ہونے کی خبر دی ہے وہ لامحالہ ہوگی۔

دوسری بات یہ ہے کہ اس آیت میں فرمایا ہے اللہ کا امر آپہنچا اس کا معنی ہے اللہ کا حکم آپہنچا حالانکہ یہاں مراد ہے اللہ کا عذاب آپہنچا، اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن عظیم میں امر کا اطلاق عذاب پر بھی کیا گیا ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے :

قال لا عاصم الیوم من امر اللہ الا من رحم۔ (ھود : 43) نوح نے کہا آج اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں ہے، مگر وہی (بچے گا) جس پر اللہ رحم فرمائے۔

امام محمد بن ادریس ابن ابی حاتم متوفی 327 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عقبہ بن ابی عامر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا قیامت کے وقت مغرب کی جانب سے ڈھال کی مانند ایک سیاہ بادل طلوع ہوگا اور وہ مسلسل آسمان میں بلند ہوتا رہے گا اور آسمان سے ایک منادی ندا کرے گا : اے لوگو ! پھر لوگ ایک دوسرے سے سوال کریں گے کیا تم نے کوئی آواز سنی ہے، بعض کہیں گے ہاں، اور بعض کو شک ہوگا، پھر دوبارہ منادی ندا کرے گا اے لوگو ! پھر لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے کیا تم نے سنا، پس لوگ کہیں گے ہاں، پھر تیسری بار منادی ندا کرے گا اے لوگو ! اللہ کا عذاب آپہنچا، سو اب تم اس کو بہ عجلت طلب نہ کرو، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے، دو شخص کپڑے کھول رہے ہوں گے وہ کو لپیٹ نہیں سکیں گے اور ایک شخص اپنے حوض کو بھر رہا ہوگا وہ اس میں سے کچھ پی نہیں سکے گا، اور ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ دوھ رہا ہوگا وہ اس میں سے پی نہیں سکے گا اور لوگ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوں گے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : 12458 ۔ 12460، الدر المنثور ج 5، ص 107)

حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (دو انگلیاں ملا کر) فرمایا میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 6405 ۔ 6404، صحیح مسلم رقم الحدیث 2951، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : 6642)

کفار اور مشرکین نے کہا چلو ہم نے مان لیا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا یا آخرت میں عذاب نازل کرنے کا حکم نازل فرمایا ہے، مگر ہم جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری شفاعت کریں گے تو ان بتوں کی شفاعت کی وجہ سے ہماری عذاب سے نجات ہوجائے گی۔

اللہ تعالیٰ نے اس کے رد میں فرمایا : اللہ ان چیزوں سے پاک اور بلندو برتر ہے جن کو اس کا شریک قرار دیتے ہیں۔ (تفسیر کبیر ج 7، ص 168، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1415 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 1