أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ بِالۡحَـقِّ‌ؕ تَعٰلٰى عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اسی نے آسمانوں اور زمینوں کو برحق پیدا کیا، وہ ان سے بلندو برتر ہے جن کو وہ اس کا شریک قرار دیتے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اسی نے آسمانوں اور زمینوں کو برحق پیدا کیا وہ ان سے بلندو برتر ہے جن کو وہ اس کا شریک قرار دیتے ہیں۔ اسی نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا تو وہ (اس کے متعلق) علی الاعلان جھگڑنے لگا۔ (النحل : 3 ۔ 4)

اللہ تعالیٰ کی توحید پر دلیل : 

ان آیتوں سے اللہ تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور اپنی توحید پر استدلال فرمایا ہے، پہلے آسمانوں اور زمینوں سے استدلال کیا اور وجہ استدلال یہ ہے کہ آسمان، زمین اور انسان مخصوص جسامت اور مخصوص شکل و صورت کے ساتھ موجود ہیں اور اس جسامت اور اس شکل کا کوئی موجد ہونا ضروری ہے، اور یہ ضروری ہے کہ وہ موجد واجب اور قدیم ہو کیونکہ اگر وہ موجد ممکن اور حادث ہوا تو اس کے لیے پھر ایک موجد ماننا ہوگا اور جب یہ ثابت ہوگیا کہ ان کا موجد واجب اور قدیم ہوگا تو یہ بھی ماننا ہوگا کہ وہ موجد واضھ ہو ورنہ پھر تعدد وجباء لازم آئے گا اور یہ باطل ہے جیسا کہ ہم کئی بار بتا چکے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا اور ایک ناپاک قطرہ سے عجیب و غریب مخلوق بنائی، ماں کے پیٹ میں تین اندھیروں میں اس قطرہ کو مختلف اشکال میں ڈھالتا رہا، پھر اس کی خلقت مکمل کرنے اور اس میں روح پھونکنے کے بعد اس کو دنیا کی روشنی میں لایا اس کو غذا اور روزی دی اور اس کی پرورش کرتا رہا، حتی کہ جب وہ بلوغت کو پہنچ گیا اور اس قابل ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرے اور اس کی عبادت کرے تو اس نے اپنے رب کی نعمتوں کا کفر کیا اور اپنے پیدا کرنے والے کو مانے اور صرف اسی کی عبادت کرنے سے انکار کیا اور ان بتوں کی عبادت کی جو اس کو نفع پہنچا سکتے تھے اور نہ نقصان پہنچا سکتے تھے اور اپنے پروردگار کی قدرت کا اور اس کے دوبارہ پیدا کرنے کا انکار کیا اور کہنے لگا :

قال من یحی العظام وھی رمیم۔ قل یحییھا الذی انشاھا اول مرۃ، وھو بکل خلق علیم۔ (یسین : 79 ۔ 78) اس نے کہا جب ہڈیاں بوسیدہ ہو کر گل جائیں گے تو ان کو کون زندہ کرے گا ؟ آپ کہیے ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی بار پیدا کیا تھا اور وہ ہر پیدائش کو خوب جاننے والا ہے۔

اور وہ اس کو بھول گیا جس نے ایک ناپاک اور گندہ قطرہ سے اس کو ایسی پاکیزہ اور حسین شکل دی تھی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 3