أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ اِلٰى مَا مَتَّعۡنَا بِهٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡهُمۡ وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ وَاخۡفِضۡ جَنَاحَكَ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور آپ اس متاع ( دنیاوی) کی طرف رشک سے نہ دیکھیں جو ہم نے کافروں کے کئی گروہوں کو دیا ہے اور نہ ان کافروں پر افسوس کریں اور ایمان والوں کے لیے اپنی رحمت کے بازو جھکائے رکھیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ اس متاع دنیاوی کی طرف رشک سے نہ دیکھیں جو ہم نے کافروں کے کئی گروہوں کو دیا ہے اور نہ ان کافروں پر افسوس کریں اور ایمان والوں کے لیے اپنی رحمت کے باز وجھکائے رکھیں۔ (الحجر :88)

علامہ محمد بن عمر الزحشری متوفی 538 ھ اس آیت کی تفسیر لکھتے ہیں ہیں :

اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ ہم نے آپ کو السبع المثانی اور قرآن عظیم کی بہت بڑی نعمت عطا کی ہے اور جس کے پاس یہ نعمت ہو اسے اور کسی چیز کی طرف دیکھنے کی ضرور نہیں ہے امام عبد الہ بن المبارک المتوفی 181 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔

حضرت عبداللہ بن عمر بن العاص (رض) فرماتے ہیں جس نے قرآن پڑھا اس کے دو پہلووں میں نبوت کو درج کردیا گیا مگر اس کی طرف وحی نہیں کی جائے گی اور جس نے قرآن پڑھا اور اس نے یہ گمان کیا کہ اللہ کی مخلوق میں سے کسی کو اس سے افضل نعمت دی گئی ہے اس نے اس نعمت کو حقیر سمجھا جس کو اللہ نے عظیم کہا اور اس کے عظیم سمجھا جس کو اللہ نے حقیر قرار دیا ہے اور حامل قرآن کو چاہیے کہ وہ جاہلوں کے سے کام نہ کرے اور ظلم نہ کرے بلکہ معاف کردے اور درگزر کرے امام ابن عدی نے الکا مل میں اس حدیث کو حضرت ابن مسعود سے مر فوعا روایت کیا ہے۔ ( کتاب الزھد رقم الحدیث : 799، شعب الایمان رقم الحدیث : 2590 مجمع الزوائد ج 7 ص 159 الکامل ج 3 س طبع جدید) 

متاع دنیا کی طرف دیکھنے کی ممانعت کو عام مفسرین کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف راجع کرنا 

اکثر وبیشتر مفسرین نے اس ظاہر آیت کے مطابق کفار کے مال ومتاع کی طرف رغبت سے دیکھنے کی ممانعت کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف راجع کیا ہے۔

شیخ محمد بن علی بن محمد شوکانی متوفی 1250 ھ لکھتے ہیں : یعنی آپ دنیا کی مزین چیزوں کو طرف رغبت سے نظر اٹھا کر نہ دیکھیں اور نہ ان کی تمنا کریں۔ ( فتح القدیر ج 3 ص 192 مطبوعہ دارالوفاء 1418 ھ)

نواب صدیق حسن خاں بھوپالی متوفی 1307 ھ لکھتے ہیں : پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو دینی نعمتیں عطا فرمائی ہیں ان کی وجہ سے آپ کو جلد زائل ہونے والی دنیا کی لذات سے مستثنی کردیا ہے لہذا آپ دنیا کی مزین چیزوں کی طرف رغبت سے نظر اٹھاکر نہ دیکھیں اور نہ تمنا کریں۔ ( فتح البیان ج 7 ص 195، مطبوعہ المکتبہ العصریہ بیروت 1415 ھ)

شیخ شبیر احمد عثمانی متوفی 1329 ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : یعنی مشرکین یہود و نصاری اور دوسرے دشمنان خدا اور رسول کو دنیا کی چند روزہ زندگی کا جو سامان دیا ہے اس کی طرف نظر نہ کیجئے کہ ان ملعو نوں کو یہ سامان کیوں دے دیا گیا ہے جس سے ان کی شقاوت و شرارت زیادہ بڑھتی ہے یہ دولت مسلمانوں کو ملتی تو اچھے راستہ میں خرچ ہوتی ان کو تھوڑی دیر مزہ اڑا لینے دو تم کو خدا تعالیٰ نے وہ دولت قرآن دی ہے جس کے آگے سب دولتیں گرد ہیں روایت میں ہے کہ جس کو خدا تعالیٰ نے قرآن دیا پھر کسی کو اور نعمت دیکھ کر ہوس کرے تو اس نے قرآن کی قدر نہ جانی (حاشیہ قرآن برترجمہ محمود الحسن 353 مطبوعہ سعودی عربیہ)

سید ابو الا علی مودودی متوفی 1399 لکھتے ہیں۔ یہ بات بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھیوں کی تسکین و تسلی کے لیے فرمائی گئی ہے وقت وہ تھا جب حضور اور آپ کے ساتھی سب کے سب انتہائی خستہ حالی میں مبتلا تھے کار نبوت کی عظیم ذمہ داریاں سنبھالتے ہی حضور کی تجارت قریب قریب ختم ہوچکی تھی اور حضرت خدیجہ (رض) کا سر مایہ بھی دس بارہ سال کے عرصے میں ختم ہوچکا تھا۔ مسلمانوں میں سے بعض کم سن نوجوان تھے جو گھروں سے نکال دیئے گئے تھے بعض نے چارے پہلے ہی غلام یا موالی تھے جن کی کوئی معاشی حثیت نہ تھی اس پر مزید یہ ہے کہ حضور سمیت تمام مسلمان مکہ اور اطراف ونواح کی بستیوں میں انتہائی مظومی کی زندگی بسر کر رہے تھے ہر طرف سے مطعون تھے ہر جگہ تذلیل و تحقیر اور تضحیک کانشانہ بنے ہوئے تھے اور قلبی و روحانی تکلیفو کے ساتھ جسمانی اذیتوں سے بھی کوئی بچا ہوا نہ تھا دوسری طرف سردار ان قریش دنیا کی نعمتوں سے مالا مال اور ہر طرح کی خو شحالیوں میں مگن تھے ان حالات میں فرمایا جارہا ہے کہ تم شکستہ خاطر کیوں ہوتے ہو تم کو تو ہم نے وہ دولت عطا کی ہے جس کے مقابلہ میں دنیا کی ساری نعمتیں ہیچ ہیں رشک کے لائق تمہاری یہ علمی واخلاقی دولت ہے کہ ان لوگوں کا مادی دولت جو طرح طرح کی حرام طریقوں سے کما رہے ہیں اور طرح طرح کے حرام راستوں میں اس کمائی کو اڑا رہے ہیں اور آخر کار بالکل مفلس وقلاش ہو کر اپنے رب کی سامنے حاضر ہونے والے ہیں۔ (تفہیم القرآن ج 2 ص 517 مطبوعہ لاہور 1982 ء) 

مصنف کے نزدیک یہ نسبت امت کی طرف تعر یضا ہے 

ہمارے نزدیک مال ومتاع دنیا کی طرف رغبت سے دیکھنے کی ممانعت کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف راجع کرنا صحیح نہیں ہے اس آیت میں آپ کی امت کو تعریض کی گئی ہے یعنی بظاہر آپ کو منع فرمایا ہے لیکن حقیقت میں آپ کی امت کو زینت دنیا کی طرف دیکھنے سے منع کرنا مراد ہے اور اس کی نظیر یہ آیت ہے :

وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ ( الزمر : ٦٥) اور اگر (بالفرض) آپ نے بھی شرک کیا تو ضرور آپ کے سب عمل ضائع ہوجائیں گے اور آپ ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔

اس آیت کا یہ معنی ہے کہ آپ کفار کی دنیاوی متاع اور ان کے سامان عیش و عشرت کی طرف رعبت کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے روک دیا بلکہ اس آیت میں آپ کی امت کی طرف تعریضا خطاب ہے صراحتا رغبت سے ممانعت کی نسبت آپ کی طرف آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اور ردشک اور حسرت سے نہ دیکھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف دنیاوی عیش سے رغبت کی ممانعت کی نسبت حقیقتا درست نہیں ہے کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیناوی عیش و آرام کے اسباب اور دنیاوی زیب وزینت کی طرف التفات نہیں کرتے تھے اور نہ ان کو اختیار کرتے تھے اور نہ اپنے پاس دنیاوی مال کو رکھتے تھے جیسا کہ حسب ذیل احا دیث سے واضح ہوتا ہے۔ 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اختیار سے متاع دنیا کو ترک فرماتے تھے 

حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ پیش کش کی کہ وہ میرے لیے مکہ کی پتھریلی زمین کا سونا بنادے میں نے کہا نہیں اے میرے رب ! میں ایک دن پیٹ بھر کر کھاؤں گا اور ایک دن بھوکا رہوں گا جب میں بھوکا ہوں گا تو تجھ سے عاجزی سے سوال کروں گا اور تیرا ذکر کروں گا اور جب میرا پیٹ بھرا ہوگا تو تیرا شکر کروں گا اور تیری حمد کروں گا امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن ہے۔ ( سنن الترمذی رقم الحدیث : 2347، مسند احمد ج 5 ص 254، المعجم الکبیر رقم الحدیث : 7835، التر غیب والتر ہیب ج 4 ص 153 مشکوہ رقم الحدیث 5190، حلیتہ الاولیاء ج ج 8 ص 133) 

امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت عمر (رض) سے ایک طویل حدیث روایت کی ہے اس میں مذکور ہے کہ حضرت عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر کے سامان کا جائزہ لیا حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں رسول الہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے آپ کے اور چٹائی کے درمیان کوئی بستر نہیں تھا اور آپ کے اقدس کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کے خشک پتے بھرے ہوئے تھے اور آپ کے پیروں کے پاس درخت قرظ کے پتے ڈالے ہوئے تھے اور آپ کے سرہانے کچی کھالیں لٹکی ہوئیں تھیں اور میں نے دیکھا کہ آپ کے پہلو میں چٹائی کے نقش کے نشا نات ثبت ہوگئے تھے میں رونے لگا آپ نے فرمایا تم کس وجہ سے رو رہے ہو ؟ میں نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ ! کسری اور قیصر کس قدر عیش و آرام میں ہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں ! آپ نے نے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ ان کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت ہو ! امام بخاری کی دوسری روایت رقم :2468 میں یہ الفاظ ہیں حضرت عمر نے گھر کی چیزوں کا جائزہ لے کر کہا آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی امت پر کشادگی کردے کیونکہ فارس اور روم پر سعت کی گئی ور ان کو متاع دنیاوی گئی ہے حلان کہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے آپ تکیہ لگائے ہوئے تھے آپ نے فرمایا ابن خطاب کیا تم اپنے دین کے متعلق شک ہو ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کی پسندیدہ چیزیں دنیا میں ہی جلدی دے دی گئیں میں میں کہا یارسول اللہ میرے لیے استغفار کیجئے (صحیح البخاری رقم الحدیث 4913 صحیح مسلم رقم الحدیث 1479)

ان حدیثوں سے یہ معلوم ہوا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی اضطرارار اور مجبوری کی وجہ سے دنیا کے عیش و آرام اور دینا کے سازو سامان کو ترک نہیں کیا تھا بلکہ آپ کا فقر اور آپ کی سادہ زندگی اختیاری تھی اس لیے یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ کافروں کے مال کی طرف رغبت کرتے ہوں حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بحرین سے مال آیا آپ نے فرمایا اس کو مسجد میں پھیلادو اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جو اموال آتے تھے یہ ان میں سب سے زیادہ مال تھا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کی طرف چلے گئے اور اس مال کی طرف التفات نہیں کیا جب آپ نماز پڑھاکر چکے تو مال کے پاس آکر بیٹھ گئے آپ جس شخص کو بھی دیکھتے اس کو مال اس میں سے مال عطافر ماتے آپ کے پاس حضرت عباس (رض) آئے اور کہا یارسول اللہ ! سمجھے مال دیجئے کیونکہ میں نے اپنا فدیہ بھی دیا تھا اور عقیل کا فدیہ بھی دیا تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا مال لے لو انہوں نے اپنے کپڑے میں مال بھر نا شروع کیا پھر مال کا چوٹی نما ایک بڑا ڈھیر اکٹھا کرلیا۔ جس کو وہ اٹھا نہیں سکے انہوں نے کہا یارسول اللہ ! آپ کسی کو حکم دیجئے کہ وہ اس مال کو اٹھاکر میرے اوپر رکھ دے آپ نے فرمایا نہیں انہوں نے کہا پھر آپ خود اٹھاکر رکھ دیں آپ نے فرمایا نہیں انہوں نے پھر اس سے کچھ مال کم کیا اور اس کو اٹھاکر اپنے کندھے پر رکھ لیا اور چلے گئے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نظر ان کا پیچھا کرتی رہی حتی کہ وہ نظر سے اوجھل ہوگئے آپ نے کی حرص پر تعجب کرتے رہے تھے جب تک ایک ایک درہم تقسیم نہیں کردیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں سے کھڑے نہیں ہوئے (صحح البخاری رقم الحدیث : 421، مطبوعہ دارارقم بیروت)

حضرت عقبہ بن حارث (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عصر کی نماز پڑھی آپ سلام پھیر نے کے بعد جلدی سے کھڑے ہوگئے اور ازواج مطہرات میں سے کسی کے حجرے میں گئے پھر باہر آئے آپ نے دیکھا کہ آپ ک کے اس طرح سرعت کے ساتھ اٹھ کرجانے کی وجہ سے لوگوں کو چہروں پر تعجب کے آثار ہیں۔ آپ نے فرمایا مجھے نماز میں یاد آیا کہ ہمارے پاس سونے کا ایک ٹکرا پڑا ہوا ہے اور میں نے اس سونے کے ٹکڑے کو تقسیم کرنے کا حکم دیا (صحیح البخاری رقم الحدیث : 1221، مطبوعہ دارارقم بیروت)

ان حدیثوں سے معلوم ہو کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ادنیا کا مال ومتاع آتا بھی تھا تو اس کو تقسیم کردیتے تھے پھر آپ کے متعلق یہ کیسے تصور یا فرض کیا جاسکتا ہے کہ آپ کافروں کے پاس دنیا کا مال ومتاع دیکھ کر اس کی طرف رغبت کرتے ہوں یا اس کر رشک بھری نظروں سے اور حسرت سے دیکھتے ہوں اس لیے لامحالا قرآن مجید کی اس آیت کا یہی محمل ہے کہ اس میں کافروں کے مال ومتاع کو رشک سے دیکھنے کی ممانعت اگرچہ صراحتا آپ کو کی گئی ہے لیکن اس سے مراد آپ کی امت ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود بھی صحابہ کرام کو کافروں کے مال ومتاع کی طرف رغبت کرنے سے منع فرمایا ہے جیسا کہ صحیح بخاری کی حدیث سے گزر چکا ہے کہ آپ نے حضرت عمر سے فرمایا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ ان کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت ہو اور آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کی پسند یدہ چیزیں دنیا میں ہی جلدی دے دی گئیں

اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود بھی اپنی امت کو زیب وزینت اور عیش و آرام ترک کرنے کی ترغیب دی ہے جیسا کہ حسب ذیل سے ظاہر ہوتا ہے۔ 

امت کو دنیاوی عیش کے سامان ترک کرنے کی ترغیب 

حضرت ابواما مہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے احباب میں سے میرے نزدیک زیادہ قابل رشک ہو مومن ہے جو کم مال والا ہو نماز میں اس کا زیادہ حصہ ہو اپنے رب کی اچھی عبادت کرتا ہو اور نتہائی میں اس کی اطاعت کرتا ہو لوگوں میں کم نام ہو اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا جاتا ہو اس کا رزق بہ قدر ضرورت ہو اور وہ اس پر صبر کرتا ہو پھر آپ نے دوانگلیاں ملا کر فرمایا اس کی موت جلدی آئے گی اس پر رونے والے کم ہو گے اور اس کی میراث کم ہوگی۔ (سنن الرمذی رقم الحدیث : 2374، مسند احمد ج 5 ص 252 المعجم الکبیر رقم الحدیث 7829 المستدرک ج 4 ص 123 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4117)

حضرت عثمان بن عفان (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ابن آدم کے لیے ان چیزوں کے سوا اور کوئی حق نہیں ہے اس کے پاس سکونت کے لیے گھر ہو اتنا کپڑاہو جس سے اپنی شرم گاہ چھپا سکے روٹی کا ٹکڑا اور پانی (سنن الترمذی رقم الحدیث : 2341، مسند احمد ج 1 ص 62 مسند رقم الحدیث 414 حلیتہ الاولیاء ج 1 ص 61، المعجم الکبیر رقم الحدیث :

حضرت عبد اللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نے شک وہ مسلمان کامیاب ہوگیا جس کو بقد ضرورت رزق دیا گیا اور اللہ نے اس کو اس پر قانع بنادیا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : 2348، مسند احمد ج 2 ص 168، صحیح مسلم رقم الحدیث : 1054، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 4138 حلیتہ الاولیاء ج 6 ص 129، سنن کبری للبیقی ج 4 ص 196 شرح السنہ رقم الحدیث 4043)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کسی شے کے لیے اتنی اجازت نہیں دی جتنی اجازت قرآن کے ساتھ مخفی کی دی ہے سفیان نے کہا اس کی تفسیر یہ ہے کہ وہ قرآن کی وجہ سے دوسری چیزوں سے مستغنی رہے ( صحیح البخاری رقم الحدیث : 5024 مطبوعہ دارارقم بیروت)

جس طرح سورة الحجر کی اس آیت میں بظاہر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہے اور حقیقت میں امت کو سنانا اور ان کو تعریض کرنا مراد ہے اسی طرح اس آیت میں بھی بظاہر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہے اور حقیقت میں امت کو تعریض ہے

ولا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ( طحہ : ١٣١) اور آپ حیات دنیا کی ان زینتوں اور آرائش کی طرف اپنی انکھیں نہ پھیلائیں جو ہم نے ان کے مختلف لوگوں کو ( عارضی) نفع اٹھانے کے لے دے رکھی ہیں تاکہ ہم ان کو اس سے آزمائش میں ڈالیں۔

اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی امت کو ترک زینت کی ترغیب دی ہے۔ 

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عنقریب مسلمان کا سب سے بہترین مال وہ بکریاں ہوں گی جن کو وہ اپنے دین کی حفاظت کے لیے اپنے ساتھ لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں اربارش کی جگہوں پر چلا جائے گا (صحیح البخاری رقم الحدیث 19، سنن ابوداؤد رقم الحدیث : 4267، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :3980، موطا امام مالک رقم الحدیث : 601 صحیح ابن حبان رقم الحدیث : 5955، مسند احمد رقم الحدیث :11046) 

اسلام میں دین اور دنیا کا امتزاج ہے 

قرآن مجید کی ان آیتوں اور ان احادیث کا یہ منشاء نہیں ہے کہ انسان کو بالکل دنیا ترک کردینی چاہیے اور جنگلوں اور پہاڑوں کی چوٹیوں کی طرف نکل جانا چاہیے کیونکہ بقدر ضروت دنیاداری سے حصہ لینا بھی ضروری ہے حدیث میں ہے : حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دنیا کی چیزوں سے عورتوں اور خوشبوں کی محبت میری طرف ڈالی گئی ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز بنائی گئی ہے۔ (سنن النسائی رقم الحدیث :3949، مسند احمد رقم الحدیث : 12295 طبع جدید دارالفکر)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف عورتوں کی محبت ڈالی گئی ہے یعنی آپ اپنی ذات اور فطرت کے اعتبار سے عورتو‏ں اور خوشبو کی طرف مائل اور راغب نہ تھے آپ کی طرف ان کی محبت ڈالی گئی ہے تاکہ آپ عورتوں سے نکاح کریں اور اپ کی زندگی میں شوہر کا نمونہ ہو اور عورت کے نان ونفقہ کی ادائیگی اور ان کے دیگر حقوق میں آپ کے افعال سنت ہوں اور آپ کی خلوت اور نجی زندگی کے معاملات کو نقل کرنے کے لیے متعدد خواتین ہوں اور امت تک آپ کی گھریلوں زندگی کا نمونہ پہنچے۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فطرت آدمیت اور خلقت انسانیت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ازواج مطہرات کے ساتھ مشغول ہوتے تھے اور اپنے نفیس مزاج کے مطابق خوشبو لگاتے تھے ہرچند کہ آپ کا بدن مبارک خود خوشبودار تھا اور آپ کے پسینہ میں مشک اور عنبر سے بہترین خوشبو تھی تاہم امت کی تعلیم کے لیے آپ خوشبو لگاتے تھے اور آپ کی آنکھیں صرف نماز سے ٹھنڈی ہوتی تھیں جب آپ اپنے مولی سے مناجات کرتے تھے۔

ہم نے اس بحث میں یہ حدیث اس لیے ذکر کی ہے تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین میں رہبانیت نہیں ہے اور نہ حضر عیسیٰ (علیہ السلام) کے دین کی طرح یہ معمول ہے کہ انسان بالکلیہ اعمال صالحہ کی طرف متوجہ ہو اور دنیا درری کو مطلقا ترک کر دے اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت اور اس کے فطری تقاضوں کے مطابق دین اسلام کو مشروع کیا ہے اور اس سے حرج اور مشقت کو ساقط کردیا ہے انسان اپنے طبعی اور شہوانی تقاضوں کوا للہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق پورا کرے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کو سرانجام دے اور دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے انسان اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے کسب معاش کرے اور اللہ کے رزق کو تلاش کرے لیکن ان مہمات میں اللہ کی عبادت اور اس کی یاد سے غافل نہ ہو نہ دنیا کی زیب زینت میں مستغرق ہو کر خدا کو بھول جائے اور نہ جنگلوں اور پہاڑوں کی طرف نکل جائے اور غاروں میں بیٹھ کر عبادت کرے اور اپنی دنیاوی ذمہ داریوں کو یکسر فرا موش کردے۔

عون بن ابی حجیفہ اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سلمان اور حضرت ابوالدرداء نے کہا یہ تم نے اپنا کیا حال بنا رکھا ہے ! انہوں نے کہا تمہارے بھائی ابو الدرداء کو دنیا سے کوئی دلچسپی نہیں ہے بعد میں جب حضرت ابولدرداء آئے تو انہوں نے حضرت سلمان کے لیے کھانا تیار کیا اور ان سے کہا تم کھانا کھاؤ میں تو روزہ دار ہوں ! حضرت سلمان نے کہا میں نہیں کھاؤں گا حتی کہ کہ تم بھی کھانا کھاؤ پھر حضرت ابولدرداء نے کھانا کھایا جب رات ہوئی تو حضرت ابولدرداء نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے حضرت سلمان نے کہا سوجاؤ پس وہ سوگئے کچھ دیر بعد پھر اٹھے تو حضرت سلمان نے کہا سوجاؤ جب رات کا آخری پہر ہوا تو حضرت سلمان نے کہا اب اٹھو، پھر دونوں نے نماز پڑھی تب حضرت سلمان نے کہا تمہارے رب کا تم پر حق ہے اور تمہارے نفس کا بھی پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے سو ہر حق والے کو اس کا حق ادا کرو۔ حضرت ابو لدرداء نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اور اس واقعہ کا ذکر کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سلمان نے سچ کہا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث 1968، سنن التر مذی رقم الحدیث : 2413، مسند ابو یعلی رقم الحدیث 898 صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : 2144، صحیح ابن حبان رقم الحدیث 360، المعجم الکبیر ج 22 رقم الحدیث : 285، حلیتہ الاولیاء ج 1 ص 188، السنن الکبری للبیہقی ج 4 ص 276)

اس موضوع کی زیادہ تفصیل سے جاننے کے لیےآل عمران : 14 کا مطالعہ فرمائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 88