أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقُلۡ اِنِّىۡۤ اَنَا النَّذِيۡرُ الۡمُبِيۡنُ‌ۚ ۞

ترجمہ:

اور آپ کہیں میں علی الاعلان ڈرانے والا ہوں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :، اور آپ کہیں میں ہی علی الاعلان ڈرانے والا ہوں۔ جیسا کہ ہم نے ان پر (عذاب نازل کیا جو اپنی کتاب کو تقسیم کرنے والے تھے۔ (الحجر :89، 90) 

تقسیم کرنے والوں کے مصداق میں متعدد اقوال 

پہلی آیت میں عذاب کا لفظ مقدر ہے یعنی اور آپ کہیں میں علی الا علان عذاب سے ڈرانے والا ہوں۔

اس کی نظیر یہ آیت ہے : پھر اگر وہ روگردانی کریں تو آپ فرمادیں کہ میں تمہیں کڑک ( کے عذاب) سے ڈرایا ہے جیسا عاد اور ثمود پر کڑک کا عذاب آیا تھا۔ (حم السجدہ :13)

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا جیسا کہ ہم نے ان پر عذاب نازل  کیا جو تقسیم کرنے والے تھے۔ وہ تقسیم کرنے والے کون تھے اور کس چیز کو تقسیم کرونے والے تھے اس کے متعلق حسب ذیل اقوال ہیں :

(1) مقاتل اور فراء نے کہا ولید بن مغیرہ نے سولہ آدمیوں کے حج کے ایام میں مکہ کی گھا ٹیوں اور مکہ کے راستوں میں بھیجا وہ ان راستوں سے مکہ کی طرف آنے والوں سے کہتے تھے ہم میں سے ایک شخص ظاہر ہوا ہے جو نبوت کا دعوی کرتا ہے اس کی باتوں سے دھوکا نا کھانا کیونکہ وہ دیوانہ ہے اور کبھی کہتے ہو جادو گر ہے اور کبھی کہتے وہ شاعر ہے اور کبھی کہتے وہ کاہن ہے ان کو مقنتسمین اس لیے فرمایا کہ انہوں نے مکہ کی گھاٹیوں اور راستوں کا آپس میں تقسیم کرلیا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو بدترین موت سے رسوا کیا انہوں نے ولید بن مغیرہ کو مسجد حرام کو دروازہ پر کھڑا کردیا تھا جب باہر سے آنے والے اس سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق پوچھتے توہ کہتا یہ لوگ ٹھیک کہتے ہیں

( 2) قتادہ نے کہا یہ کفار قریش کا ایک گروہ تھا ان لوگوں نے اللہ کتاب کی تقسیم کرلیا تھا بعض اس کو شعر کہتے تھے بعض جادو کہتے تھے بعض کہا نت (جنات کی بتائی ہوئی باتیں) کہتے تھے اور بعض یہ کہتے کہ یہ پچھلے لوگوں کی کہانیوں ہیں۔

(3) حضرت ابن عباس (رض) نے یہ فرمایا یہ اہل کتاب تھے جو بعض کتاب پر ایمان لائے تھے اور بعض کا کفر کرتے تھے۔

(4) عکرمہ نے بھی اسی طرح کہا کہ یہ اہل کتاب تھے ان کو تقسیم کرنے والے اس یے فرمایا کہ یہ کتاب کا مذاق اڑاتے اور کہتے تھے یہ سورت میری ہے اور یہ سورت تمہاری ہے۔

(5) قتادہ کا دوسرا قول یہ ہے کہ اہل کتاب نے اپنی کتاب کو تقسیم کرلیا تھا اس میں تفریق اور تحریف کردی۔

(6) زید بن اسلم نے کہا اس سے حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم مراد ہے انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) پر شب خون مارنے کے لیے قسمیں کھائی تھیں اور مقتسمین سے مراد قسمیں کھانے والے ہیں جیسا کہ اس آیت میں ہے۔ قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهْلَهُ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ ( النمل : ٤٩) انہوں نے کہا سب آپس میں اللہ کی قسم کھا کر عہد کرو کہ ہم ضرور رات کو صالح اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے پھر ہم اس کے وارث سے کہیں گے ان کے قتل کے موقع پر ہم موجود ہی نہ تھے اور بیشک ہم ضرور سچے ہیں 

(7) اخفش نے کہا یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کی قسمیں کھائی تھیں ان لوگوں میں العاص بن دلا ئل عتبہ ربعیہ شیبہ ابو جہل بن ہشام ابو المختری بن ہشام النضربن الحارث امیہ بن خلف اور انضر بن الحجاج تھے ( النکت والعیون ج 3 ص 172 ۔ 171، دارا لکتب العلمیہ بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 89