أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَـقَدۡ اٰتَيۡنٰكَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَـثَانِىۡ وَالۡـقُرۡاٰنَ الۡعَظِيۡمَ ۞

ترجمہ:

اور بیشک ہم نے آپ کو سات آیتیں دیں جو دو بار پڑھی جاتی ہیں اور قرآن عظیم دیا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اور بیشک ہم نے آپ کو سات آیتیں دیں جو دوبارہ پڑھی جاتی ہیں اور قرآن عظیم دیا۔ الحجر : 87) 

ربط آیات اور سبب نزول 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کی زیادتیوں پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صبر کرنے کا حکم دیا تھا اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے کیونکہ انسان جب یہ یاد کرے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ نعمتیں ہیں تو اس کے لیے سختیوں اور مصبتوں کو برداشت کرنا آسان ہوجا تا ہے۔

اس آیت کے نزول کا یہ سبب بیان کیا گیا ہے بنو قریظہ اور بنو نضیر کے لیے سامان سے لدے ہوئے سات قافلے آئے جن میں انواع و اقسام کے کپرے خوشبو اور جواہر تھے مسلمانوں کو اس کی خبر ہوئی تو انہوں نے کہا اگر یہ اموال ہمارے پاس آتے تو ہم ان سے تقویت حاسل کرتے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے تب اللہ تعا نے یہ آیات نازل فرمائیں کہ میں نے تم پر جو سات آیتیں نازل فرمائی ہیں وہ ان سات قافلوں سے بہتر ہیں اور اس کی صحت پر اس کے بعد والی آیت دلالت کرتی ہے اور آپ اس متاع (دنیاوی) کی طرف رشک سے نہ دیکھیں جو ہم نے کافروں کیے کئی گروہوں کو دیا ہے (الآیہ۔ ) اسباب النزل للواحد رقم الحدیث :556، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

السبع المثانی کی تفسیر میں متعدد اقوال 

اس آیت میں فرمایا ہے ہم نے آپ کو سبعامن المشانی عطا کی ہیں سبع معنی سات اور مثانی مثن کی جمع ہے جس کا معنی ہے دو دو سات چیزیں سات آتیں بھی ہوسکتی ہیں سات سورتیں بھی ہوسکتی ہیں اور سات فوائد بھی ہوسکتے ہیں اور اس ایت میں کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جو کسی ایک معنی کی تعبین پر دلالت کرے اس لیے ان میں سے ہر معنی کی طرف مفسرین گئے ہیں اور اس سلسلہ میں پانچ قول ہیں۔

(1) حضرت عمر بن الخطاب، حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت ابن مسعود سے ایک روایت اور حضرت ابن عباس سے اکثرین کی روایت اور حضرت ابوہریرہ (رض) اور تابعین میں سے حسن سعید بن جبر سے ایک روایت مجاہد سے ایک روایت اور حضرت ابوہریرہ (رض) اور تابعین میں سے حسن سیعد بن جبیر سے ایک روایت مجاہد سے ایک روایت عطا اور قتادہ وغیر ہم کا قول یہ ہے کہ اس سے مراد سورة فاتحہ ہے اس کو سبع اس لیے فرمایا ہے کہ اس میں سات آیات ہیں اور اس کو مثانی اس لیے فرمایا ہے کہ اس کو ہر نماز میں دوبارہ پڑھا جاتا ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ اس کا ایک نصف اللہ کے لیے ہے اور ایک نصف بندہ کے لیے ہے پہلے نصف میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء ہے اور دوسرے نصف تقسیم کردی بندے کی دعا ہے اور حدیث میں ہے کہ صلوہ یعنی سورة فاتحہ میرے اور میرے بندے کو درمیان نصف نصف تقسیم کردی گئی ہے (صحیح مسلم رقم الحدیث : 395) اور تیسری وجہ یہ ہے کہ یہ سورت دو مرتبہ نازل ہوئی ہے۔

السبع المثانی سے مراد سورة فاتحہ ہے اس پر قوی دلیل حسب ذیل احادیث ہیں 

(2) حضرت ابو سعید بن معلی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلایا میں نے جواب نہیں دیا پھر میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ میں نماز پڑھ رہا تھا آپ نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نہیں فرمایا :

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ الانفال : ٢٤) اللہ اور رسول تمہیں جب ملائیں تو حاضر ہوجا ؤ 

پھر فرمایا میں تم کو مسجد سے جانے سے پہلے ایک سورت کی تعلیم دو گا جو قرآن مجید کی سب سے عظیم سورت ہے پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑ اور جب مسجد سے نکلنے لگے تو میں نے کہا کیا آپ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ میں مسجد سے جانے سے پہلے تم کو قرآن مجید کی سب سے عظیم سورت کی تعلیم دوں گا فرمایا الحمد اللہ رب العلمین یہ السبع المثانی ہے اور یہ وہ قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : 4474)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا الحمدہ للہ ( سورة فاتحہ ام لقرآن ہے اما لقرآن ہے ام لکتاب اور السبع المثانی ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ( سنن الترمذی رقم الحدیث :3164، ، مسند احمد ج 2 ص 448، سنن الدارمی رقم الحدیث :3377، سنن ابوداؤد رقم الحدیث : 1457 سنن الکبری للبیہقی ج 2 ص 377، شرح السنہ رقم الحدیث : 1187)

(2) حضرت ابن مسعود دوسری روایت) حضرت ابن عباس (دوسری روایت) حضرت ابن عباس دوسری روایت) سعید بن جبیر (دوسری روایت) مجاہد (دوسری روایت) نے کہا السبع المثانی سے مراد السبع الطوال (سات لمبی سورتیں ہیں او وہ یہ ہیں البقرہ، آل عمران۔ ، النساء، المائد، الا نعام الاعرف اور ساتویں سورت کے متعلق تین قوم ہیں سعید بن جبر نے کہا وہ سورة یونس ہے ابو مالک نے کہا وہالبراء ہ (التوبہ) ہے سفیان نے کہا وہ الا نفال اور البراء کا مجموعہ ہے اس قول کی بنا پر ان سات سورتوں کو المثانی اس لیے فرمایا ہے کہ ان سورتوں میں حدود فرائض اور امثال کو دہرا یا گیا ہے یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے اور ماوردی نے کہا ہے ان کو مثانی اس لیے فرمایا ہے کہ ان سورتوں میں آیتوں کی تعداد ایک سو سے دوسرے کی طرف متجاوز ہے۔ 

(3) زیاد بن ابی مریم نے کہا السبع المشانی سے مراد وہ سات معانی ہیں جو قرآن مجید میں نازل کیے گئے ہیں اور وہ سات معنی یہ ہیں امر، نہی، بشارت، انذار، ، مثالوں کا بیان، نعمتوں کا شمار کرنا سابقہ امتوں کی خبر دینا۔ 

(4) طاؤس، ضحاک اور ابو مالک نے کہا ہے، ، مثانی سے مراد پورا قرآن ہے ابو عبیدہ نے کہا ہے چونکہ بعض آتییں بعض دوسری آیتوں کے بعد تلاوت کی جاتی ہیں اور ایک آیت کے بعد دوسری آیت منفصل ہوتی ہے قرآن مجید کو المثانی اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں اللہ عزوجل کی ثناء ہے اور ابن الا نبار نے ذکر کیا ہے کہ قرآن مجید کو المثانی اس لیے فرمایا ہے کہ اس میں قصص اخبار، نواعظ اور آداب کو دہرا یا گیا ہے۔ 

(5) ابن قتیبہ نے کہا قرآن مجید کی تمام سورتیں خواہ چھوٹی ہوں یا بڑی وہ مثانی ہیں کیونکہ ان سورتوں میں خبریں اور قصے دہرائے گئے ہیں (زادالمیسیر ج 4 ص 415 ۔ 413، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت 1407 ھ) 

اس اعتراض کا جواب کہ عظف کی بنا پر سورة فاتحہ قرآن عظیم کی مغائر ہے 

اس آیت میں فرمایا ہے ہم نے آپ کو السبع المشانی اور قرآن عظیم عطا کیا ہے اور السبع المثانی سے مراد سورة فاتحہ ہے تو اس کا معنی ہے سورة فاتحہ قرآن عظیم ہے جو ہم نے آپ کو عطا کی ہے۔ اس جگہ پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ عربی قواعد کے مطابق واد عاطفہ تغایر کا تقاضا کرتی ہے تو اس کا معنی یہ ہوا کہ سورة فاتحہ اور چیز اور قرآن عظیم اور چیز ہے اس کا جواب یہ ہے کہ سورة فاتحہ قرآن عظیم کا جز ہے اور جز کل کا من وجہ غیر ہوتا ہے اور اتنی مغائرت عظف کی صحت کے لیے کافی ہے

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 87