أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَـقَدۡ كَذَّبَ اَصۡحٰبُ الۡحِجۡرِ الۡمُرۡسَلِيۡنَۙ‏ ۞

ترجمہ:

اور بیشک وادی حجر کے رہنے والوں نے رسولوں کی تکذیب کی۔

تفسیر:

الحجر کا معنی اور مصداق 

امام خلیل بن احمد فراہیدی متوفی 175 ھ لکھتے ہیں :

حجر کا معنی حرام ہے زمانہ جاہلیت میں ایک شخص دوسرے حرمت والے مہینوں میں ملتا ہے تو کہتا حجرا محجورا یعنی اس مہینہ میں تم سے لڑائی حرام ہے تو وہ اس سے لڑائی کی ابتدا نہیں کرت گا۔ ( کتاب العین ج 1 ص 348 مطبوعہ ایران 1414 ھ)

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی 502 ھ لکھتے ہیں :

حجر کا معنی منع کرنا ہے عقل کو بھی اس لیے حجر کہتے ہیں کہ وہ غلط کاموں اور خواہشات نفسانیہ سے منع کرتے ہے قرآن مجید میں ہے :

هَلْ فِي ذَلِكَ قَسَمٌ لِذِي حِجْرٍ ( الفجر : ٥) بیشک اس میں عقل والے کے لیے بہت بڑی قسم ہے

وَقَالُوا هَذِهِ أَنْعَامٌ وَحَرْثٌ حِجْرٌ ( الا نعام : ١٣٨) اور مشرکین نے کہا یہ مویشی اور کھیت ممنوع ہیں۔ 

اور جس گھر کا پتھر سے احاطہ کیا جائے اس کے بھی الحجر کہتے ہیں جیسا کہ سورة الحجر کہتے ہیں جیسا کہ سورة الحجر میں ہے اور بیشک وادی حجر کے رہنے والوں نے رسولوں کی تکذیب کی (الحجر :80)

ثمود کی آبادیاں پتھروں کو تراش کر بنائی گئی تھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تبوک جاتے ہوئے اس شہر سے گزرے تھے،

قتادہ نے کہا یہ مکہ اور تبوک کے درمیان ایک وادی ہے جس میں ثمود رہاکر تے تھے طبری نے کہا یہ حجاز اور شام کے درمیان کی سرزمین ہے اس میں صالح (علیہ السلام) کی قوم آباد تھی، (الجامع الاحکام القرآن جز 10 ص مطبوعہ دارالفکر بیروت 1415 ھ) 

وادی حجر کے متعلق احادیث 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اصحاب الحجر کے متعلق فرمایا اس قوم کے پاس سے سوائے روتے ہوئے نہ گزرنا تم رو نہ سکو تو پھر ان کے پاس سے بہ گزرنا ورنہ تم پر بھی ویسا عذاب نازل ہوگا جیسا کہ ان پر نازل ہو اتھا ( صحیح البخاری رقم الحدیث :4702، صحیح مسلم رقم الحدیث : 2980)

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وادی حجر میں ٹھہرے ہوئے گے تو آپ نے فرمایا یہ حضرت صالح کی وہ قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کردیا تھا سوا اس شخص کے جو اللہ تعالیٰ کے حرم میں تھا اللہ کے حرم نے اس کو عذاب سے بچالیا پوچھا یا رسول اللہ ! وہ شخص کون تھا ؟ آپ نے فرمایا ابورغال ( جامع البیان رقم الحدیث : 16082)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وادی حجر میں ٹھہرے جو قوم ثمود کی سر زمین ہے مسلمانوں نے اس کنوئیں سے پانی پیا اور اس کنوئیں کے پانی سے آٹا گوندھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو یہ حکم دیا کہ انہوں نے کنوئیں سے جو پانی نکالا ہے اس کو انڈیل دیں اور گندھا ہو آٹا اونٹوں کو کھلادیں اور ان کو یہ حکم دیا کہ اس کنویں سے پانی جس کنوئیں پر اونٹنی آیا کرتی تھی۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : 3379، صحیح مسلم رقم الحدیث : 2981) 

وادی حجر کی احادیث کے احکام 

آپ نے گندھے ہوئے آٹے کے متعلق یہ حکم دیا کہ وہ اونٹوں کھلا دیا جائے کیونکہ اونٹ مکلف نہیں ہیں اسی طرح اگر نجس پانی سے آٹا گوندھ لیا جائے تو اس کا بھی یہی حکم ہے جنگ خبیر کے دن مسلمانوں نے پالتو گدھے کا گوشت پکایاہو اتھا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دن پالتو گدھوں کے گوشت کو حرام قرار دیا اور دیگچیوں میں جو سالن پک رہا تھا اس کے متعلق فرمایا اس کے پھینکنے کا حکم نہیں دیا بلکہ فرمایا یہ اونٹوں کو کھلا دو ۔

علامہ قر طبی نے فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ پالتو گدھوں کی تحریم ثمود کے کنویں کے پانی کی تحریم سے زیادہ ہے ( الجامع لاحکام القرآن ج 10 ص 43 ۔ 42)

میں کہتا ہوں کہ اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ گندھا ہو آٹا اونٹوں اور دیگر مویشیوں مثلا بکریوں کو کھلا یا جاسکتا ہے بخلاف گوشت کے اس کے صرف درندے اور کتے وغیرہ کھاسکتے ہیں اور ہوسکتا ہے اس وقت وہاں یہ جانور نہ ہوں اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ رزق اور مال کو حتی الامکان ضائع نہیں کرنا چاہیے نیز آپ نے فرمایا کہ جس کنوئیں پر اونٹنی آیا کرتی تھی اس سے پانی نکالو اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء (علیہم السلام) اور صالحین کے آثار سے تبرک حاصل کرنا چاہیے خواہ اس پر صدیا گزر چکی ہوں۔

وادی حجر اور دیگر ممنوعہ جگہوں میں نماز پڑھنے کے متعلق فقہاء کی آراء 

قاضی ابوبکر ابن العربی متوفی 543 ھ نے کہا ہے کہ وادی حجر میں نماز پڑھنے بھی جائز نہیں ہے کیونکہ وہ وہ جگہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کا عذاب نازل ہو اتھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا بغیر روئے اس جگہ سے نہ گزرو روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا بغیر روئے اس جگہ سے نہ گزروروایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چادر اوڑھی اور انٹنی کو تیز بھگا کر اس وادی سے نکل گئے تھے او وہ جو حدیث میں ہے میرے لیے تمام روئے زمین کو مسجد اور آلہ طہارت ( تیمم کا آلہ) بنادیا گیا ہے (صحیح البخاری رقم الحدیث : 335)

وادی حجر کی زمین کا یہ ٹکڑا روئے زمین کے عموم سے مستثنی ہیں کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہاں نمازیں پڑھی ہیں۔ ) (سنن الترمذی رقم الحدیث : 317، سنن ابوداؤد رقم احدیث 492، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :745، سنن دارمی رقم الحدیث : 1397، مسند احمد ج 3 ص 83، مسند ابویعلی رقم الحدیث، 1350، صحیح ابن حبان رقم الحدیث 1699، المستدرک ج 1 ص 251 سنن کبری للبیہقی ج 1 ص 435، شرح السنہ رقم الحدیث 406)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سات جگہوں پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا

(1) جس جگہ جانوروں کی لید ڈالی جائے)

(2) جس جگہ جانور ذبح کیے جائیں ( کمیلا، بوچڑخانہ)

(3) قبرستان

(4) عام گزرگاہ سڑک

(5) حمام

(6) پانی کے پاس اونٹوں کے بٹھا نے کی جگہ

(7) بیت اللہ کی چھت۔

(سنن الترمذی رقم الحدیث 346، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 746 سنن کبری للبہیقی ج 2 ص 229، کامل ابن عدی ج 3 ص 1059 کتاب الضعفاء ج 2 ص 71)

قاضی ابن العربی مالکی فرماتے ہیں وادی “” حجر کو ان سات کے ساتھ ملا لیاجائے تو یہ آٹھ جگہیں ہوئیں اور ہمارے علماء نے ان سات آٹھ اور جگہوں کا اضافہ کیا ہے۔

(1) نجس زمین کا ٹکڑا

(2) غصب کی ہوئی زمین

(3) جب نمازی کے سامنے نجس دیوار ہو

(4) عیسائیوں کا گرجا

(5) یہودیوں کا معبد

(6) جس گھروں میں مجسم صورتیں ہوں

(7) اونچی نیچی زمین

(8) جس جگہ نمازی کے سامنے کوئی شخص سویا ہوا ہو یا کوئی شخص نمازی کی طرف منہ کرکے بیٹھا ہوا ہو

یہ کل ملاکر سولہ جگہیں میں جہاں نماز پڑھنا جائز نہیں۔

اور ان ممنوعہ جگہوں میں سے وہ جگہ بھی ہے جس جگہ میں کسی دوسرے شخص کا حق ہو اور جس جگہ کوئی نجاست موجود ہو یا جہاں کسی نجاست کا غلبہ ہو اور اجس جگہ کسی عبارت کی وجہ سے منع کیا گیا ہو کسی نجاست کی وجہ سے نماز پڑھنا منع ہے وہاں اگر کوئی پاک کپڑا بچھاکر نماز بڑھ لی جائے تو نماز جائز ہے جیسے مقبرہ اور حمام میں المدونہ میں اس کو جائز قرار دیا گیا ہے اور ہمارے علماء نے نجاست کی وجہ سے نئے اور پرانے قبرستان میں فرق میں فرق کیا ہے اور جب قبر ستان میں نجاست کی وجہ سے نماز پڑھنا ممکن ہے تو مشرکین کے قبرستان میں یہ ممانت اور موکد ہوجاتی ہے اور اس لیے بھی کہ وہ وادی حجر کی طرح عذاب کا محل ہے نیز یہ احادیث بھی ہیں :

حضرت ابو مرثد الغنوی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ قبروں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو۔ صحیح مسلم رقم الحدیث : 972 سنن ابوداؤد رقم الحدیث 3229، سنن الترمذی رقم الحدیث :1050، سنن النسائی رقم الحدیث :760)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس مرض میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وصال ہوگیا تھا اس میں آپ نے فرمایا اللہ یہود اور نصاری پر لعنت کرے جنہوں نے انبیاء (علیہم السلام) کی قبروں کو مساجد بنادیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :1330، صحیح مسلم رقم الحدیث 529، سنن ابوداؤد رقم الحدیث : 3227)

امام مالک نے المجموعتہ میں کہا ہے کہ اونٹوں کے باڑے میں کپڑا بچھاکر بھی نماز نہ پڑھے اس کی گو یا دو وجہیں ہیں ایک نجاست اور دوسرے اونٹوں کے حملہ کا خوف اور اگر وہاں ایک اونٹ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں جیسا کہ حدیث صحیح میں ہے کہ اس صورت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امام مالک نے کہا ہے کہ جس کپڑے پر تصویر چھپی ہوں اس پر بغیر ضرورت کے نماز نہ پڑھے اور امام مالک کے نزدیک غضب شدہ گھر میں نماز جائز نہیں ہے قاضی ابن العر بی کہتے ہیں اگر غضب شدہ زمین پر مسجد بنالی ہے تو اس میں نماز جائز ہوگی ( احکام القرآن ج 3 ص 111 ۔ 109، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت 1408 ھ)

علامہ ابو عبد اللہ قر طبی مالکی کا مختیار یہ ہے کہ ہر پاک جگہ پر نماز پڑھنا جائز ہے اور جن احایث میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سات جگہوں پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور قبر ستان اور حمام میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور ایسی دیگر تمام احادیث اس حدیث سے منسوخ ہیں جس میں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میرے یے تمام روئے زمین کو مسجد بنادیا ہے۔ الجامع لاحکام القرآن جز 10 ص 45 ۔ 44، مطبوعہ دارالفکر بیروت 1415 ھ)

ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ اس میں اختلاف ہے کہ ان جگہوں پر نماز پر ھنے کی ممانت تنزیہی ہے یاتحریمی ہے (مرقات ج 2 ص 218)

بہر حال اگر نمازی پاک جگہ پر نماز پڑھی ہے تو اس سے نماز کی فرضیت ادا ہوجائے گی۔ لیکن اگر غصب شدہ زمین میں نماز پڑھے گا یا قبر یا کسی مجسمہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھے گا تو اس کا یہ فعل مکروہ تحریمی ہے اور گناہ کا موجب ہے اور اگر اونٹو کے باڑہ میں نماز پڑھی جہاں یاک سے زائد اونٹ ہوں یا سڑک پر نماز پر ھی یا حمام یا قبر ستان میں کپڑا بچھا کر نماز پر ھی یا بوجڑ خانہ میں کپڑا بچھاکر نماز پڑھی تو یہ مکروہ تنزیہی ہے بیت اللہ کی چھت پر بھی نماز مکروہ تنزیہی ہے اور وادی حجر میں بھی نماز مکروہ تحریمی ہونی چاہیے کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وادی میں نہیں ٹھہرے اور وہاں سے جلدی گزرگئے اور اس جگہ سے بغیر روئے گزرنے میں آپ کو نزول عذاب کا خطرہ تھا۔ 

ایک رسول کی تکذیب تمام رسولوں کی تکذیب ہے 

اس آیت میں فرمایا ہے اور بیشک وادی حجر کے رہنے والوں نے رسولوں کی تکذیب کی اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ وادی حجر کے رہنے والوں نے تو صرف حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی تمام رسولوں کی تکذیب تو نہیں کی تھی اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) جو پیغام لائے تھے اور جس دین کو انہوں نے پیش کیا تھا تمام رسول وہی پیغام لائے تھے اور سب نے اسی دین کو پیش کیا تھا اس لیے حضرت صالح (علیہ السلام) کا انکار کرنا گویا کہ تمام رسولوں کا انکار کرنا تھا اس لیے اگرچہ انہوں نے صرف حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا اصحاب الحجر نے رسولوں کی تکذیب کی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 80