أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَـقَدۡ نَـعۡلَمُ اَنَّكَ يَضِيۡقُ صَدۡرُكَ بِمَا يَقُوۡلُوۡنَۙ‏ ۞

ترجمہ:

اور بیشک ہم خوب جانتے ہیں کہ ان کی باتوں سے آپ کا دل تنگ ہوتا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک ہم خوب جانتے ہیں کہ ان کی باتوں سے آپ کا دل تنگ ہوتا ہےسو آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجئے اور سجدہ کرنےوالوں میں سے رہیے اور اپنے رب کی عبادت کتے رہیے حتی کہ آپ کے پاس پیغام اجل آجائے الحجر 97-99

نماز پڑھنے سے رنج اور پریشانی کا زائل ہونا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ہمیں علم ہے کہ ان مذاق اڑانے والوں کی باتوں نسے آپ کا دل تنگ ہوتا ہے سو  آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح  کیجئے اور سجدہ کیجئے اور تاحیات اپنے رب کی عبادت کیجئے۔

اس سے معلوم ہوا جب انسان کا دل رنجیدہ اور پریشان ہو یا اس پر گھبراہٹ طاری ہو تو اس کو نماز پر ھنے چاہیے کیونکہ نماز حمد تسبیح اور عبادت سب کی جامع ہے۔

حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پریشانی طاری ہوتی تو آپ نماز پڑھتے تھے۔ (سنن ابوداؤد رقم الحدیث : 1319، مسند احمد ج 5 ص 388) 

باقی رہا یہ کہ نماز پڑھنے اسے انسان کی گبھراہٹ اور پریشانی کس طرح زائل ہوجاتی ہے اس کی حسب ذیل وجوہات ہیں 

(1) جب انسان عبادت میں مستغرق ہوجاتا ہے تو اس کی توجہ دنیا کے معلا ملات سے بالکل زائل ہوجاتی ہے اور اس کا ذہن اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کی تجلیات سے روشن ہوجا تا ہے اور جس پر یہ کیفیت طاری ہو اس کے دل سے گھبراہٹ اور پریشانی زائل ہوجاتی ہے

(2) جب انسان تسبیحات پڑھتا ہے اور اس کے دل میں یہ اعتقاد جاگزیں ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تما عیوب اور قبائح سے منزہ ہے تو اس پر مشقت کا بردازشت کرنا آسان ہوجا تا ہے اور اس کا دل خوش اور مطمئن ہوجاتا ہے

(3) جب انسان پر پریشانی آئے تو وہ نماز میں پناہ لیتا ہے اور زبان حال سے یہ کہتا ہے خواہ میں کسی حال میں ہوں مجھ پر تیری عبادت واجب ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر کرم فرماتا ہے اور اس کی پریشانی زائل فرما دیتا ہے۔ 

یقین کا لغوی اور اصطلاحی معنی 

امام خلیل بن احمد فراہیدی متوفی 175 ھ لکھتے ہیں : یقین کا معنی ہے شک کا زائل ہوجانا (کتاب العین ج 3 ص 1999، مطبوعہ ایران 1414 ھ)

علامہ میر سید شریف علی بن محمد الجرجانی المتوفی 816 ھ لکھتے ہیں :

لغت میں یقین کا معنی ہے وہ علم جس میں شک نہ ہو اور اصطلاح میں یقین کا معنی ہے کسی شے کا اعتقاد کہ وہ اس طرح ہے اور اس کے ساتھ یہ اعتقاد ہو کہ اس کے سوا اس کا ہونا ممکن نہیں ہے اور وہ اعتقاد واقع کے مطابق ہو اور غیر ممکن الزوال ہو پہلی قید میں ظن بھی داخل ہے اور چوتھی قید سے مقلد مصیب کا اعقاد خارج ہوگیا اور اہل حقیقت کے نزدیک یقین کی تعریف ہے کسی چیز کا بغیر حجت اور برہان کے قوت ایمان سے مشاہدہ کرنا اور ایک قول ہے کسی چیز کی حقیقت پر دل کا مطمئن ہونا۔ (میر سید نے اور بھی اقوال ذکر کیے ہیں) (التعریفات ص 179، مطبوعہ دارالفکر بیروت)

یقین کی اصطلاحی تعریف زیادہ جامع مانع اور واضع اس طرح ہے ادراک جازم ثابت مطابق للواقع ادراک جنس ہے اور اس میں تمام تصورات مثلا تخییل، تکذیب شک، اور وہم داخل ہیں (ذہن میں نسبت خبر یہ آئے اور ذہن اس کی طرف متوجہ نہ ہو تو وہ تخییل ہے ذہن متوجہ ہو ارحالت انکاری پیدا ہو تو تکذیب ہے اگر نفی اور ثبات کی دونوں جانیں برابر ہوں تو شک ہے اور اگر ایک نسبت راجح اور دوسری مرجوح ہو تو مرجوح جانب وہم ہے اور راجح جانب ظن ہے) جازم کی قید سے تمام تصورات اور ظن خارج ہوگئے اور ثابت کی قید سے تقلید مخطی اور تقلید مصیب خارج ہوگئے اور مطابق للواقع کی قید سے جہل مرکب خارج ہوگیا ( جہل مرکب کی تعریف یہ ہے کہ انسان کو کسی چیز کا علم نہ ہو اور وہ یہ سمجھے کہ اسے اس کا علم ہے) ۔

قاضی بن عمر بیضاوی متوفی 685 ھ لکھتے ہیں :

اس آیت میں یقین کا معنی موت کیونکہ موت یک یقینی امر ہے جو ہر زندہ مخلوق لا حق ہونا ہے اور اس آیت کا معنی ہے جب تک آپ زندہ ہیں اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں اور ایک لحظہ کے لیے بھی عبادت سے غافل نہ ہوں۔ (تفسیر البضاوی مع حاشیتہ الخفا جی ج 5 ص 544 ۔ 543، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت 1417 ھ) 

احادیث میں یقین پر موت کا اطلاق 

احادیث میں بھی موت پر یقین کا اطلاق کیا گیا ہے : جبیر بن نفیل ابو مسلم خولانی سے مراسلا روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے اللہ نے مال جمع کرنے کا حکم دیا ہے اور نہ یہ حکم دیا ہے کہ میں تاجر میں سے ہوں لیکن اس نے مجھے نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے اور اس نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں سجدہ کرنے والوں میں سے ہوں اور میں اپنے رب کی عبادت کرتا رہوں حتی کہ میرے پاس یقین پیغام اجل آجائے (حلیتہ الاولیاء ج 2 ص 131 مطبوعہ دارا لکتاب العربی۔ 1407 ھ)

حضرت ام العلاء (رض) ایک انصاری خاتون تھیں انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیعت کی تھی وہ بیان کرتی ہیں کہ مہاجرین کو گھر روں میں رکھنے کے متعلق قر عہ اندازی ہوئی حضرت عثمان بن مظعون (رض) کا قرعہ ہمارے نام نکلا ہم نے ان کو اپنے گھر میں ٹھہرایا ان کے جسم میں درد ہوا اس میں وہ فوت ہوگئے جب وہ فوت ہوگئے تو ان کو غسل دیا گیا اور ان کے کپڑوں میں کفن دیا گیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو میں نے حضرت عثمان بن مظعن سے) کہا تم پر اللہ کی رحمت ہو اے ابو السائب میں تمہارے متعلق شہادت دیتے ہوں کہ اللہ نے تمہیں عزت دی ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اس کو اللہ نے عزت دی ہے ؟ میں نے کہا یارسول اللہ آپ پر میرے باپ فدا ہوں پھر اللہ اور کس کو عزت دے گا ؟ آپ نے فرمایا ارے وہ تو ان کے پاس یقین پیغام اجل آچکا ہے اور اللہ کی قسم میں ان کے متعلق خیر کی امید رکھتا ہوں اور اللہ کی قسم میں از خود اپنی عقل سے نہیں جانتا حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا حضرت ام العلاء نے کہا اللہ کی قسم اس کے بعد میں نے کسی کی پاکیزگی بیان نہیں کی (صحیح البخاری رقم الحدیث : 1443 مسند احمد رقم الحدیث : 28004 عالم الکتب بیروت)

ان دونوں حدیثوں میں موت پر یقین کا اطلاق کیا گیا ہے۔ 

حضرت ام العلاء الانصاریہ کی روایت سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم پر ایک اشکال 

ہم نے صحیح بخاری کے حوالے سے حضرت ام العلاء انصاریہ کی یہ روایت اس لیے نقل کی ہے کہ اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یقن اطلاق موت پر کیا ہے لیکن اسی حدیث سے بعض لوگ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علوم کی نفی پر استدلال کرتے ہیں چناچہ شیخ اسماعیل دیلوی متوفی 1246 ھ لکھتے ہیں :

یعنی جو کچھ کہ اللہ اپنے بندوں سے معاملہ کرے گا کسی کو معلوم نہیں خواہ دنیا میں خواہ قبر میں خواہ آخرت میں سو اس کی حقیقت کسی کو معلوم نہیں نہ نبی کو نہ ولی کو نہ اپنا حال نہ دوسرے کا اور اگر کچھ بات اللہ نے کسی اپنے مقبول بندے کو وحی یالہام سے بتائی کہ فلا نے کام کا انجام بخیر ہے یا برا سو وہ بات مجمل ہے اور اس سے زیادہ معلوم کرلینا اور اس کی تفصیل دریافت کرنی ان کے اختیار سے باہر ہے (تقویت الایمان کلاں ص 18 مطبع علیمہ لاہور)

شیخ خلیل احمد انبیٹھوی متوفی 1346 ھ نے بھی اس حدیث سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علوم کی نفی پر استدلال کیا ہے وہ لکھتے ہیں خود فخر عالم (علیہ السلام) فرماتے ہیں : ( براہین قاطعہ ص 51)

روایت کے معنی کی تحقیقی اور اشکال کا جواب

اس حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ نہیں فرمایا : لا اعلم مایفعل بی بکہ لادری مایفعل بی فرمایا ہے اسی طرح قرآن مجید میں بھی ومادری ہے وہ آیت یہ ہے :

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِنَ الرُّسُلِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلا بِكُمْ ( الا حقاف : ٩) آپ کہئے کہ میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا نہیں ہوں اور میں (ازخود اپنی عقل سے) نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا ہوگا اور تمہارے ساتھ کیا ہوگا۔ 

علم اور درایت میں فرق ہے علم عام ہے خواہ وحی سے ہو یا کسی اور سبب سے ہو جیسے انبیاء (علیہم السلام) اور تمام لوگوں کا علم ہے یا بغیر کسی سبب کے ہو جیسے اللہ تعالیٰ کا علم ہے اور درایت خاص ہے درایت کا معنی ہے اپنی عقل اور قیاس سے یا کسی حیلہ اور کسی تر کیب سے کسی چیز کا جاننا اس لیے اللہ تعالیٰ کے علم کو درایت سے موصوف نہیں کرتے ،۔

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی 502 ھ لکتے ہیں :

کسی قسم کا حیلہ اور ترکیب سے جو معرفت حاصل کی جائے اس کو درایت کہتے ہیں۔ المفرادات ج 1 ص 224 مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ بیروت : 1418 ھ)

علامہ مجدالدین محمد یعقوب فیر وز آبادی متوفی 817 ھ لکھتے ہیں : میں نے اس کو جان لیا یا حیلہ کی کسی قسم سے جان لیا۔ (القاموس المحیط ج 4 ص 474 ۔ 473، داراحیاء التراث العربی بیروت 1412 ھ)

علامہ محمد مرتضی حسینی زبیدی متوفی 1205 ھ لکھتے ہیں : علامہ فیروز آبادی نے درایت کے معنی میں علم کا بھی ذکر کیا ہے اس وجہ سے ہمارے شیخ نے کہا علم اور درایت معمتد ہیں اور دوسروں نے کہا ہے کہ درایت علم سے خاص ہے جیسا کہ تو شیخ وغیرہ میں ہے اور کسی حیلہ سے کسی چیز کو جاننا درایت ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے علم پر درایت کا اطلاق نہیں ہوتا (تاج العوس ج 10 ص 126، مطبوعہ دارا حیاء التراث لعربی بیروت)

مفسرین اور محدثین نے بھی یہ تصریح کی ہے کہ درایت کا معنی کسی چیز کو حیلہ اور ترکیب سے جاننا ہے۔ علامہ بدرالدین محمود بن احمد متوفی لکھتے ہیں : درایت خاص ہے کیونکہ وہ کسی چیز کو حیلہ سے جاننا ہے۔ ( عمدہ القاری جز 7 س 61 مطبوعہ ادارہ ت الطباعتہ المنیر 1348 ھ)

علامہ نظام الدین حسن بن محمد قمی نیشاپوری متوفی 728 ھ لکھتے ہیں : جار اللہ نے کہا ہے علم اللہ کے لیے استعمال کیا گیا ہے اور درایت بندہ کے لیے کیونکہ حیلہ کے ساتھ علم کو درایت کہتے ہیں (غرائب القرآن درغائب الفرقان ج 5 ص 432 مطبوعہ دار لکتب العلمیہ بیروت 1416 ھ)

علامہ نیشاپوری نے علامہ جار اللہ زححشری کی جس عبادت کا ذکر کیا ہے اس کا حوالہ یہ ہے (لکثاف ج 3 ص 512، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1417 ھ)

علامہ شہاب الدین احمد بن محمد خفاجی متوفی 1069 ھ لکھتے ہیں :

قاضی بیضاوی نے کہا ہے کہ علم کو اللہ کے لیے استعمال کیا گیا ہے اور ردایت کو بندہ کے لیے کیونکہ درایت میں حیلہ کا معنی ہے اس کی شرح میں علامہ خفاجی لکھتے ہیں دری اصل میں اس حلقہ کو کہتے ہیں جس پر تیر مار نے کا شکاری قصد کرتے ہیں اور شکاری نشانہ لگانے کے لیے جو شکار سے چھپتا ہے اس کو کہتے ہیں اور یہ دونوں کام حیلے سے ہوتے ہیں اسی لیے درایت علم سے خاص ہے کیونکہ حیلہ اور تکلف سے حاصل شدہ علم کو درایت کہتے ہیں اس وجہ سے اللہ کے علم کو درایت نہیں کہتے (حاشیہ الثہاب ج 7 ص 435، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت 1417 ھ)

علامہ محمد بن یوسف ابو الحیان اندلسی متوفی 754 ھ لکھتے ہیں : علم کی نسبت اللہ کی طرف کرتے ہیں اور ردرایت کی بندہ کی طرف کیونکہ درایت میں حیلہ کا دخل ہے اسی لیے اللہ کو درایت کے ساتھ موصوف نہیں کرتے (البحر المحیط ج 8 ص 425، مطبوعہ دارالفکر بیروت 1412 ھ)

کتب لغت کی نصوص اور مفسرین اور محدثین کی تصریحات سے یہ واضح ہوگیا کہ درایت کا معنی مطلق علم نہیں ہے بلکہ خ اس علم ہے یعنی حیلہ ترکیب اور قیاس سے کسی چیز کو جاننا اور اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں اپنی عقل سے اور بغیر وحی کے نہیں جانتا کہ میرے ساتھ قبر اور آخرت میں کیا ہوگا میں جو چھ جانتا ہوں وحی سے جانتا ہوں اور اس قول سے آپ نے حضرت ام لعلاء کو یہ تنبیہہ فرمائی ہے کہ تم پر تو وحی نازل نہیں ہوتی پھر تم پر حضرت عثمان بن مظعون پر اللہ تعالیٰ کی تکریم کا حال کیسے منکشف ہوگیا، اور اب ہم قرآن مجید کی آیات اور احادیث سے یہ بتائیں گے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ کی وحی سے معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی ساتھ آخرت میں کیا کرے گا اور صحابہ کرام کے ساتھ کیا کرے گا۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے اور دوسروں کے انجام کے علم کے متعلق قرآن مجید کی آیات 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد فرماتا ہے : 

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ يَوْمَ لا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ ( التحریم : ٨) جس سن اللہ نہ اپنے نبی کو شرمندہ ہونے دے گا اور نہ ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کا نور ان کے آگے اور ان کی دائیں جانب دوڑرہا ہوگا۔ 

إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا (١) لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ( الفتح : ٢) اے رسول مکرم ! ) بیشک ہم نے اپ کو روشن فتح عطا فرمائی تاکہ اللہ آپ کے لیے آپ کے اگلے اور پچھلے بظاہر خلاف اولی سب کام معاف فرمادے۔

عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا ( بنی سرائیل : ٧٩) عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز فرمائے گا۔ 

ان آیتوں سے معلوم ہوگیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وحی سے معلوم ہوگیا تھا کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں آپ کے ساتھ کیا کرے گا۔ 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے انجام کے علم کے متعلق احادیث 

ہم یہاں آپ کے اپنے انجام کے متعلق چند احادیث کا ذکر کررہے ہیں وگرنہ ایسی احادیث کی تعداد بہت زیادہ ہے 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن میں تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا سب سے پہلے میری قبر شق ہوگی سب سے پہلے میں شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میری سفاعت قبول کی جائے گی (صحیح مسلم رقم الحدیث : 2278 سنن ابوداؤد رقم الحدیث :4673)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ قیامت کے دن میرے متبعین تمام انبیاء (علیہم السلام) سے زیادہ ہوں گے۔ اور سب سے پہلے میں جنت کا دروازہ کھٹکھاؤں گا۔ ( صحیح مسلم الایمان : 331، رقم بلا تکرار 196، رقم مسلسل : 476)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن میں جنت کے دروازہ پر آؤں گا ار اس کا دروازہ کھلواؤں گا خازن ( جنت کا محافظ) کہے گا آپ کون ہیں ؟ میں کہوں گا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ کہے گا مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں آپ کے سوا کسی کے لیے دروازہ نہ کھو لوں۔ ( صحیح مسلم الایمان : 333، رقم بلاتکرار 19 رقم مسلسل : 478)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں سب سے پہلے جنت میں شفاعت کرنے والا ہوں جنتی میری تصدیق کی گئی ہے کسی نبی کی اتنی تصدیق نہیں کی گئی اور انبیاء میں سے بعض نبی ایسے ہیں جن کی ان کی امت میں سے صرف ایک شخص نے تصدیق کی۔ (صحیح مسلم الایمان : 334، رقم بلاتکرار 198، رقم مسلسل : 479)

حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن میں اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور مجھے اس پر فخر نہیں، حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہوگا اور مجھے اس پر فخر نہیں آدم ہوں یا ان کے ماسوا سب میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور مجھے اس پر فخر نہیں زمین سے سب سے پہلے مجھ سے شق ہوگی اور مجھے اس پر فخر نہیں۔ (الحدیث) سنن الترمذی رقم الحدیث 3148 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 4308، مسند احمد ج 3 ص 2)

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمای تم تمام رسولوں کا قائدہ ہوں اور اس پر فخر نہیں اور میں خاتم النبین ہوں اور اس پر فخر نہیں اور میں پہلا شفاعت کرنے والا اور پہلا شفاعت قبول کیا ہوا ہوں اس پر فخر نہیں۔ ( سنن الدارمی رقم الحدیث :49)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے لیے وسیلہ کا سوال کرو صحابہ نے کہا یارسول اللہ ! وسیلہ کیا چیز ہے ؟ فرمایا وہ جنت کا سب سے بلند درجہ ہے جو صرف ایک شخص کو ملے گا اور مجھے امید ہے کہ شخص میں ہوں۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : 3612، مسند احمد ج 2 ص 265 مسند ابویعلی رقم الحدیث :6414) 

ان احادیث سے واضح ہوگیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علم تھا کہ آخرت میں آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے اصحاب کے انجام کے علم کے متعلق احادیث 

اس نوع کی احادیث کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے ہم یہاں پر چند احادیث کا ذکر کر رہے ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وحی کے ذریعہ یہ بھی معلوم تھا کہ آپ کے اصحاب کے ساتھ اللہ تعالیٰ آخرت میں کیا کرے گا اس سلسلہ میں حسب ذیل احادیث میں دلیل ہے : 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ عزوہ بدر کے دن حارثہ نام کے نام کے ایک نوجوان شہید ہوگئے ان کی ماں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئیں اور کہا یارسول اللہ آپ کو معلوم ہے مجھے حارثہ (رضی اللہ عنہ) سے کتنی محبت تھی۔ اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرلیتی ہوں اور ثواب کی نیت کرتی ہوں اور اگر اس کے علاوہ کوئی بات ہے تو آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں آپ نے فرمایا تم پر افسوس ہے کیا جنت صرف ایک ہے ؟ وہاں تو بہت ساری جنتیں ہیں اور وہ جنت الفردوس میں ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 3982، سنن الترمذی رقم الحدیث 3174، مسند احمد رقم الحدیث : 13232، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : 958)

حضرت علی (رض) سے ایک طویل حدیث مروی ہے اس کے آخر میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ اہل بدر کی طرف متوجہ ہوا اور فرمایا جو عمل چاہو کرو تمہارے لیے جنت واجب ہوچکی ہے یا فرمایا بیشک میں نے تم کو بخش دیا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث 3983، صحیح مسلم رقم الحدیث 2494)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اے ایمان والو ! نبی کی آواز پر اپنی آواز اونچی مت کرو۔ (الحجرات :2) تو حضرت ثابت بن قیس (رض) اپنے گھر میں بیٹھ گئے اور کہا میں اہل دوزخ سے ہوں ! اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں نہیں گئے آپ نے حضرت سعد بن معاذ (رض) سے ان کے متعلق پوچھا کہ ابو عمرو ! ثابت کو کیا ہوا ؟ حضرت سعد نے کہا ہو میرے پڑوس ہیں اور مجھے ان کے بیمار ہونے کا علم نہیں پھر حضرت سعد ان کے پاس گئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد سے ان کو مطلع کیا حضرت ثابت نے کہا یہ آیت نازل ہوچکی ہے اور تم کو معلوم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے میری آواز سب سے اونچی ہوتی ہے۔ سو میں اہل دوزخ میں سے ہوں حضرت سعد نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بات کا ذکر کیا آپ نے فرمایا بلکہ وہ اہل جنت میں سے ہے۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : 4846، صحیح مسلم رقم الحدیث 119)

حضرت علی بن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے کانوں سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ (حضرت) طلحہ اور (حضرت) زبیر جنت میں میں میرے پڑوسی ہوں گے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث 3741 المستدرک ج 3 ص 365، العقیلی ج 4 ص 294 ابن عدی ج 7 ص 2479)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے جعفر کو جنت میں فرشتوں کے ساتھ پرواز کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : 3763 مسند ابویعلی رقم الحدیث 6464، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :7047، المستدرک ج 3 ص 209 ۔ 212)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کو اس کے اونٹ نے گراک ہلاک کردیا اور وہ محرم تھا اور ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اس کو دو کپڑوں میں کفن دو اور اس کے خوشبو نہ لگاؤ اور نہ اس کا سر دھانپو کیونکہ اللہ اس کو قیامت کے دن اس حال میں ٹھائے گا کہ یہ تلبیہ پڑھارہا ہوگا (لبیک اللھم لبیک الخ) (صحیح البخاری رقم الحدیث 1268 ۔ 1267، سنن الترمذی رقم الحدیث : 951، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 3084)

حضرت عبدرالرحمن بن عوف (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ابوبکر جنت میں ہیں عمر جنت میں ہیں عثمان جنت میں ہیں علی جنت میں ہیں طلحہ جنت میں ہیں زبیر جنت میں ہیں عبدالرحمن بن عوف جنت میں ہیں سعد جنت میں ہیں سعید جنت میں ہیں اور ابو عبیدہ الجرح جنت میں ہیں۔ (سنن الترمذی رقم الحدی :3747 مسند احمد ج 1 ص 193، مسند ابو یعلی رقم الحدیث : 835، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :7002، شرح السنہ رقم الحدیث :3925)

حضرت براء (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم فوت ہوگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کے لیے جنت میں ایک دودھ پلانے والی ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 1382)

حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : 3768، مصنف ابن ابی شیبہ ج 3 ص 3 مسند ابو یعلی رقم الحدیث : 1169)

حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی ماں سے کہا مجھے اجازت دیں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤں اور آپ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھوں اور آپ سے درخواست کروں کہ آپ میری اور میری ماں کی مغفرت کے لیے دعا کریں۔ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو اور آپ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی حتی کہ عشاء کی نماز پڑھی پھر آپ جانے لگے تو میں بھی آپ کے پیچھے چلا آپ نے میری آواز سن کر فرمایا کون ؟ حذیفہ ! میں نے کہا جی ! فرمایا تمہیں کیا کام ہے اللہ تمہاری اور تمہاری ماں کی مغفرت فرمائے ! فرمایا ایک فرشتہ جو اس رات سے پہلے زمین پر نازل نہیں ہوا اس نے اللہ سے اجازت لی کہ مجھے سلام کرے اور یہ بشارت دے کہ فاطمہ اہل جنت کی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن اور حسین جنت کو نوجوانوں کے سردر ہیں۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : 3781، مصنف ابن ابی شیبہ ج 12 ص 96، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : 6960، المعجم الکبیر رقم الحدیث : 2606، المستدرک ج 3 ص 381 تاریخ بغداد ج 6 ص 372)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت جبریل نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا یارسول اللہ ! یہ خدیجہ ہیں یہ آپ کے پاس ایک برتن میں سالن لے کر آرہی ہیں آپ ان پر اب کے رب کی طرف سے اور میری طرف سے سلام پڑھئے اور ان کو جنت میں کھو کھلے موتیوں سے بنے ہوئے گھر کی بشارت دیجئے جس میں شور ہوگا نہ تھکاوٹ ہوگی۔ ( صیح البخاری رقم الحدیث : 3860، صحیح مسلم رقم الحدیث : 2432) 

اشکال مذکور کے جواب کا خلاصہ 

حضرت ام العلاء انصاریہ نے حضرت عثمان بن مظعون کی موت پر یہ کہا کہ میں شہادت دیتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کو عزت عطا کرے گا اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا تم کو یہ کیسے پتا چلا ! اللہ کی قسم میں اللہ کا رسول ہوں اور محض اپنی عقل سے بغیر وحی کے تو میں بھی نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور الا حقاف : 9 میں بھی ہے اور میں خود اپنی عقل سے نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا اس کی تشریح میں شیخ اسماعیل دہلوی نے کہا یعنی جو کچھ اللہ اپنے بندوں سے معاملہ کرے گا خواہ دنیا میں خواہ قبر میں خواہ آخرت میں سو اس کی حقیقت کسی کو معلوم نہیں نہ نبی کو ولی کو ہم نے یہ بتایا کہ شیخ اسماعیل کی یہ بات غلط ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علم کی نفی نہیں فرمائی درایت کی نفی فرمائی ہے اور درایت کا معنی آتی تم کو کیسے معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ عثمان بن مظعون کو عزت دے گا اور بغیر وحی کے تو میں بھی نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور وحی کے ذریعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنا انجام بھی معلوم تھا اور اپنے اصحاب کا بھی کہ اللہ آخرت میں آپ کے ساتھ کیا کرے گا اور آپ کے اصحاب کے ساتھ کیا کرے گا اور ہم نے اس کو قرآن مجید کی تصریح آیات اور احادیث صحیحہ سے واضح کیا اب ہم اس کی تائید میں علماء متقد میں کی عبارات پیش کر رہے ہیں۔

دیگر محدثین و محققیق کی طرف سے اشکال مذکور کا جوابات

علامہ ابن بطال علی بن خلف مالکی اندلسی متوفی 349 ھ لکھتے ہیں :

علامہ مہلب نے یہ کہا ہے کہ حضرت ام العلاء کی حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص بھی اہل قبلہ میں سے کسی کے متعلق بھی قطعیت کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ اہل جنت میں سے ہے یا اہل نار سے ہے لیکن نیک مسلمان کے لیے اجروثواب کی توقع کر کھی جائے گی اور بدکار پر عذاب کا خوف ہوگا اور رہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمانا اللہ کی قسم ! میں بھی اپنی عقل سے اپنی عقل سے نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ اشاراہ اس سے پہلے کا ہو جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس پر مطلع کیا تھا اللہ نے آپ کے اگلے اور پچھلے بظاہر خلاف اولی سب کاموں کی مغفرت کردی ہے اور حدیث کے ایک نسخہ میں یہ ہے کہ میں بھی اپنی عقل سے نہیں جانتا کہ اس کے ساتھ کیا کیا جائے گا اریہی نسخہ صحیح ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف ان ہی چیزوں کا جانتے تھے جن کی آپ طرف وحی کی جاتی تھی۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ آپ نے حضرت جابر کے والد کے متعلق فریا تھا فرشتے اس پر اپنے پروں سے سایہ کیے ہوئے ہیں حتی کہ تم نے اس کو اٹھا لیا۔ یعنی موت کے بعد ان کے حامل کا تو آپ کو علم تھا اور حضرت عثمان بن مظعون کے موت کے بعد کے علم نہیں تھا اور یہ تعارض ہے اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی خواہش سے کلام نہیں کرتے آپ نے حضرت ام لعلاء پر اس لیے انکار فرمایا تھا کہ انہوں نے حضرت عثمان بن مظعون کے متعلق قطعیت کے ساتھ کہا تھا اس وقت آپ کو از خود حضرت عثمان کا حال معلوم نہیں تھا اور حضرت جابر (رض) کے والد کے قصہ میں آپ کو وحی سے معلوم ہوگیا تھا کیونکہ بغیر وحی کے آپ اس طرح قطعیت کے ساتھ نہیں بتاتے تھے پس تعارض ساقط ہوگیا۔ (شرح صحیح البخاری ج 3 ص 242، مطبوعہ مکتبہ الرشید ریاض، 1420)

علامہ حسین بن محمد بن عبداللہ الطیبی المتوفی 743 ھ لکھتے ہیں :

اس حدیث کے چار جواب ہیں

(1) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ام لعلاء کی تادیب اور تنبیہہ کے لیے یہ ارشاد فرمایا کیونکہ انہوں نے عیب کی بات پر حکم لگا یا تھا

(2) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے منسوخ ہے تاکہ اللہ آپ کے لیے آپ کے تمام اگلے اور پچھلے بظاہر خلاف اولی کاموں کو بخش دے (الفتح :2) جیسا کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا ہے کہ اس آیت سے یہ آیت منسوخ ہے۔ قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِنَ الرُّسُلِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلا بِكُمْ ( الا حقاف : ٩)

(3) ہوسکتا ہے کہ آپ کے ارشاد میں درایت تفصیلیہ کی نفر ہو نہ کہ درایت اجمالیہ کی

(4) ہوسکتا ہے کہ آپ کا مطلب یہ ہو کہ میں نہیں جانتا کہ دنیا میں اللہ میرے ساتھ کیا کرے گا۔

نیز علامہ الطیبی لکھتے ہیں کہ اس حدیث کو اس کے ظاہر پر محمول کرنا جا ئز نہیں ہے اور نہ گمان کرنا جا ئز ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے انجام کے بارے میں مترود تھے اور آپ کو آخرت میں نو بلند درجات ملنے والے ہیں آپ ان پر یقین نہیں تھا کیونکہ ایسی احادیث صحیحہ وارد ہیں جو اس شبہ کا لقع قمع کردیتی ہیں اور خود آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبردی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود پر فائز کرے گا اور آپ تمام مخلوق میں اللہ تعا کے نزدیک مکرم ہیں اور آپ ہی سب سے پہلے شفاعت کرنے والے ہیں اور آپ ہی کی شفاعت سب سے پہلے قبول ہوگی (شرح اطیبی ج 10 ص 18، مطبو عہ ادارہ القرآن کراچی 1412 ھ)

حافظ احمد بن علی بن عسقلانی متوفی 852 ھ، لکھتے ہیں : اس حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد اس آیت کے موافق ہے : قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِنَ الرُّسُلِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلا بِكُمْ ( الا حقاف : ٩) آپ کہئے کہ میں رسولوں میں سے کوئی انوکھا نہیں ہوں اور میں (ازخود بغیر وحی کے) نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔

یہ آیت لیغفر لک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تاخر سے پہلے نازل ہوئی کیونکہ الاحقاف مکی سورت ہے اور الفتح مدنی سورت ہے۔ (فتح الباری ج 3 ص 112 ۔ 115، مطبوعہ لاہور 1401 ھ)

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی 1270 ھ الاحقاف : 9 کی تفسیر لکھتے ہیں :

امام جریر نے حسن سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ اگر یہ گمان کی جائے کہ آپ یہ پتا نہ تھا کہ آخرت میں آپ کے ساتھ کیا ہوگا تو ہم اس گمان سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے رسولوں میں میثاق لیا تھا اس وقت بھی آپ کو علم تھا کہ آپ جنت میں ہوں گے لیکن اس آیت کا معنی یہ ہے کہ میں نہیں جانتا کہ دنیام میں میرے ساتھ کیا کیا جائے گا مجھے اپنے وطن سے نکا دیا جائے گا جس طرح مجھ سے پ ہلے نبیوں کو ان کے وطنوں سے نکال دیا گیا تھا یا مجھ کو شہید کردیا جائے گا جیسا کہ بعض نبیوں کو شید کردیا گیا تھا وار نہ تمہارا علم ہے کہ آیا میری امت میری تکذیب کرے گی یا میری تصدیق کرے گی اور میری امت کو سنگسار کرنے کا عذاب دیا جائے گا یا اس کو زمین میں دھنسادیا جائے گا پھر یہ آیت نازل ہوئی :

وَإِذْ قُلْنَا لَكَ إِنَّ رَبَّكَ أَحَاطَ بِالنَّاسِ ( بنی اسرائیل : ٦٠) اور جب ہم نے آپ سے فرمایا کہ بیشک آپ کے رب نے سب لوگوں کا احا طہ کیا ہوا ہے۔

اس آیت سے آپ کو یہ علم ہوگیا کہ کوئی شخص آپ کو قتل نہیں کرسکے گا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :

هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا ( الفتح : ٢٨) اللہ وہی ہے جس نے اپنی رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس کو سب دینوی پر غالب کردے اور اللہ (رسول کی صداقت پر) کافی گواہی ہے۔

اس آیت سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ علم ہوگیا کہ آپ کا دین تمام ادیان پر غالب ہوگا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :

وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ ( الا نفال : ٣٣) اور اللہ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے اور نہ اللہ کی یہ شان ہے کہ وہ ان پر اس وقت عذاب نازل فرمائے جب وہ استغفار کررہے ہوں۔

اس آیت سے آپ کو یہ علم ہوگیا کہ دنیا میں اللہ آپ کے ساتھ کیا کرے گا اور آپ کی امت کے ساتھ کیا کرے گا۔

البحر المحیط میں امام ماک بن انس سے روایت کی ہے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ میں انہیں نہیں جانتا کہ آخرت میں میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا اور امام ابو داؤد نے الناسخ میں ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ الاحقاف :9 کی اس آیت کو لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ( الفتح : ٢) نے منسوخ کردیا کیونکہ اس آیت سے آپ کو اپنی مغفرت کا علم ہوگیا آپ صحابہ کے پاس گئے اور آپ نے ان کو اپنی مغفرت کی بشارت دی تو مومنین میں اس ایک شخص نے کہا : یارسول اللہ ! آپ کو مبارک ہو ہم نے جان لیا کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا پس ہمارے ساتھ کیا کیا جائے گا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :

وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ بِأَنَّ لَهُمْ مِنَ اللَّهِ فَضْلا كَبِيرًا ( الا حزاب : ٤٧) اور ایمان والوں کو بشارت دیجئے کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہے۔ 

اور اللہ سبحانہ ارشاد فرماتا ہے : 

لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ ( الفتح : ٥) تاکہ اللہ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو ان جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں وہ ان میں ہمشہ رہیں گے اور ان کی برائیاں ان سے دور فرمائے گا۔

پس سورة الفتح کی ان آیتوں کے نازل ہونے سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ معلوم ہوگیا کہ آخرت میں آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا اور آپ کے اصحاب کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔

نسخ کے جواب پر یہ اشکال ہے کہ نسخ انشاء میں ہوتا ہے خبر میں نہیں ہوتا اس کا جواب یہ ہے کہ یہ نسخ کی طرف راجع ہے اور وہ امر کا صیغہ ہے یعنی اب آپ کے لیے بھی یہ کہنا جائز نہیں کہ میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا) ( روح المعانی جز 26 ص 15 مطبوعہ دارالفکر بیروت 1417 ھ)

اعلی حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی متو فی 1340 ھ لکھتے ہیں :

یہی مولوی رشید احمد صاحب پھر لکھتے ہیں

خود فخر عام (علیہ السلام) فرماتے ہیں واللہ لا ادری مایفعل بی ولا بکم (الحدیث) اور شیخ اعبد الحق رویت کرتے ہیں کہ مجھ کو دیوار کے پیچھے کا بھی علم نہیں۔

قطع نظر اس کے حدیث اول خود احاد ہے سلیم الحواس کو سند لانی تھی تو مضمون خود آیت میں میں تھا اور قطع نظر اس سے کہ اس آیت و حدیث کے کیا معنی ہیں اور قطع نظر اس سے کہ یہ کس وقت کے ارشاد ہیں اور قطع نظر اس سے کہ خود قرآن عظیم او حادیث صحیحہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں اس کا نا سخ موجود ہے کہ جب آیت کریمہ نازل ہوئی :

لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ( الفتح : ٢) تاکہ اللہ بخش دے تمہارے واسطے سے سب اگلے پچھلے گناہ۔

صحابہ نے عرض کی یارسول اللہ آپ کو مبارک ہو خدا کی قسم اللہ عزوجل نے یہ تو صاف بیان فرمادیا کہ حضور کے ساتھ کیا کرے گا اب رہا یہ کہ ہمارے ساتھ کیا کرے گا۔ 

اس پر یہ آیت اتری

تاکہ داخل کرے اللہ ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو باغوں میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ہمشہ رہیں گے ان میں اور مٹادے ان سے ان کے گناہ اور یہ اللہ کے یہاں بڑی مراد پانا ہے۔

یہ آیت اور ان کے امثال نے نظیر اور یہ حدیث جلیل وشہیر ایسوں کو کیوں سمجھائی نہیں دیتیں۔ (انباء المصطفی ص 30 ۔ 29، مطبوعہ پروگر یسو لاہور، انباء المصطفی 9 ۔ 8، مطبوعہ نوری کتب خانہ لاہور) 

مخالفین اعلی حضرت کا یہ اعتراض کہ مغفرت ذنب کے سلسلہ میں اعلی حضرت کی بیان کردہ حدیث غیر صحیح ہے 

اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی نے اس حدیث کو صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے حوالے سے صحیح حیدث لکھا ہے اور اس کو اس درجہ کی قوی اور صحیح حدیث قرار دیا ہے کہ اس سے قرآن مجید کی آیت کریمہ الا حقاف :9 کو بھی منسوخ فرمایا ہے لیکن اعلی حضرت کے بعض مخالفین نے لکھا ہے کہ یہ حدیث غیر صحیح ہے اور اس کو بخاری اور مسلم کے حوالے سے لکھنا آنکھوں میں دھول جھنونکے کے مترادف ہے مخالفین کی دلیل یہ ہے امام بخاری متوفی 256 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔

شبعہ از قتادہ ازانس بن مالک (رض) انا فتحنا لک فتحا مبینا یہ فتح حدیبیہ ہے آپ کے آصحاب نے کہا آپ کو مبارک ہو پس ہمارے لیے کیا ہے تو اللہ عزوجل نے یہ آیت فرمائی لید خل المؤ منین اولمؤ منات جنات تجری من تحتھا الا نھر) شعبہ نے کہا : میں کوفہ میں گیا اور میں نے یہ پوری حدیث قتادہ سے روایت کی پھر جب میں واپس آیا و میں ان سے ذکر کیا انا فتحنا لک اس سے مراد حدیبیہ ہے یہ تو حضرت انس کا ارشاد ہے اور رہا یہ کہ آپ کو مباکر ہو اللہ نے یہ بیان کردیا کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا تو ہمارے ساتھ کیا کیا جائے گا اور پھر آپ نے یہایت پڑھی لید خل المؤمنین یہ عکرمہ سے مردی ہے۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث :4176، مطبوعہ دارا رقم بیروت

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ اس حدیث کا بعض حصہ از شعبہ ازقتادہ سے مروی ہے اور بعض حصہ عکرمہ سے مروی ہے ( فتح الباری ج 7 ص 451، مطبوعہ لاہور)

مخالفین نے اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یہ حدیث سرے سے صحیح نہیں ہے اور اسے استدلال کرنا باطل ہے انا للہ وانا الیہ راجعون !

اعتراض مذکور کے متعدد جوابات 

قتادہ بن دعامہ متوفی 118 ھ کے متدد شاگردوں نے ان سے اس حدیث کو سنا ہے اور ان سے اس کو روایت کیا ہے اگر کسی ایک شاگرد مثلا شعبہ بن حجاج متوفی 160 ھ نے قتادہ سے اس حدیث کا یاک حصہ سنا ہے اور اس پوری حدیث کو ان سے نہیں سنا تو اس یہ کب لازم آتا ہے کہ قتادہ کے کسی شاگرد نے بھی ان سے اس حدیث کو مکمل نہیں سنا جبکہ قتادہ کے دوسرے شاگرد جو ثقہ اور ثبت ہیں وہ قتادہ سے اس حدیث کو مکمل روایت کرتے ہیں اور کوئی استثناء نہیں کرتے اور مستند محد ثین ان کی روایات کے صحیح ہونے کی تصریح بھی کردی ہے۔

قتادہ بن دعامہ کے ایک شاگرد ہیں معمر بن راشد ازدی متوفی 154 ھ وہ کہتے ہیں کہ میں چودہ سال کی عمر سے قتادہ کی مجلس میں بیٹھ رہا ہوں اور میں ان سے جو حدیث بھی سنی وہ میرے سینے میں نقش ہے ابو حاتم احمد بن جنبلی ؟ یحییٰ بن معین، العجلی، یعقون بن شیبہ نسائی وغیر ہم نے ان کو انثبت، اصدق، ثقہ اور صالح لکھا ہے اور رائمہ ستہ ان سے احادیث روایت کرتے ہیں۔ (تہذیب المال ج 18 ص 272 ۔ 268، مطبوعہ دارا لفکر بیروت 1414 ھ)

اور معمر بن راشد نے اس مکمل حدیث کو قتادہ سے روایت کیا ہے۔

از معمر از قتادہ از انس یہ حدیث ان کتابوں میں سنن الترمذی، رقم الحدیث : 3263، اور امام ترمذی نے لکھا ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے اما ابن حبان بھی اپنی صحیح میں از معمر ازقتادہ اس حدیث کو روایت کی سند صحیح ہے امام ابو یعلی تمیمی نے بھی از معمر ازقتادہ اس حیدیث کو روایت کیا ہے مسند ابویعلی رقم الحدیث : 3045، اس کے مخرج اور محقق حسین سلیم اسد نے بھی لکھا ہے اس کی سند صحیح ہے امام ابن جریر نے بھی اس سند سے اس حدیث کو روایت کیا ہے جا مع البیان رقم الحدیث : 24345 امام ابن عبدالبر نے بھی اس سند دے اس حدیث کو روایت کیا ہے التمہید ج 2 ص 165)

قتادہ بن دعامہ کے ایک اور شاگرد ہیں حمام یحییٰ بن دینار العوذی المتوفی 163 ھ امام احمد جنبل، ابن مہدی یحییک بن معین عثمان بن سیعد دارمی محمد بن سعد وغیرہم نے ہمام کو اثبت احفظ اور ثقہ لکھا ہے ائمہ ستہ ان سے احادیث روایت کرتے ہیں (تہذیب الکمال ج 19 ج 305 ۔ 301، مطبوعہ دارالفکر بیروت 1414 ھ)

امام احمد نے اس حدیث کو از ہمام از قتادہ ازانس روایت کیا ہے مسند احمد ج 3 ص 122، طبع قدیم مسند احمد رقم الحدیث “:12166 ۔ 13575، طبع قاہرہ اس کے حاشیہ پر حمزہ احمد زین نے لکھا ہے اس کی سند صحیح ہے امام واحدنے بھی اس سند سے اس حدیث سے اس حدیث کو روایت کیا ہے اسباب النزول ص 398، امام بہیقی نے بھی اس سند سے اس حدیث کو روایت کیا ہے دلا ئل النبوتہ ج 4 ص 158، امام بغوی نے بھی اس حدیث کو ہمام ازقتادہ روایت کیا ہے معالم التنزیل ج 4 ص 170 ۔

قتادہ بن دعامہ کے ایک اور شاگرد ہیں سعید بن ابی عروبہ العدوی المتوفی 157 ۔ امام احمد یحییٰ بن معین ابو رزعہ، نسائی ابوداؤد طیاسی وغیرہم نے ان کو ثقہ اور احفظ کہا ہے ائمہ ستہ ان سے روایت کرتے ہیں۔ ( تہذیب الکمال ج 7 ص 265 ۔ 262، مطبوعہ دارالفکر بیروت 1414 ھ)

امام احمد نے از سعید از قتادہ از انس اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ مسند احمد ج 3 ص 215، طبع قدیم مسند احمد رقم الحدیث :13179، طبع قاہر اس کے حاشیہ میں حمزہ احمد زین نے لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے اس کے علاوہ یہ روایت ان کتابوں میں سے مسند ابویعلی رقم الحدیث : 2932 ۔ 3204، اس کے محقق نے بھی لکھا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے اسباب النزول للواحدی ص 399، جامع البیان رقم الحدیث : 24344، سنن کبری للبیہقی ج 9 ص 222

قتادہ بن دعامہ کے ایک شاگرد ہیں شیبان بن عبد الرحمن تمیہی متوفی 164 ھ مشہور ائمہ حدیث نے ان کو ثقہ اور صدوق لکھا ہے اور ائمہ ستہ ان سے حدیث روایت کرتے ہیں تہذیب الکمال ج 8 ص 417 ۔ 414، مطبوعہ دارا لفکر بیروت 1414 ھ)

امام بیہقی نے اس حدیث کو از شیبان ازقتادہ ازانس روایت کیا ہے سنن کبری ج 5 ص 217

قتادہ بن دعامہ کے ایک شاگرد ہیں حکیم عبدالملک القرشی امام بخاری نے الا دب المفرد میں اما نسائی نے خصائص نسائی میں امام ترمذی اور امام ابن جاجہ نے اپنی سنن میں ان سے احادیث کو روایت کیا ہے یہ اگر یہ چہ ضعیف راوی ہیں لیکن ان کی جن روایات کی متابعت کی گئی ہے ان سے استد الا کرنا جا ئز ہے۔ ( تہذیب الکمال ج 5 ص 93 ۔ 92، مطبوعہ دارالفکر بیروت 1414 ھ)

امام بیہقی نے از حکم بن عبدلملک ازقتادہ از انس اس حدیث کو روایت کیا ہے سنن کبری ج 5 ص 217 ۔

خلاصہ یہ ہے کہ قتادہ بن دعامہ کے شاگردوں میں سے معمر، ہمام، سعید شیبان اور حکم بن عبدالملک نے اس پوری حدیث کو قتادہ سے سنا ہے اور اس پوری حدیث کو روایت کیا ہے اور صحاح اور سنن کے مصنفین نے ان کی روایات کو اپنی تصانیف میں درج کیا ہے اور ان کی اسانید کے متعلق محققین نے تصریح کی ہے کہ وہ صحیح ہیں ماسوا حکم کی روایت کے لیکن ہم اس کو بطور تائید درج کیا ہے لہذا قتادہ بن دعامہ کے ایک شاگرد شعبہ کی ایک روایت اگر مدرج ہے اور انہوں نے حضرت انس اور عکرمہ کے کلام کو ملادیا ہے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کے باقی شاگردوں کی روایات کی صحت پر کوئی اثر پڑے، علاوہ ازیں یہ حدیث قتادہ بن دعامہ کے علاوہ ازربیع بن انس بھی مروی ہے لہذا اب اعتراض کی بنیاد ہی منہدم ہوگئی امام بیہقی اپنی سند کے ساتھ ازربیع از انس روایت کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلا بِكُمْ ( الفتح : ٩) تو اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ( الفتح : ٢) تو صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ہم نے جان لیا کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا تو ہمارے سا تھا کیا کیا جائے گا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ بِأَنَّ لَهُمْ مِنَ اللَّهِ فَضْلا كَبِيرًا ( الا حزاب : ٤٧) آپ نے فرمایا فضل کبیر جنت ہے۔ ( دلائل النبوہ ج 4 س 159 دارالکتب العلمیہ بیروت 1410 ھ)

نیز امام ابن جریر نے اس حدیث کی تفصیل کے ساتھ عکرمہ اور الحسن البصری سے روایت کیا ہے۔ ( جامع البیان رقم الحدیث : 24165، مطبوعہ دارالفکر بیروت 1415 ھ) 

اعلی حضرت کے جواب کی تقریر 

اعلی حضرت امام احمد فاضل بریلوی نے انباء المصطفی میں اس حدیث کو صحیح فرمایا ہے اور اس کے الا حقاف :9 کے لیے ناسخ قرار دیا ہے مجھے سال یہ معلوم ہوا کہ مخالفین نے اس حدیث پر اعتراض کیا ہے اور یہ لکھا ہے کہ یہ حدیث غیر صحیح ہے کیونکہ شعبہ نے اس حدیث کا صرف جملہ قتادہ سے سنا تھا اور باقی حصہ عکرمہ سے اور انہوں نے دونوں کو ملا کر قتادہ کی طرف منسوب کردیا لیکن اس وجہ سے اس حدیث کو غیر صحیح قرار دینا درست نہیں ہے کیونکہ معمر ہمام، سعید اور شیبان بھی قتادہ کے شاگرد ہیں اور صحاح ستہ کے راوی ہیں اور ان سے یہ ثابت نہیں ہے کہ انہوں نے قتادہ سے یہ پوری حدیث نہیں سنی اور ان کی اس حدیث کو صحاح اور سنن کے مصنفین نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے اور محققین نے ان کی روایات کو صحیح قرار دیا ہے لہذا امام احمد رضا کا اس حدیث کو صحیح لکھنا برحق ہے پہلے میں نے سوچا تھا کہ جب میں الا حقاف یا لفتح کی تفسیر پر پہنچوں گا اس وقت اس اشکال کا جواب لکھ دوں گا پھر میں نے سوچا کہ پتا نہیں اس وقت تک میں زندہ رہوں یا نہ رہوں حدیث کا ایک ادنی خادم ہونے کی حیثیت سے مجھ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ حدیث کی صحت پر جو اعتراض کیا جائے اس کو دور کردوں لہذا میں نے یہاں پر اس اعتراض کا جواب لکھ دیا ہے ا اور اعلی حضرت سے قلت فہم حدیث کی تہمت دور کردی ہے۔ 

مغفرت ذنب کی نسبت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف کرنے پر اعلی حضرت کی دیگر عبارات 

اس صحیح حدیث سے اعلی حضرت نے یہ واضح کیا ہے کہئی لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ( الفتح : ٢) میں مغفرت کا تعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے اعلی حضرت کی دیگر تصانیف سے بھی یہ ظاہر ہے صحیح مسلم کی ایک اور حدیث کے ترجمہ میں لکھتے ہیں یعنی حضور نور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں صبح کو جب اٹھتا ہوں اٹھتا ہوں اور نیت روزے کی ہوتی ہے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں خود ایسا کرتا ہوں اس نے عرض کی حضور کی ہماری کیا برابری ؟ حضور کو تو اللہ عزوجل نے ہمیشہ کے لیے پوری معافی عطا فرمادی ہے۔ (فتاوی رضویہ ج 4 ص 616 ۔ 615، مطبوعہ دارا لعلوم امجدیہ کراچی 1410 ھ)

نیز اعلی حضرت امام احمد رضا لکھتے ہیں ؛

ہر نعمت کا پورا شکر کون ادا کرسکتا ہے از دست وزباں کر برآید کز عہدہ شکرش بدر آید شکر میں ایسی کمی ہرگز گناہ بمعنی معروف نہیں بلکہ لازمہ بشریت نعمان الہیہ ہر وقت ہر لمحہ ہر آن ہرحال متزاید ہیں خصوصا خاصوں پر خصوصا ان پر جو سب خا صوں کے سردار ہیں اور بشر کو کسی وقت کھانے پینے سونے میں مشغولی ضرور اگرچہ خاصوں کے یہ افعال بھی عبادت ہیں مگر اصل عبادت سے تو ایک درجہ تم ہیں اس کمی کو تقصیر اور تقصیر کو ذنب فرمایا گیا۔ (5) بلکہ خود نفس عبارت گواہ ہے کہ یہ جسے ذنب فرمایا ہرگز حقیقتا ذنب بمعنی ماتقدم سے کیا مراد لیا وحی اترنے سے بیشتر کے اور گناہ کسے کہتے ہیں مخالفت فرمان کو اور فرمان کا ہے سے معلوم ہوگا وحی سے تو تک وحی نہ اتری تھی فرمان کہاں تھا جب فرمان نہ تھا یونہی ماتا خر میں نقد وقت ہے قبل ابتداء نزول فرمان جو افعال جائز ہوئے کہ بعد کو فرمان ان کے منع پر اترا اور انہیں یوں تعبیر فرمایا گیا حالانکہ ان کا حقیقتا گناہ ہونا کوئی معنی ہی نہ رکھتا تھا یو نہی بعد نزول وحی ظہور رسالت بھی جو افعال جائز فرمائے اور بعد کو ان کی ممانعت اتری اسی طریقہ سے ان کو ماتا خر فرمایا کہ وحی بتد ریج نازل ہوئی نہ کو دفعتا۔ ( فتاوی رضویہ ج 9 ص 75 مطبوعہ دارالعلوم امجدیہ کراچی)

اسی بحث میں مزید لکھتے ہیں : (12) جتنا قرب زائد اسی قدر احکام کی شدت زیادہ ہے جن کے رتبے ہیں سو ان کو مشکل ہے باشاہ جبار جلیل القدر ایک جنگلی گنوار کی جو بات سن لے گا جو بر تاؤ گوارا کرے گا ہرگز شہریوں سے پسند نہیں کرے گا شہریوں میں بازار یوں سے معاملہ آسان ہوگا اور خاص لوگوں سے سخت اور خاصیوں میں درباریوں اور درباریوں میں وزراء ہر ایک پر باردوسرے سے زائد ہے اسی لیے وارد ہوا احسنات الا برار سیئات المقر بین نیکوں کے جو نیک کام ہیں مقربون کے حق میں گناہ ہیں وہاں ترک اولی کو بھی گناہ سے تعبیر کیا جاتا ہے حالہ ن کہ ترک اولی ہرگز گناہ نہیں۔ (فتاوی رضویہ ج 9 ص 76، مطبوعہ دارالعلوم امجدیہ کراچی)

اعلی حضرت کے والد (رح) مولانا نقی علی خاں متوفی 1297 ھ، نے بھی الفتح :1 ۔ 2 کے ترجمہ سے یہ ظاہر فرمایا ہے کہ مغفرت کا تعلق رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے لکھتے ہیں :

إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا (١) لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا ( الفتح : ٢) ہم نے فیصلہ کردیا تیرے واسطے صریح فیصلہ تامعاف کرے اللہ تیرے اگلے اور پچھلے گناہ۔ انوار جمال مصطفیٰ ج 71 مطبوعہ شبیر برادرز لاہور)

اور خود اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی اپنے وال قدس سرہ کی کتاب احسن الوعاء آداب الدعاء کی شرح ذیل الوعاء لا حسن الدعاء میں لکھتے ہیں :

قال الرضایہ بھی ابو الشیخ نے روایت کی اور خود قرآن عظیم میں ارشاد ہوتا ہے :

مغفرت مانگ اپنے گناہوں کی اور سب مسلمان مردوں اور عورتوں کے لیے۔ (احسن الوعاء ص 26، مطبوعہ ضیاء الدین پبلی کیشنز کھارا در کراچی)

اعلی حضرت نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف منسوب ذنب کا تر جمہ گناہ کیا ہے اس سے اعلی حضرت کی مراد آپ کے خلاف اولی کام ہیں جیسا کہ خود اعلی حضرت نو فتاوی رضویہ ج 9 ص 76 میں اس کی تصریح کی ہے ار اس سے معروف گناہ مراد نہیں ہیں بعض دیگر اکابرین اہل سنت نے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف منسوب ذنب کا کا ترجمہ گناہ کیا ہے ان کی بھی یہی مراد ہے یہ تمام بزرگ صحیح العقیدہ تھے اور آپ کی محبت سے مالا مال اور آپ کے ادب و احترام سے معمور تھے اور وہ اس تہمت بری ہیں کہ اس تر جمہ میں گناہ سے مراد اس کا معروف معنی مراد لیا جائے۔

تاہم میں نے قرآن مجید اور احادیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف منسوب ذنب کا ترجمہ کسی جگہ بھی گناہ نہیں کیا میں نے یا تو اس کو ذنب ہی لکھ دیا یا اس کا ترجمہ بہ ظاہر خلاف اولی کام کیا ہے اور میرے نزدیک اس کا ترجمہ گناہ کرنا مناسب نہیں ہے اولا اس وجہ سے کہ عربی ذنب نہ معنی ترک اولی متعارف ہے لیکن اردو میں گناہ کا ایک ہی معنی متعارف ہے اور وہ ہے ایسا کام جو موجب تعزیر یا موجب عذاب ہو اس لیے اردو تحریر میں جب ذنب کا تر جمہ گناہ کیا جائے گا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف گناہ منسوب ہوگا تو عوام کا ذہن مشوش ہوگا اور مخالفین اسلام کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عصمت پر طعن کا موقع ملے گا ثانیا اگر پہلے ذنب کا ترجمہ گناہ کیا جائے پھر بعد میں اسکی تاویل ترک اولی سے کی جائے تو کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ ابتداء ذنب کا ترجمہ ترک اولی یا خلاف اولی کے ساتھ کیا جائے۔ 

الا حقاف :9 کو منسوخ ماننے پر مخالفین اعلی حضرت کے ایک اور اعتراض کا جواب 

یہاں تک جو ہم نے گفتگو کی اس میں یہ مباحث پوری تفصیل سے باحوالہ دلائل کے ساتھ آگئے ہیں کہ اعلی حضرت امام احمد رضا نے الا حقاف :9 نے منسوخ ہونے پر لیغفر لک اللہ سے استدلال کیا اور یہ ثابت کرنے کے لیے کہ اس آیت میں مغفر کا تعلق آپ کے ساتھ ہے ترمذی کی صحیح حدیث سے استد لا کیا اس پر مخا لفین نے یہ اعتراض کیا کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے اس کے ہم نے شافی جو ابات ذکر کردیئے۔ پھر اعلی حضرت کے مخالفین نے اس استدلال کپر عقلی طور سے یہ اعتراض کیا الا حقاف : 9 مکی ہے اور سورة الفتح مدنی ہے اس سے لازم آئے گا کہ ایک طویل عرصہ صلح بیہ تک آپ کو اپنی مغفرت کا علم نہیں ہوا اس کا اولا جواب یہ ہے کہ یہ صرف اعلی حضرت نے نہیں کہا بلکہ بہت سے مفسرین اور محدثین نے کہا ہے جس میں سے چند کے حوالے اس بحث کے شروع میں آچکے ہیں۔ ثانیا کسی چیز کا علم اور چیز ہے اور اس کا بیان دوسری چیز ہے دیکھئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آور آپ کے اصحاب مکہ میں بھی نماز پڑ تھے تھے اور وضو کرکے نماز پڑھتے تھے حالانکہ وضو کی آیت سورة المائدہ میں مدینہ میں آخری دور میں نازل ہوئی آپ کو وضو کا علم بہت پہلے تھا لیکن اس کا بیان بہت بعد میں ہوا اسی طرح آپ کو اپنی کلی مغفرت کا علم بہت پہلے تھا اس کا بیان بعد میں کیا گیا۔ 

سورت کا اختتام 

یقین کی تفسیر میں یہ ہم علمی مباحث آگئے ہم اللہ کی حمد وثناء کے ساتھ الحجر کی تفسیر کو ختم کرتے ہیں آج 16 ربیع الثانی 1421 ھ/19 جولائی 2000 ء بروز بدھ بعد نماز ظہر اس سورت کی تفسیر اختتام کو پہنچی الہ العلمین جس طرح آپ نے محض اپنے کر اور فضل سے یہاں تک اس تفسیر کو پہنچا دیا ہے اس کیا باقی سورتوں کی تفسیر کو بھی مکمل کرادیں اس تفسیر کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائیں اور اپنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قیامت تک کے تمام مسلما نوں کے لیے دلوں میں اس کو مقبول بنادیں اس کی تحریر کو اثر آفرین بنائیں اور اس کو موافیقن کے لیے استقامت اور مخالفین کے لیے ہدایت کا سبب بنادیں اور اس کے مصنف اور باقی معاونین کی محض اپنے فضل سے مغفرت فرمادیں، دنیا میں ہمیں بلاؤں او مصائب سے مامون رکھیں اور آخرت میں ہر قسم کے عذاب سے محفوظ رکھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت سے بہرہ مند فرائیں اور عزت و کرامت کے ساتھ ایمان پر خاتمہ فرمائیں اور خصو صا مصنف کو نیک اعمال پر قائم اور بد اعمالی سے مجتنب رکھیں۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 97