أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَـقِّ‌ ؕ وَاِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ‌ فَاصۡفَحِ الصَّفۡحَ الۡجَمِيۡلَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے حق کے ساتھ ہی پیدا کیا ہے اور بیشک قیامت ضرور آنے والی ہے سو آپ حسن و خوبی کے ساتھ درگزر کیجئے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے حق کے ساتھ ہی پیدا کیا ہے اور بیشک قیامت ضرور آنے والی ہے سو آپ حسن و خوبی کے ساتھ درگز کیجئے۔ بیشک آپ کا رب ہی ( سب کو) پیدا کرنے والا ( سب کچھ) جاننے والا ہے (الحجر : 86 ۔ 85) 

بندوں کو ان کے اعمال کے مطابق جزا اور سزا دینا 

اس سے پہلے آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانی عذاب بھیج کر کفار کو ہلاک کردیا تھا اس پر یہ اعتراض ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ تورحیم وکریم ہے پھر عذاب بھیج کر کفار کو ہلاک کرنا اس کی رحمت اور کرم کے کس طرح مناسبک ہے ان آیتوں میں اس اعتراض کا جواب ہے جواب کی تقریر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تاکہ وہ اس کی عبادت اور اطاعت میں مشغول ہوں اور عبادت اور اطاعت کی طرف متوجہ اور راغب کرنے کے لیے اس نے نبی اور رسول بھیجے پھر جنہوں نے اس کے رسولوں کو جھٹلایا اور اس کی عبادت کو ترک کیا تو اس کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ وہ ان منکروں اور سرکشوں کو ہلاک کرکے روئے زمین کو ان کے وجود سے پاک کردے اس لیے اس نے آسمانی عذاب بھیج کر منکروں اور کافروں کو ہلاک کردیا۔

پھر اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ اس نے گزشتہ قوموں کے کافروں کو عذاب بھیج کر ان کو ہلاک کردیا تو اس نے سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بتایا کہ قیامت آنے والی ہے اور جب قیامت آئے گی تو اللہ تعالیٰ آپ کے مخالفوں اور منکروں سے انتقام لے گا اور آپ کو اور آپ کے متبعین کو ان کے صبر اور ان کی نیکیوں پر اجر وثواب عطا فرمائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا ہے تو اس کی حکمت کے یہ لائق نہیں کہ وہ آپ کا اور ان کا معاملہ یو نہی چھوڑدے پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو قوم کی زیادتیوں پر صبر کرنے کا حکم دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بدسلوکیوں پر آپ کو درگزر کرنے کا حکم دیا۔

بعض علماء نے کہا ہے کہ درگزر کرنے کا یہ حکم جہاد کی فرضیت کی آیات سے منسوخ ہوچکا ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ اس آیت میں آپ کا حسن اخلاق کے اظہار کا حکم دیا ہے یہ کیسے منسوخ ہوسکتا ہے جہاد کی آیات کا محمل یہ ہے کہ آپ ان کو دین اسلام قبول کرنے کی دعوت دیجئے وہ اگر اس دعوت کو قبول کرلیں تو فبہا ورنہ ان سے اللہ کا نام لے کر جہاد کیجئے اور درگزر کرنے کی آیات کا تعلق آپ کی ذات اور رنجی معاملات سے ہے یعنی اگر وہ آپ کے ساتھ زیادتی کے ساتھ پیش آئیں تو آپ عفو ودر گزر سے کام لیں ان آیتوں کی نظریہ آیتیں ہیں :

وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى ( النجم : ٣١) اور آسمانو اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ سب کچھ اللہ ہی کی ملکیت ہے تاکہ وہ برے کام کرنے والوں کا ان کے اعمال کی سزا دے اور نیک کام کرنے والوں کو اچھا اجر عطا فرمائے۔

وَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَاهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِيلا (١٠) وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلا ( المزمل : ١١) اور ان کافروں کی باتوں پر صبر کریں اور ان کو خوش اسلوبی کے ساتھ چھوڑدیں۔ اور ان جھٹلانے والے مالداروں کو مجھ پر چھوڑ دیں اور ان کو تھوڑی سی مہلت دے دیجئے۔

اس کے بعد فرمایا بیشک آپ کا رب ہی ( سب کو) پیدا کرنے والا ہے۔ ( سب کچھ) جاننے والا ہے یہ اس لیے فرمایا کہ جز اور سزادینے پر وہی قادر ہوسکتا ہے جس کو بندوں کے تمام اعمال کا علم ہو اور چونکہ وہ سب کو پیدا کرنے والا ہے اور سب کے تمام اعمال کو جاننے والا ہے اس لیے وہ سب کو ان کے اعمال کے مطابق جزا اور سزادینے پر قادر ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 15 الحجر آیت نمبر 85