أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يُنَزِّلُ الۡمَلٰۤئِكَةَ بِالرُّوۡحِ مِنۡ اَمۡرِهٖ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖۤ اَنۡ اَنۡذِرُوۡۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوۡنِ‏ ۞

ترجمہ:

وہی جبریل کو وحی کے ساتھ اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے نازل فرماتا ہے، کہ لوگوں کو اس سے ڈراؤ کہ میرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے سو تم مجھ سے ڈرو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہی جبریل کو وحی کے ساتھ اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے نازل فرماتا ہے، کہ لوگوں کو اس سے ڈراؤ کہ میرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے سو تم مجھ سے ڈرو۔ (النحل :2)

ملائکہ سے جبریل کا مراد ہونا :

اس آیت کا لفظی ترجمہ اس طرح ہے کہ اللہ ملائکہ کو روح کے ساتھ اپنے امر سے نازل فرماتا ہے۔

اب اس آیت میں ایک بحث یہ ہے کہ ملائکہ سے کیا مراد ہے اور دوسری بحث یہ ہے کہ روح سے کیا مراد ہے۔

امام عبدالرحمن جوزی متوفی 597 ھ لکھتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس آیت میں ملائکہ سے مراد حضرت جبریل ہیں۔ (زاد المسیر ج 4، ص 428، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت)

امام ابن جریر نے ملائکہ سے عام فرشتوں کا ارادہ کیا ہے، اور امام رازی نے حضرت ابن عباس کی مذکور الصدر روایت سے یہ استدلال کیا ہے کہ اس سے مراد جبریل ہیں، اب اگر اس پر یہ اعتراض کیا جائے کہ ملائکہ جمع ہے اور جبریل واحد ہیں تو واح پر جمع کے اطلاق کی کیا توجیہ ہے اس کا امام واحدی نے یہ جواب دیا ہے کہ جب واحد رئیس مقدم ہو تو اس پر جمع کا اطلاق جائز ہے، قرآن مجید اور کلام عرب میں اس کی بہت نظائر ہیں۔

روح میں متعدد اقوال :

اور روح کے متعلق حسب ذیل اقوال ہیں :

(١) ابن ای طلحہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے اس سے مراد وحی ہے۔

(٢) عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے اس سے مراد نبوت ہے۔

(٣) زجاج نے کہا جس چیز میں اللہ کا امر ہو وہ روح ہے۔

(٤) حسن اور قتادہ نے کہا اس سے مراد رحمت ہے۔

(٥) ابن زید نے کہا اس سے مراد قرآن ہے اور قرآن کور وح اس لیے فرمایا کہ جس طرح بدن روح سے زندہ ہوتا ہے اسی طرح دین قرآن سے زندہ ہوتا ہے۔ (زاد المسیر ج 4، ص 428، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، 1412 ھ)

روح سے وحی اور اللہ کے کلام کا مراد ہونا :

میں کہتا ہوں کہ اگر روح سے مراد وحی لی جائے تو اس میں یہ تمام اقوال جمع ہوجاتے ہیں کیونکہ نبوت بھی وحی سے ثابت ہوتی ہے، اور تمام اوامر اور احکام بھی وحی سے ثابت ہوتے ہیں اور اللہ کی رحمت کے حصول کا ذریعہ بھی وحی پر عمل کرنا ہے، اور قرآن عظیم بھی وحی سے حاصل ہوا اس لیے حضرت ابن عباس کے قول کے مطابق روح سے وحی کو مراد لینا سب سے جامع قول ہے اور قرآن عظیم کی حسب ذیل آیات میں روح کا اطلاق وحی پر کیا گیا ہے اور یہ مخفی نہ رہے کہ وحی کا معنی ہے اللہ کا کلام جو اس نے اپنے نبیوں اور رسولوں پر نازل فرمایا ہے :

وکذلک اوحینا الیک روحا من امرنا (الشوری : 52) اور اسی طرح ہم نے اپنے کلام کی آپ کی طرف وحی فرمائی اپنے حکم سے۔

یلقی الروح من امرہ علی من یشاء (المومن : 15) وہ اپنے حکم سے جس پر چاہتا ہے کلام القا فرماتا ہے۔

قرآن عظیم اور وحی کے ذریعہ معارف ربانیہ کامل ہوتے ہیں اور ان معارف سے عقل صاف اور روشن ہوتی ہے اور عقل سے روح کامل ہوتی ہے اور روح سے جسم کامل ہوتا ہے، اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اسلی اور حقیقی روحی اللہ کی وحی اور قرآن کریم ہے کیونکہ اسی کے ذریعہ انسان کو غفلت اور جہالت کی نیند سے بیداری حاصل ہوتی ہے اور اسی کی وجہ سے انسانیت حیوانیت کی پستی سے ملکوتیت کی بلندی کی طرف منتقل ہوتا ہے اس سے واضح ہوگیا کہ روح کا اطلاق وحی پر کرنا انتہائی مناسب اور مماثلت پر مبنی ہے اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ حضرت جبریل (علیہ السلام) جو حامل وحی ہیں ان پر بھی اللہ تعالیٰ نے روح کا اطلاق فرمایا ہے :

نزل بہ الروح الامین۔ علی قلبک۔ (الشعراء : 194 ۔ 193) اس قرآن کو جبریل نے آپ کے قلب پر نازل کیا۔

قوت نظریہ اور قوت عملیہ کا کمال : 

انسان کا کمال قوت نظریہ اور قوت عملیہ سے ہوتا ہے، قوت نظریہ کا کمال یہ ہے کہ اس کے عقائد صحیح ہوں، اور قوت عملیہ کا کمال یہ ہے اس کا ہر کام اللہ کی رضا کے لیے اور اس کے خوف کی وجہ سے ہو، اس لیے فرمایا کہ آپ لوگوں سے یہ کہیں کہ میرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں سو تم مجھ سے ڈرو، جب بندے یہ یقین رکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے تو ان کا عقیدہ اور ایمان صحیح ہوگا اور یہ ان کی قوت نظریہ کا کمال ہے اور جب وہ صرف اللہ سے ڈریں گے تو وہ برے کاموں اور گناہوں کو ترک کریں گے اور نیک کام کریں گے اور یہ ان کی قوت عملیہ کا کمال ہے۔ خلاصہ ی ہے ہ کہ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو انتہائی جامع پیغام پہنچانے کا حکم دیا ہے جس سے انسان کی قوت نظریہ اور قوت عملیہ دونوں کامل ہوجاتی ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 2