اعتکاف کی روحانی برکتیں اور لاک ڈاؤن

تحریر: مفتی عبدالمبین نعمانی قادری
رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ گزرنے والا ہے۔اس کے بعد تیسرا عشرہ  جو عشرہ اعتکاف کے نام سے بھی جانا جاتاہے،آنے والا ہے۔ اس عشرے میں ہمارے بہت سے خوش نصیب بھائی اعتکاف کی نیت سے اپنے کو اللہ کے گھر میں  قید کر لیتے ہیں۔ وہیں رہنا، وہیں سونا،وہیں کھانا،وہیں پینا اور ضروریات کے علا وہ سارا وقت اللہ کی عبادت میں گزارنا ان کا مقصود ہوتا ہے۔ اور ان سب میں ان کا مطلوب اللہ کی رضا و خوشنودی ہی ہوتی ہے۔
  افسوس ہے ان بستیوں پر  جہاں کوئی ایک فرد بھی اللہ کے لیے صرف دس روز کے اعتکاف کا وقت نہیں نکالتا۔ جس سے کہیے وہ یہی کہتا ہے ہمیں فرصت نہیں۔ہمیں بہت کام ہے۔ میں کسی طرح دس دن نہیں بیٹھ سکتا۔ جب کہ ہمارے یہاں اکثر گھر ایسے ہیںکہ ایک ہی نہیں کئی کئی آدمی گھریلو کام کے لیے موجو دہوتے ہیں، ان میں ایک آدمی اگر اللہ کے لیے مسجد میں بیٹھ رہے تو اس سے ان کے گھریلوکام میں کچھ فرق نہیں آئے گا اور ڈھیروں ثواب کے مستحق بھی ہوں گے۔ایک حدیث پاک میں آیا ہے کہ ـ’’جس نے رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا گویا اس نے تمام نیکیاں کیں ‘‘۔ (سنن ابن ماجہ،حدیث 1781)
  ایک دوسری روات میں آیا ہے’’جس نے رمضان میں دس دنوں کا اعتکاف کر لیا تو ایسا ہے جیسے دو حج اور دو عمرے کیے‘‘۔(شعب الایمان /جامع صغیر سیوطی،ص516،حدیث نمبر8479)
  حیرت ہے کہ جہاں ایک آدمی کو بھی اعتکاف کی فرصت نہیں ہوتی وہیں جب رمضان کا مہینہ گزرجاتا ہے اور خوشیوں بھری عید آتی ہے تواکثر  لوگ ہفتہ ہفتہ بھر کے لیے سیر و تفریح میں اور دوست احباب کی ملاقات کے لیے باآسانی نکل پڑتے ہیں۔اب نہ انھیں کوئی عذر ہوتا ہے اور نہ کوئی پریشانی لاحق ہوتی ہے۔دوست احباب سے ملنے کا اتنا شوق اور رب العالمین کی بارگاہ میں حاضری اور ا س کا قرب تلاش کرنے کے لیے ہی ہمارے یہاں ساری عدیم الفرصتی اور پریشانی آڑے آجاتی ہے۔
  اس سال (2020ء /1441ہجری)میں جب کہ کورونا وائرس (ایک مہلک بیماری)کی وجہ سے دنیا کے اکثر ممالک میں لاک ڈاؤن (تالابندی)کر دی گئی ہے۔ہمارا ہندوستان بھی اس میں پیچھے نہیں ہے۔ایسے وقت میں دیکھا جاتا ہے کہ اکثر افراد جو ڈیوٹی والے ہیں یا عام کاروباری لوگ یا تعلیمی اداروں سے جڑے افراد،پورے طور سے چھٹی منا رہے ہیں اور گھروں میں خالی بیٹھے ہیں، بہت کم ہی لوگ ہوں گے جو سبزی غلے یا میڈیکل سے متعلق ہیں وہی کچھ کام دھام  میں لگے ہوئے ہیں۔ورنہ اکثر لوگ فرصت ہی میں ہیں لہٰذا ایسے وقت تو کسی کو بہانا بنانے کی بھی گنجائش نہیں کہ ہمیں فرصت نہیں،لہٰذا ہماری مسجدیں اس سال تو اعتکاف کی روحانی برکتوں سے خالی نہ رہیں۔اور خدا کرے اس لاک ڈاؤن کی فرصت سے سبق لیتے ہوئے آئندہ بھی ہماری مسجدیں اعتکاف کرنے والوں سے خالی نہ رہنے پائیں۔ ہاں اس بات کا ضرور خیال رہے کہ مسجدوں میں زیادہ لوگوں کا جمع ہونا حکومت کی طرف سے سخت منع ہے، اس لیے ایک مسجد میں ایک سے زیادہ لوگ اعتکاف میں نہ بیٹھیں۔اسی میں ہماری سلامتی ہے اور عزت وآبروکی حفاظت بھی۔
  رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے، یعنی پوری آبادی میںکسی ایک مسلمان نے اعتکاف کر لیا تو سب لوگ بری الذمہ ہو جائیں گے اور اگر کسی نے نہ کیا تو سب سے مواخذہ ہوگا۔لہٰذا ایسی عظیم الشان عبادت کے لیے ہمارے اندر ذوق و شوق اور دینی جذبہ بیدار ہونا چاہیے۔بڑے خوش نصیب ہیں وہ علاقے جہاں کئی کئی افراد بیک وقت اعتکاف کی سعادت سے شادکام ہوتے ہیں۔اب ذیل میں اختصار کے ساتھ چند احتیاطیں اور اہم مسائل جو اعتکاف سے متعلق ہیں پیش کیے جاتے ہیں، انھیں بغور ملاحظہ کرکے عمل میں لایا جائے۔ 
  اعتکاف کرنے والا ایک ہو یا بہت سے ہوں ، ان کو چاہیے کہ مسجد میں اعتکاف کی حالت میں دنیاوی اور غیر ضروری باتوں سے پرہیز کریں۔ہنسی،ٹھٹھا،مذاق نہ کریں۔مسجد میں شور و غوغا بالکل نہ کریں۔گالی گلوج اور فحش کلامی سے بچنا تو بہت ضروری ہے کہ اس سے اعتکاف اور روزہ دونوں مکروہ ہو جاتے ہیں اور ایسا کرنا گنا ہ بھی ہے۔کھانے پینے میں زیادتی نہ ہو کہ پیٹ خراب ہوجائے اوردیگر پریشانیاں یا بیماریا ں قریب آئیں اور پھر عبادت وتلاوت میں بھی فرق آجائے۔اعتکاف میں کم  کھانے اور کم بولنے اور کم سونے پر بہ طور خاص عمل کریں کہ یہ حکمت و روحانیت کا سرچشمہ ہے۔مسائل دینیہ شرعیہ سیکھیںکہ یہ سب عبادتوں سے بڑھ کر عبادت ہے۔اس کے لیے علما سے رابطہ کریں اور ان سے استفادہ کریں۔خود علما بھی ایسے مواقع پر عوام الناس کو دین کی باتیں بتانے میں خاص دلچسپی لیں اور وقت دیں کہ یہ دونوں کے لیے باعث سعادت اور موجب اجر ہے۔اور پڑھے لکھے افراد دینی کتابوں سے استفادہ کریں،خاص طور سے بہار شریعت یا قانون شریعت کو ضرور اپنے مطالعے میں رکھیں۔موبائل سے بالکل اجتناب کریںکہ یہ دنیاوی روابط کو بڑھاوا دینے والا اور اعتکاف کے لیے بہت ہی مضر ہے۔سخت ضرورت پر کبھی استعمال کر لیا تو حرج نہیں۔وہ عالم اورمفتی حضرات  جو اکثر اوقات مسائل شرعیہ بتانے میں مشغول رہا کرتے ہیں وہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔
  دوست احباب کی بھیڑ جمع نہ ہونے دیں ،اور دوسرے لوگ بھی معتکف کے پاس غیر ضروری  وقت نہ گزاریں۔ کسی ضرورت سے جانا ہو تو ضرورت پوری کرکے فوراً ان سے جدا ہو جائیں۔ اسی میں دونوں کے لیے بھلائی ہے۔ معتکف علما ہوںتو علمی و دینی استفادے کے لیے ان کے پا س بیٹھنے میں حرج نہیں بلکہ بہت مفیداور باعث ثواب ہے۔
غیر معتکف حضرات سے چند گزارشات:
  معتکف ایک ہو یا متعدد، دیگر حضرات ان کی خدمت کو اپنی سعادت تصور کریں۔ان کی ضروریات کی حتی الوسع تکمیل میں کوشاں رہیں کہ یہ بھی بڑے ثواب کا کام ہے۔
   دوسرے اسلامی بھائی اور انتظامیہ مساجد کے افراد بھی ان معتکفین کی ضروریات اور سہولیات کا خاص خیال رکھیںکہ اعتکاف کی برکتوں سے انھیں بھی مالاہونے کا یہ ایک حسین موقع ملتا ہے جو سال بھر میں پھر کبھی ہاتھ آنے والا نہیں۔ قرآن پاک میں آیا ہے کہ  
  ترجمہ: نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مددکرو، گناہ اور سرکشی پر مدد نہ کرو۔(مائدہ ۵،آیت نمبر ۲)
  اعتکاف کرنے والو ں کو بھی چاہیے کہ اپنے مقصد پر ہر وقت نظر رکھیں اور سوچیں کہ وہ دنیا کو چھوڑکر دس روز کے لیے کیوں خانہ خدا میں گوشہ نشین ہو ئے ہیں۔ ان کے اندر بھی عملی اور روحانی انقلاب آنا چاہیے۔ اگر ان کے اندر کوئی بری عادت تھی تو وہ دور ہوجانی چاہیے،ورنہ گناہ تو ہر جگہ گناہ ہوتاہے۔ اللہ کے گھر میں گناہ کا مواخذہ اور بڑھ جاتا ہے۔کہیں ایسانہ ہو کہ آپ نیکی اور ثواب کمانے آئے تھے الٹے گناہ کا بوجھ سرپرلاد کر لے جائیں۔ 
   اللہ عزوجل ہمیں اعتکاف کے روحانی اور اسلامی پروگرام پر عمل کرنے اوراس کی برکتوں سے مالا مال ہو نے کی توفیق مرحمت فرمائے۔آمین