اعتکاف کے مسائل (برائے خواتین)

مسئلہ ۱:

عورت کومسجد میں اعتکاف مکروہ ہے، بلکہ وہ گھر میں ہی اعتکاف کرے مگر اس جگہ کرے جو اُس نے نماز پڑھنے کے لیے مقرر کر رکھی ہے جسے مسجدِ بیت کہتے ہیں اور عورت کے لیے یہ مستحب بھی ہے کہ گھر میں نماز پڑھنے کے لیے کوئی جگہ مقرر کر لے اور چاہیے کہ اس جگہ کو پاک صاف رکھے اور بہتر یہ کہ اس جگہ کو چبوترہ وغیرہ کی طرح بلند کرلے۔ بلکہ مرد کو بھی چاہیے کہ نوافل کے لیے گھر میں کوئی جگہ مقرر کر لے کہ نفل نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے۔

(“”الدرالمختار”” و “”ردالمحتار””، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۴۹۴)

مسئلہ ۲:

اگرعورت نے نماز کے لیے کوئی جگہ مقرر نہیں کر رکھی ہے تو گھر میں اعتکاف نہیں کر سکتی، البتہ اگر اس وقت یعنی جب کہ اعتکاف کا ارادہ کیا کسی جگہ کو نماز کے لیے خاص کر لیا تو اس جگہ اعتکاف کر سکتی ہے۔

(“”الدرالمختار”” و “”ردالمحتار””، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۴۹۴)

مسئلہ ۳:

عورت نے اعتکاف کی منت مانی تو شوہر منت پوری کرنے سے روک سکتا ہے اور اب بائن ہونے یا موتِ شوہر کے بعد منت پوری کرے۔ یوہیں لونڈی غلام کو ان کا مالک منع کر سکتا ہے، یہ آزاد ہونے کے بعد پوری کریں۔

(“”الفتاوی الھندیۃ””، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، ج۱، ص۲۱۱)

مسئلہ ۴:

شوہر نے عورت کو اعتکاف کی اجازت دے دی اب روکنا چاہے تو نہیں روک سکتا اور مولیٰ نے باندی غلام کو اجازت دیدی جب بھی روک سکتا ہے اگرچہ اب روکے گا تو گنہگار ہوگا۔

(“”الفتاوی الھندیۃ””، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، ج۱، ص۲۱۱)

مسئلہ ۵:

شوہر نے ایک مہینے کے اعتکاف کی اجازت دی اور عورت لگاتار پورے مہینے کا اعتکاف کرنا چاہتی ہے تو شوہر کو اختیار ہے کہ یہ حکم دے کہ تھوڑے تھوڑے کر کے ایک مہینہ پورا کر لے اور اگر کسی خاص مہینے کی اجازت دی ہے تو اب اختیار نہ رہا۔

(“”الفتاوی الھندیۃ””، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، ج۱، ص۲۱۱)