أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الَّذِيۡنَ تَتَوَفّٰٮهُمُ الۡمَلٰۤئِكَةُ ظَالِمِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ‌ۖ فَاَلۡقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَـعۡمَلُ مِنۡ سُوۡۤءٍؕ بَلٰٓى اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

(ان کا حال یہ ہے کہ) جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرتے ہیں تو اس وقت وہ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہوتے ہیں، اس وقت وہ اطاعت شعار بن جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کوئی برائی نہیں کرتے تھے، کیوں نہیں بیشک اللہ خوب جاننے والا ہے جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ان کا حال یہ ہے کہ) جب فرشتے ان کی روحیں قبض کرتے ہیں تو اس وقت وہ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہوتے ہیں اس وقت وہ اطاعت شعار بن جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کوئی برائی نہیں کرتے تھے، کیوں نہیں ! بیشک اللہ خوب جاننے والا ہے جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔ (النحل : ٢٨ )

اس جگہ دو قول ہیں، ایک قول یہ ہے کہ جب ان کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو وہ اسلام کو ظاہر کرتے ہیں، حضرت ابن عباس نے کہا جس وقت ان کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی عبودیت کا اقرار کرتے ہیں اور اسلام لے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے یعنی شرک نہیں کرتے تھے اور فرشتے ان کی تکذیب کرتے ہیں اور ان کے قول کو رد کرتے ہیں، کیوں نہیں بیشک اللہ تعالیٰ جانتا ہے تم جو کچھ شرک کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے دین کی تکذیب کرتے تھے۔

اور دوسرا قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن جو کچھ وہ کہیں گے اس کی حکایت کی ہے وہ اس دن شدت خوف کی وجہ سے اور قیامت کی ہولناکیوں کی وجہ سے جھوٹ بولیں گے اور کہیں گے کہ ہم شرک نہیں کرتے تھے اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن کوئی شخص جھوٹ نہیں بولے گا وہ کہتے ہیں کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ کہیں گے کہ ہم اپنے اعتقاد میں یا اپنے خیال میں کوئی برا کام یا شرک نہیں کرتے تھے، پھر اللہ تعالیٰ یا فرشتے ان کے قول کا رد کرتے ہوئے کہیں گے کہ اللہ خوب جاننے والا ہے کہ تم دنیا میں کیا کرتے تھے، لہذا یہ جھوٹ تمہیں کوئی نفع نہیں دے گا وہ تم کو تمہارے کفر اور شرک کی سزا دے گا پھر اللہ تعالیٰ نے صراحتا ان کے عذاب کا ذکر فرمایا :

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 28